پاکستان میں پانامہ اسکینڈل کے 444 میں سے کل کتنے کیسز پر کارروائی ہوئی ، کن مقدمات پر مٹی ڈال دی گئی ؟ حیرت انگیز انکشافات

پانامہ لیکس کے 444 میں سے 150 کیسز کا کھوج نہیں لگایا جا سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف
اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں میں ایف بی آر حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے والے 444 میں سے 150 کیسز کا بالکل کھوج نہیں لگایا جا سکا جبکہ 242 کیسز زائد المیعاد ہو گئے، جس پر کمیٹی نے ایف بی آر پر شدید برہمی

کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور اور چیئرمین ایف بی آر کو طلب کر لیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کیسز ٹائم بارڈ آپ کی سستی اور نااہلی کی وجہ سے ہوئے ہیں ،آپ کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوششیں نظر نہیں آرہیں، جبکہ رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ کیا ابھی تک آپ نے اس حوالے سے کوئی قانون سازی کی؟ اس کا مطلب ہے کہ ایف بی آر نے این آر او کیا ہے ، اجلاس چیئرمین ملک محمد عامر ڈوگر کی صدارت میں ہوا ۔ وزارت مواصلات حکام نے بتایا کہ عبدالحکیم خانیوال موٹروے سیکشن کے لیئے موٹروے پولیس ہمارے پاس کم ہے ، اس کے افتتاح کی تاریخ موٹروے پولیس سے مشاورت کر کے دیں گے ، موٹروے کی تعمیر ہم 15 بیس دنوں میں مکمل ہو جائے گی، جب تک پولیس کی تعیناتی نہیں ہوتی ہم یہ نہیں چلا سکتے ،چیئرمین کمیٹی ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ایم فور موٹروے 2009 میں شروع ہوا لیکن ابھی تک مکمل نہیں ہوا، سائوتھ والے موٹروے بھاری قرضوں پر بنے ہیں ، ملتان سکھر کا ایک سیکشن مکمل ہے لیکن چل نہیں رہا ، جب موٹروے پر کام شروع ہوا تھا تو پولیس کی تعیناتی کے حوالے سے بھی اسی وقت کام شروع کیا جانا چاہیئے تھا، یہ کام پہلے کیوں نہیں ہوا ،کمیٹی نے معاملے پر آئندہ اجلاس میں موٹروے پولیس حکام کو طلب کرلیا،وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ایم ون اور ایم ٹو موٹر وے کی صفائی کا بڑا فرق ہے صفائی

پر توجہ دینی چاہیئے، ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا پانامہ لیکس میں 444 کیسز سامنے آئے تھے ان کے حوالے سے ہمیں تین قسم کی معلومات ملیں تھیں جس میں بندے کا نام ، کمپنی کا نام اور ملک کا نام شامل ہے ، یہ معلومات اتنی نہیں کہ ہم ان سارے بندوں تک پہنچ جاتے، کچھ لوگوں کا پتہ چل گیا، 150 کیسز کو ہم با لکل ٹریس نہیں کر سکے ،242 کیسز ٹائم بارڈ ہو گئے 2016 میں ہم ان کو نہیں کھول سکتے تھے ، کوئی کمپنی 1980 اور 1990 کی بنی ہوئی تھی جبکہ ہم صرف پانچ سال پیچھے جا سکتے ہیں ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 15 کیسز میں 14 ارب کی ڈیمانڈ ہے جس میں سے ساڑھے چھ ارب ریکور ہو چکے ہیں، اجلاس کے دوران وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کمیٹی میں متعلقہ وزراء کی عدم موجودگی پر برہم ہو گئے ، علی محمد خان نے کہا کہ وزراء اجلاس میں کیوں نہیں آئے ، وزراء کو یہاں موجود ہونا چاہئے تھا۔دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر نے ایوان کو بتایا کہ ایف بی آر نے بیرون ملک 96 ہزار پاکستانیوں کے اکائونٹس کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ یہ 96 ہزار اکائونٹس پانامہ لیکس کے علاوہ ہیں۔ گزشتہ حکومت نے پانامہ لیکس میں شامل 242 افراد کے خلاف جان بوجھ کر کارروائی شروع نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ان 242 افراد کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے۔مسلم لیگ نواز کے رکن محسن شاہ نواز رانجھا نے پو چھا کہ وزیر صاحب یہ بتائیں کہ علیمہ خان کی بیرون ملک جائداد کے حوالے سے کیا اقدامات کئے گئےوزیر مملکت نے جواب دیا کہ کوئی بھی خاتون ہو یا مجھ سمیت کوئی بھی شخص ہو، جس کا نام بھی آیا کارروائی ہو گی۔