بریکنگ نیوز : پاکستانی تاجروں کے نمائندہ وفد کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بے نتیجہ نکلی ۔۔۔۔ کس نکتے پر حکومت اور تاجر اپنے اپنے موقف پر ڈٹ گئے ؟ ناقابل یقین خبر

کراچی(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان سے تاجروں کی ملاقات بے نتیجہ ختم ‘ عمران خان نے 50ہزارسے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے انکار کردیا‘کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاہے کہ حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیداکرنا چاہتی ہے‘معیشت پرانے طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی ‘تمام لوگوں کو

ٹیکس دینا ہوگا‘معیشت کی بحالی اور استحکام کے لیے تمام فریقین ہماراساتھ دیں‘مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے‘ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی تاجروں کو مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے سامنے کہہ رہا ہوں شناختی کارڈ شرط ختم نہیں ہوگی، تاجر صنعت کار شناختی کارڈ دینے سے کیوں گریز کررہے ہیں‘ ٹیکس سب کو دینا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ملاقات کے بعد صنعت کاروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات کو مایوس کن اوربے سود قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بات پر اتفاق نہیں ہوا، وزیر اعظم نے ہماری باتیں تحمل سے سنیں لیکن مسائل کے حل کے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، وزیر اعظم صنعتوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے احتساب کی باتیں کرتے رہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے‘پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی‘پہلے دن سے یہ لوگ مجھے بلیک میل کررہے ہیں ‘انہوں نے ایک دن بھی مجھے حکومت نہیں چلانے دی‘فضل الرحمان ملکی سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں، جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں بھی زرداری اور نوازشریف جیسے بیٹھے ہیں‘سندھ میں گورنر راج کا سوچا ہےنہ لگائیں گے ‘ زرداری نے بطور صدر دبئی کے 40 دورے کئے ‘وہ وہاںکیا کرنے جاتے تھے؟ نوازشریف نے لندن کے 20 نجی دورے کیے کیوں کہ ان کے محلات باہر ہیں‘سابق حکمراں ملک سے غداری کرتے رہے ہیں‘

یہ مجھ سے تین لفظ این ۔ آر۔ او سنناچاہتے ہیں جو میں نہیں دوں گا‘اس لئے انہیں حکومت گرانے کی جلدی ہے‘کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزادینا ضروری ہے‘کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا‘بزنس کمیونٹی سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے‘ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کا آدھا قرضوں کے سود پر ادا کیا، ملک میں 10سے 12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے ‘ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی‘ غیر ضروری درآمدات کم کر رہے ہیں‘ برآمدات 30فیصد بڑھ گئی ہیں‘ ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔بدھ کوگورنرہائوس کراچی میں تاجروں‘صنعتکاروں‘پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور بینکاروں کے وفود سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھومگر ایسا نہیں ہو سکتا‘یہ لوگ پہلے دن سے بلیک میل کر رہے ہیں‘ کرپٹ افراد میرے منہ سے 3 الفاظ سننا چاہتے ہیں این۔ آر۔ او‘لوگ جانتے ہیں میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے اس لئے لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں‘وزیراعظم نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں جتنی جلدی ہوحکومت گر جائے‘ پہلے دن سے یہ حکومت گرانے کا راگ الاپ رہے ہیں، انہوں نے پہلے دن مجھے تقریر نہیں کرنے دی اور ان لوگوں نے ایک دن بھی مجھے حکومت نہیں چلانے دی‘

یہ لوگ جمہوریت نہیں لوٹا ہوا مال بچانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، اب بھی اس لئے سب اکٹھے ہیں کیوں کہ یہ سب ڈرے ہوئے انہیں پتہ ہے ہمیں بیرون ملک سے انفارمیشن آ رہی ہے‘یہ ایک دوسرے کے بنائے گئے مقدمات بھگت رہے ہیں‘ قرضوں کی وجہ سے ملک مشکل حالات میں ہے‘تاجروں کی مدد کے بغیر ہم قرضوں سے جان نہیں چھڑوا سکتے‘ بزنس کمیونٹی سے مل کرمشکل حالات سے باہرنکلنا ہے‘ جب تک ملک اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا، ہم مزید قرضوں میں ڈوبتے چلے جائیں گے‘دنیا میں صنعتیں بڑھ رہی ہیں یہاں پیچھے جارہی ہیں‘عمران خان کا کہناتھاکہ ماہانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر پر آگیا ہے‘انہوں نے کہا کہ امریکا جا رہا ہوں‘پاکستانی سفارتخانے میں ٹھہروں گا‘ملک میں 10سے12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، چوری ،کرپشن، منی لانڈرنگ پرسزا نہیں دیں گے، تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں‘اگر کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں کریں گے تو یہ ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے، پہلے دن سے یہ لوگ بلیک میل کررہے ہیں، افراتفری مچارکھی ہے‘ شبر زیدی اور میں نے ذمہ داری اٹھائی ہے،ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے، ساڑھے 5 ہزار ارب روپے ٹیکس کا ہدف مل کر پورا کریں گے‘ ٹیکس نہ ملے اور نوٹ چھاپنے پڑے تو ملک ہائپر انفلیشن کا شکار ہوجاتا ہے ۔ دوست ممالک پیکج نہ دیتے تو ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہوتا۔ قبل ازیں عمران خان سے گورنرہاؤس کراچی میں ٹیکسٹائل، لیدر، ہوزری، ٹاول مینوفیکچرنگ‘تعمیرات، اسٹیل، سیمنٹ ‘ پینٹ انڈسٹری ‘ایگرو ، فوڈ، ماہی گیری، ادویات سیکٹرز‘ایف پی سی سی آئی‘کراچی چیمبراور آٹو موٹیو پارٹس ایسوسی ایشن کے وفودنے ملاقاتیں کیں ۔ اس موقع پرعمران خان نے قومی معیشت میں ٹیکسٹائل کے شعبہ کے کردار کو سراہتے ہوئے متعلقہ وزراءاور چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ٹیکسٹائل، لیدر، ہوزری اور ٹاول مینوفیکچرنگ کے شعبہ جات کے مسائل کو جلد حل کیا جائے‘وزیراعظم کا کہناتھاکہہماری اولین ترجیح ملک سے غربت کا خاتمہ اور معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنا ہے جس میں تاجروں کی مددچاہئے ‘میرے کراچی آنے کا مقصد یہی ہے کہ تاجروں کے مسائل حل کروں، میری پوری معاشی ٹیم یہاں موجود ہے تاکہ مسائل کا فوری حل نکالا جائے، کاروباری برادری پارٹنر بن کر حکومت کے ساتھ کام کرے۔معاشی عمل کو تیز کرنے کے لیئے تاجر اور صنعتکار حکومت کی مدد کریں۔(ش س م)