پیسے لے لو ، وزیر اعظم بھی بن جاؤ لیکن ۔۔۔۔ تحریک انصاف میں مائنس ون فارمولے کی تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور (ویب ڈیسک ) جہاں عمران خان کی حکومت کو کامیابی اور ناکامی کے ترازو میں ماپا جارہا ہے وہیں عمران خان کے بعد ویر اعظم کے لیے دوسرے آپشن کی خبریں بھی سر گرم عمل ہیں۔ نجی چینل کے ایک پروگرام میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مائنس ون میں شاہ محمود قریشی کے بعد

میاں محمد سومرو کا نام بھی زیر غور ہے۔تفصیلات کے مطابق سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ مائنس ون میں شاہ محمود قریشی کے بعد ایک اور انتہائی محترم شخصیت کا نام بھی زیر غور ہیں جو میاں محمد سومرو ہیں۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ میاں محمد سومرو کا نام اس لیے چل رہا ہے کیونکہ وہ سب کو قابلِ قبول ہیں۔ یاد رہے کہ میاں محمد سومرو نے 16 نومبر 2007ء کو پاکستان کے نگران وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ اس سے پہلے آپ چیئرمین سینیٹ پاکستان تھے۔ پیشے کے اعتبار سے بینکار رہے ہیں۔ بینکاری ہی کے دوران بعض اخبارات کے مطابق ان پر فراڈ کا الزام بھی لگا تھا۔ جناب کے پہلے اقدامات میں بلٹ پروف گاڑیوں کی ملک میں درآمد پر محصول کی چھوٹ کا اعلان ہے۔ اس سے قبل جب وہ قائم مقام صدر بنے تھے تو انہوں نے سینیٹ کے چیئرمین اور ان کے پورے خاندان کے لیے خصوصی مراعات منظور کی تھیں۔ جس میں تاحیات پروٹوکول اور ڈپلومیٹ پاسپورٹ شامل تھے۔ میاں محمد سومرونے 18 اگست 2008ء کو پاکستان کی قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ اور یہ تمام معاملات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل سینئر تجزیہ کار ڈاکٹرشاہد مسعود نے کہا دعویٰ کیا تھا کہ اپوزیشن رہنماء شاہ محمود قریشی کوبطور وزیراعظم پیسہ دینے کو تیار ہیں، اپوزیشن کے قید رہنماء عمران خان کو ہٹاناچاہتے ہیں،اور ان ہاؤس تبدیلی چاہتے ہیں،اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ شاہ محمود قریشی کو لے آئیں، پیسا بھی

دیں گے، قانون سازی میں تعاون بھی کریں گے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانافضل الرحمان کے مارچ میں مدارس کے طلباء باہر نکل آئیں اور صورتحال قابو سے باہر ہوجائے۔جو سیاست سے آؤٹ ہوگئے ہیں ،جیسے نوازشریف دوبارہ وزیراعظم بن رہے ہیں، ناہلیت ختم ہورہی ہے، تحریک کے بعد الیکشن کا اعلان ہوجائے گا ایسا کچھ بھی نہیں ہونے جا رہا، این آراو بھی نہیں ہونے جا رہا، پلی بارگین کا آپشن بھی موجود ہے، لیکن اپوزیشن رہنماء پلی بارگین کرنا چاہتے ہیں ، وہ کہتے کہ عمران خان کی جگہ کوئی اوربندہ لے آؤ، پیسا بھی دے دیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ دوسرا بندہ کون ہے؟ توکہتے شاہ محمود قریشی کا نام لیتے ہیں ، وہ ہمیں منظور ہیں۔شاہ محمود قریشی ایسا نہیں چاہتے لیکن اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں۔کیونکہ عمران خان کا جارحانہ انداز اپوزیشن کو منظور نہیں ہے۔اپوزیشن گرفتار رہنماء کہتے ہیں کہ عمران خان کو سائیڈلائن کردیں ، پیسے بھی دیں گے، تعاون بھی کریں گے۔اب اسلام آباد میں دھرنے سے متعلق پوری تیاری کی جارہی ہے۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ما تحت بطور وزیر خارجہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ میاں محمد سومرو وفاقی وزیر براۓ نجکاری کا قلم دان سنبھالے ہوۓ ہیں۔ ابھی تک اس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر نجکاری میاں محمد سومرو کا کوئی بھی رد عمل نہیں آیا ہے ۔ حال ہی میں وفاقی وزیر برائے نجکاری محمدسومرو نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ پیر کو ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیر نے پاکستان سٹیل ملز ، پی آئی اے اور دیگر قومی اداروں کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔محمد میاں سومرو نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری نہیں بحالی کریں گے اور اسکو خسارے سے نکال کر ایک منافع بخش ادارہ بنائیں گے۔ملاقات میں سندھ کی صورتحال ،کی-الیکٹرک اور اقتصادی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔