بریکنگ نیوز: مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو زرداری میں بڑا اختلاف ۔۔۔۔۔۔۔ عمران حکومت گرانے کی تحریک کو آغاز سے قبل ہی کم توڑ جھٹکا لگ گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے میاں شہباز شریف ، بلاول بھٹو زر داری ،مولانا فضل الرحمنٰ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں میں 24اور25 جون 2019ء کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

نامور صحافی محمد نواز رضا اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمنٰ ایک دو روز میں آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخوں کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیں گے اے پی سی دو روز تک جاری رہے گی۔ جس میں موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زداری نے مولانا فضل الرحمن سے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کو گرانا نہیں چاہتی پاکستان پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے تاہم حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے رابطہ عوام مہم شروع کرنے چاہیں۔ جب کہ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زداری کے نکتہ نظر سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے گا جسے سب کو قبول کرنا چاہیے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ آل پارٹی کانفرنس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو مدعو کیا جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر وہ حکومت گرانے کے لئے سڑکوں پر نکلنے کی کال دیں گے تو مسلم لیگ ن اس میں بھرپور حصہ لے گئی تاہم مسلم لیگ ن نے 24 اور 25جون 2019ء کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے لئے تاریخ پر پارٹی کی سطح پر مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا ہے۔ آج پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کی مجوزہ تورایخ کے بارے میں جواب دیا جائے گا۔(ش س م)