بریکنگ نیوز: عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ ، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک اور بڑی خبر آگئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات کے لیے زور دیا ہے ۔نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے مطابق وائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم کو ٹیلی فون کیا اور بھارت سے مذاکرات پر زور دیا ۔اس سے قبل

شاہ محمود قریشی نے بتا یا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان مسئلہ کشمیر اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بات چیت ہوئی ۔دونوں رہنماوں کے درمیان 20منٹ تک بات چیت ہوئی تھی ۔اس موقع پر عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت کے غاصبانہ اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگا ہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ وائٹ ہاوس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی تفصیلات جاری کر دیں، دونوں رہنماوں کے درمیان جمعہ کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل رابطہ ہوا، اس دوران امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کرنے پر زور دیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدارتی محل وائٹ ہاوس کی جانب سے جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے درمیان ہونے والے رابطے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ ترجمان وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے درمیان کشمیر کے موجودہ حالات سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امریکی صدر نے اس موقع پر پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ واضح رہے کہ جمعہ کی شام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا اور اس دوران وزیراعظم عمران خان نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حکومت ، مودی سرکار کے کشمیریوں پر ظلم وستم کی جانب

توجہ دلائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، اس کا نوٹس لیں، سلامتی کونسل کے اجلاس سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکا سلامتی کونسل کا اہم ترین رکن ہے، اس لیے امریکا کشمیریوں کی قرارداد پر اپنا بھرپور کردار ادا کرے ، اور کشمیریوں کوان کا حق دلایا جائے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان اچھی گفتگو ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی سلامتی کونسل کا اجلاس شروع ہوجائے گا۔ وزیراعظم کی سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں چار سے رابطے ہوئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی یکے بعد دیگرے مختلف ممالک سے رابطے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے ٹرمپ سے بھی رابطے کیے ہیں۔ پاکستان نے خطے کے امن وامان کو لاحق خطرے اورتشویش سے آگاہ کیا ہے۔ پاکستان نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ سے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہے، پاکستان کل کی طرح آج بھی افغانستان میں امن عمل کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم نے جو کردارادا کیا ہے وہ خطے، پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ بہتری کے لئے کردارادا کیا ہے، خطے میں امن کیلئے ہم قدم اٹھاتے رہیں گے۔