اوئے وڑائچ : تیریاں اندازیاں نے مینوں مروا دتا ۔۔۔۔۔ گورنر ہاؤس لاہور کی چھت پر کھڑے ہو کر سہیل وڑائچ نے آصف زرداری کے سامنے ایسی کیا پیشگوئی کی تھی جسکا پورا ہونے کی گواہی سابق صدر نے خود دی

لاہور (ویب ڈیسک) آصف علی زرداری عدالتی حکم پر ایک بار پھر جیل جا پہنچے ہیں جیل ان کے لئے نئی تو نہیں البتہ اس بار وہ 15 برس کی طویل آزادی گزار کر جیل گئے ہیں۔ اس 15 برس کے وقفے میں وہ پانچ برس صدر پاکستان بھی رہے، یوں شاید یہ پندرہ برس

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ بی بی سی کے لیے اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ان کی سیاسی زندگی میں آزادی کے وہ سال تھے جن میں انھوں نے بھرپور کوشش کہ وہ مقتدر قوتوں سے بنا کر رکھیں۔ انھوں نے اپنے سیاسی مخالفوں سے لڑائی بھی حد سے نہ بڑھائی۔ اس سارے عرصے میں وہ پر امن بقائے باہمی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور شاید اس سارے عمل میں کہیں نفسیاتی خوف بھی تھا کہ ان کی جماعت اور ان کے خاندان کو اب دوبارہ جیل نہ جانا پڑے اور نہ ہی مزید قربانیاں دینی پڑیں۔ مگر ہونی ہو کر رہتی ہے۔ ان کی سب تدبیریں ناکام رہیں اور ایک بار پھر سے وہ جیل میں ہیں۔ آصف زرداری بنیادی طور پر عملیت پسند ہیں۔ بطور صحافی گذشتہ 31 سال میں ان سے بالمشافہ ملاقاتوں، گفتگو اور انٹرویوز کا موقع ملتا رہا ہے۔ میرا مشاہدہ یہی ہے کہ اس تمام تر عملیت پسندی کے باوجود ان کے اندر کہیں مثالیت پسند جراثیم بھی موجود ہیں۔ ایک ملاقات میں مجھے ان کے والد حاکم علی زرداری نے اپنی پسندیدہ ترین شخصیت مولانا حسرت موہانی کو قرار دیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ انھوں نے حسرت موہانی کو نواب شاہ میں مدعو کیا تھا۔ حسرت موہانی مسلم لیگی تھے مگرانقلاب زندہ باد یعنی مکمل آزادی کا نعرہ لگانے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ جیل ان کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ جیل سے ان کے تعلق کے حوالے سے ان کا یہ شعر مشہور ہے: ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی ۔۔

اک طرفہ تماشا ہےحسرت کی طبیعت بھی۔۔صرف حاکم زرداری ہی نہیں، کسی زمانے میں سیاست کے اکثر مثالیت پسند جیل کو اپنا سسرال قرار دیا کرتے تھے جیل جانا بھی ایک رومانس تھا۔ ہتھکڑیاں بہادروں کا زیور کہلاتی تھیںآ جیل جانے والے اہل سیاست، وہاں کتابیں پڑھتے اور کتابیں لکھتے تھے جواہر لعل نہرو نے مشہور کتاب ’Glimpses of History‘ ہندوستان کی مختلف جیلوں میں قید رہ کر محض اپنی یاداشت پر لکھی۔ احراری عطاءاللہ شاہ بخاری اور قوم پرست مسلمان رہنما ابوالکلام آزاد بھی اس روایت کے امین رہے حالیہ سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں قید رہ کر ہی ’If I am assassinated‘ لکھی۔ اس زمانے میں جو اہل سیاست کتابیں نہیں لکھتے تھے وہ بہادری سے جیلیں کاٹتے تھے غفار خان ، ولی خان اور نوابزادہ نصراللہ خان جیل کی سختیوں پر بھی حرف شکایت تک زبان پر نہیں لاتے تھے۔ مکمل طور پر عملیت پسند آصف علی زرداری کے دماغ کے کسی کونے میں حاکم علی زرداری جیسا مثالیت پسند موجود ہے یہی وجہ ہے ان کی پسندیدہ شاعری آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی ہے۔ اسی طرح انھوں نے جیل اس بہادری سے کاٹی کہ نظریاتی مخالف مجید نظامی نے انھیں مرد حر کا خطاب دے دیا۔ وہ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ مرد کی یہ شان نہیں کہ وہ تکلیف میں اف تک کہے یہ بھی کئی بار کہا کہ الزامات کی وجہ سے میرے گناہ جھڑتے ہیں۔ یہ سب مذاحمتی سیاست دان جیسا نقطہ نظر ہے مگر زرداری سیاست عملیت پسندی کی کرتے ہیں۔

ہاں جب مشکل میں آتے ہیں تو کہیں چھپا ہوا مذاحمتی اندر سے سر نکال لیتا ہے۔ دوسری طرف ان کی سیاست مکمل طور پر عملیت پسندی کا شکار ہے۔ 64 سالہ آصف علی زرداری کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ سب سے بنا کر رکھیں۔ مجھے سنہ 2004 کی کراچی میں ان سے ہونے والی ملاقات نہیں بھولتی جب ان کی اور میری تحریری شرط لگ گئی۔ میرا موقف تھا کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پی پی پی اور اسٹیبلشمنٹ کا اکٹھے مل کر چلنا محال ہے کیونکہ دونوں کے فلسفے متضاد ہیں۔ زرداری بضد تھے کہ نہیں میں چھ ماہ میں پی پی پی کی حکومت آتے دیکھ رہا ہوں اور یہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلے گی۔ فوری طور پر تو زرداری صاحب یہ شرط ہار گئے مگر سنہ 2008 میں جب وہ صدر پاکستان بنے تو انھوں نے مقتدر قوتوں کے ساتھ چل کر نہ صرف دکھا دیا بلکہ اپنی شرط کو برابر کر لیا۔ سوائے میمو گیٹ کے وہ مقتدر قوتوں کے ساتھ ایک صفحے پر ہی رہے حد تو یہ تھی کہ زرداری کے ایوان صدر میں آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل پاشا کو ’مائی بیسٹ فرینڈ‘ کا باقائدہ خطاب دیا گیا تھا۔ زرداری صاحب کی عملیت پسندی نے انھیں آزادی کا 15 برس کا وقفہ تو دے دیا لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ یادوں کے ریلے میں مجھے آج سے 23 برس پہلے لاہور کے گورنر ہاؤس کے موسم سرما کی یاد بھی آرہی ہے۔ جب 4 نومبر 1996 کو آصف علی زرداری مجھے اور میرے دوست صحافی انجم رشید کو گورنر ہاؤس کی چھت کے کونے میں لے گئے اور پوچھا سیاست کیا کہتی ہے۔ میں نے کہا کل آپ کی حکومت جا رہی ہے، آپ گرفتار ہوں گے اور اس کی وجہ پتہ نہیں آپ کے اعمال یا کارکردگی ہو گی یا نہیں۔ اصل وجہ یہ ہوگی کہ تاثر یا یہ Perception ہے کہ آپ کی حکومت کرپٹ ہے۔ زرادری صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک گیا مگر دوسرے ہی لمحے عملیت پسند زرداری نے مسکراتے ہوئے میرے کندھے تھپتھپائے اور کہا لغاری ایسا نہیں کرے گا۔مگر ہونی ہو کر رہی تھوڑے عرصے بعد میری ان سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات ہوئی مجھے آتا دیکھ کر دور ہی سے زرداری صاحب نے زور سے پنجابی میں نعرہ لگایا ’او تیری پرسیپشناں نے مینوں مروا دتا۔‘سنہ 1996 سے 2004 تک وہ مسلسل جیل میں رہے اور رہا بھی تب ہوئے جب ان کے حق میں ہمدردی کی لہر بیدار ہو رہی تھی۔حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ سنہ 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہوئی تو آصف زرداری کو اندر کر دیا گیا اور وہ جیل سے تب باہر آئے جب صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑیں اور زرداری صاحب نے کیئر ٹیکر وزیر کے طور پر حلف اٹھایا۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی )