بریکنگ نیوز : امریکہ اور طالبان کے درمیان دوستی ہو گئی ، مگر کن شرائط پر ۔۔۔۔؟ تازہ ترین خبر

دوحہ (ویب ڈیسک)طالبان کے مرکزی مذاکرات کار عباس ستانکزئی کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے۔دوحا میں مذاکرات کے بعد معاہدے کا حتمی مسودہ فائنل ہونا باقی ہے، جیسے ہی مسودہ فائنل ہوا، اسے میڈیا کے ساتھ شیئر کریں گے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے

درمیان جاری مذاکرات کا ساتواں دور ختم ہوگیا، اس موقع پر طالبان کے مرکزی مذاکرات کار عباس ستانکزئی نے صحافیوں سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ اب معاہدے کا حتمی مسودہ فائنل ہونا باقی ہے، جیسے ہی مسودہ فائنل ہوا، اسے میڈیا کے ساتھ شیئر کریں گے۔دوحہ مذاکرات پر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں 4 نکات پر پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب افغانستان امریکا کے لیے خطرہ نہیں رہے گا، تو ہم بطور ملٹری پوائنٹ آف ویو افغانستان چھوڑ دیں گے۔زلمے خلیل زاد نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے ساتھ مستقبل میں اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہم پْرامید ہیں اور اس بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہیں۔دوسری جانب جرمن اخبار فرانکرفٹر الگمائنے نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں جاری افغان مذاکرات کا مشکل ترین مرحلہ اب شروع ہوا ہے۔ بدھ کے روز اپنے اداریے میں کہا گیا ہے کہ قریب دو دہائیوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ان مذاکرات میں خاصی مثبت پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں۔ دوحہ میں مختلف افغان دھڑوں کی جانب سے ایک معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاہم اس معاہدے میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے الفاظ مبہم ہیں جب کہ امن کے لیے کوئی نظام الاوقات بھی طے نہیں کیے گئے۔ادھر برطانیہ کے خارجہ اوردولت مشترکہ آفس کے ترجمان نے لندن میں جاری بیان میں کہا کہ جرمنی اور قطر نے ان مذاکرات میں اہم کردار کیا جس میں طالبان کے ارکان اور افغان حکومت کے نمائندے شامل ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کے اختتام پر جاری اعلامیہ آئندہ امن مذاکرات کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ دوحا مذاکرات میں خواتین، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کے گروپوں کی شمولیت حوصلہ افزاءہے، افغانستان میں تشدد کو کم کرنے، شہریوں کو ہلاکتوں سے بچانے کے نتیجے میں افغانستان میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اب افغانستان میں امن کے لیے ’صحیح وقت‘ ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر طالبان کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مشورہ دیا۔کابل میں یورپی یونین انسداد دہشت گردی کانفرنس میں اشرف غنی نے کہا کہ حقیقت پر مبنی امن کے لیے گزشتہ 18 برس میں ٹھیک وقت نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو نقصان کی بڑی عائد ہوگی‘۔افغان صدر نے طالبان اور افغان حکومت کو دوطرفہ مذاکرات پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑنے والے ہیں۔(ش س م)