جاتی امرا: شریف خاندان کا محل نما گھر ، مگر ہندی زبان سے لیے گئے لفظ جاتی امرا کا اصل مطلب کیا ہے ؟ یہ انکشاف آپ کو دنگ کر ڈالے گا

لاہور (ویب ڈیسک) بے شک ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف آئر لینڈ تک پاکستانی ایٹمی میزائل بارہ منٹ میں پہنچ سکتے ہیں لیکن ہم نے یہ میزائل ان ممالک کے لئے نہیں بنائے۔ ہماری دشمنی بھارت کے ساتھ ہے۔ اکھنڈ بھارت یعنی دھرتی ماتا کی فلاسفی سے ہے۔ ’’ہندوتوا‘‘ نے مجبور کیا تو بھٹو نے کہا

نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔’’گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے‘‘۔ نریندر مودی نے مجبور کیا تو عمران خان نے کہا ’’پاکستانی قوم کشمیر کے لئے ٹیپو سلطان کی طرح آخری سانس تک لڑتی رہے گی‘‘۔ ہم ہندو انتہا پسندوں کے توسیع پسند عزائم کے خلاف چار جنگیں لڑ چکے ہیں۔ ہم نے اپنے میزائلوں کے نام تک انہی مسلمان سپہ سالاروں کے نام پر رکھے جنہوں نے ہندوتوا کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ ہم نے ایک میزائل کا نام غوری رکھا تو دوسرے کا غزنوی، تیسرے کا ابدالی۔ یہ نام بھارتی میزائلوں کے ناموں کو سامنے رکھ کر رکھے گئے۔ غوری کا نام بھارت کے پرتھوی میزائل کے جواب میں رکھا گیا۔ محمد غوری بارہویں صدی کے ایک مسلمان سپہ سالار تھے جنہوں نے شمالی ہندوستان کے حکمران پرتھوی راج چوہان کے ساتھ دو جنگیں لڑی تھیں۔ محمود غزنوی گیارہویں صدی کے حکمراں تھے جنہوں نے ہندوستان کو فتح کیا تھا اسی طرح احمد شاہ ابدالی بھی اٹھارہویں صدی کے فاتح ہند تھے۔ ہم نے سرکاری طور پر کبھی ان ناموں کی وضاحت نہیں کی لیکن ان ناموں سے ہماری سوچوں کا کھل کر اظہار ہوتا ہے۔بھارت کے ساتھ کشیدگی ایک تاریخی تسلسل سے چلی آرہی ہے۔ کسی وقت بھی اس گرم آتش فشاں سے لاوے کا دریا ابل سکتا ہے اور پورا برصغیر بلکہ آدھی دنیا راکھ کے ڈھیر میں بدل سکتی ہے۔ مودی گجرات کی طرح کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کا پروگرام ترتیب دے چکا ہے۔ کسی نئے ہولو کاسٹ کاخطرہ ہے۔

سفارتی تعلقات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ فضائی حدود بند کی جانے والی ہے۔ کشمیری گوریلا وار شروع کر چکے ہیں۔ عمران خان نے پوری قوم سے کہا ہے کہ وہ ہر ہفتے کشمیر کے لئے کم از کم آدھا گھنٹہ ضرور احتجاج کرے۔ بھارت کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے پس منظر میں گزشتہ پاکستانی حکومتوں کی کارروائیاں واضح طور پر نظر آتی ہیں جنہوں نے دشمن کے ساتھ مل کر کاروبار کیا اور کشمیر کا جنازہ نکال دیا۔ ایک سابقہ وزیراعظم نے ہندو قصبہ کے نام پر اپنے محل کا نام رکھا اور ہم جیسے زہر کے گھونٹ پی کر خاموش ہو گئے۔ آج بھی شریف فیملی ’’جاتی امرا‘‘ کا نام بدل دے تو اس کے لئے بہتر ہے۔ پاکستان میں ہندوئوں اور انگریزوں کے نام پر جتنی جگہیں، جتنے شہر تھے ہم نے پاکستان بننے کے بعد انہیں تبدیل کر دیا، صرف اسپتال اور اسکول رہنے دئیے حتیٰ کہ لائل پور کا نام بھی فیصل آباد رکھ دیا۔ بھارت کے ساتھ موجودہ کشیدگی کے بعد شریف فیملی کو چاہئے کہ وہ سچ مچ ’’جاتی امرا‘‘ کا نام بدل دے۔ یہ ایک ہندو نام ہے۔ ہندو ازم کی یاد دلاتا ہے۔ اس کا لفظی مفہوم ہے امرا کی تبع میں چلنے والی جماعت۔ امرا قدیم زمانہ کا ایک مشہور سادھو تھا۔نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں کشمیر کی جنگ کبھی نہیں لڑی۔ ان پر ہر دور میں بھارت نوازی کا الزام آیا کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ کاروباری روابط بڑھانا چاہتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف نظریاتی طور پر اب ویسے

پاکستانی نہیں رہے جیسے بارہ اکتوبر 1999سے پہلے تھے۔ پرویز مشرف کے مارشل لا سے نکلنے والے عرصہ جلا وطنی ان کی سوچ میں کافی تبدیلیاں لائی ہے۔ ایسا سوچنے اور سمجھنے والے بہت سے لوگ ہیں۔ ایسے لوگ ثبوت کے طور پر ان کی چودہ اگست 2011ء کی وہ تقریر پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا ’’ہمارا ایک ہی کلچر ہے، ہماری ایک ہی ہیرٹیج ہے، ایک ہی معاشرے کے ہم لوگ تھے بس بیچ میں ایک بارڈر آگیا ہے۔ باقی تو ایک ہی سوسائٹی کے ہم ممبران ہیں۔ ہمارا ایک ہی بیک گرائونڈ ہے‘‘۔ کچھ ایسی باتیں نواز شریف نے مظفر آباد آزاد کشمیر میں بھی کی تھیں۔اپنی تقریر میں نواز شریف کہتے ہیں ’’ملٹری میں ہم کسی قسم کی ریس نہیں چاہتے۔ میرے نزدیک پاکستان اور ہندوستان کی یہ بدنصیبی رہی ہے کہ ہم دونوں اسلحہ کی ریس میں شامل رہے ہیں۔ ہندوستان اگر مگ 27کے پیچھے بھاگتا رہا ہے تو ہم ایف 16کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں۔ ہندوستان نے ٹینک خریدے تو ہم نے بھی لازم کر لیا کہ ہم نے بھی ٹینک خریدنے ہیں۔ ابھی امتیاز صاحب نے موٹروے کی بات کی ہے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ واہگہ سے آگے ہندوستان اس موٹروے کو بناتا اور یہی موٹروے کلکتہ تک جاتی۔ ہمارے ایٹمی دھماکے ہوئے۔ ویسے میں ہندوستان کا شکرگزار ہوں کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس کی نوبت اگر نہ آتی تو بہت اچھا ہوتا۔ جس کو آپ رب کہتے ہیں، ہم بھی اسی کو رب کہتے ہیں۔ جس کو آپ پوجتے ہیں ہم بھی اسی کو پوجتے ہیں۔ جناب دیکھئے! ایک طرف تو لاہور ڈکلیریشن ہو رہا ہے اور دوسری طرف کارگل کا ایڈونچر بلکہ مِس ایڈونچر کر کے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا‘‘۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف بھارت اور پاکستان کے درمیان اچھے مراسم چاہتے تھے۔ اس لئے کشمیر پر انہوں نے توجہ نہ دی، نریندر مودی سے دوستی بڑھاتے رہے۔ اب کشمیر کا مسئلہ جہاں پہنچ گیا ہے وہاں اسے نظر انداز کرنا نون لیگ کے لئے ممکن نہیں رہا۔ شہباز شریف نے مودی کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے۔ نون لیگ کا مجموعی طور پر موقف کشمیر پر وہی ہے جو حکومت کا ہے مگر اب بھی نون لیگ بھارت کے حلاف جارحانہ بات کرتے ہوئے لاشعوری طور پر خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ قومی اسمبلی میں جب عمران خان نے شہباز شریف سے کہا کہ بتائیے! آپ کیا چاہتے میں کشمیر کے لئے اور کیا کروں، کیا بھارت پر حملہ کردوں؟ تو شہباز شریف فوراً بولے ’’اپنے لفظ میرے منہ میں مت ڈالئے۔ میں قطعاً یہ نہیں کہہ رہا‘‘۔ شہباز شریف لیڈر ہوتے تو کہہ دیتے’’ہاں ہمیں مقبوضہ کشمیر کے محاذ پر حملہ کر دینا چاہئے‘‘۔(ش س م)