مہنگائی کون کر رہا ہے ؟ مہنگے داموں چیزیں بیچ کر عمران خان اور اسکے نئے پاکستان کو بدنام کون کر رہا ہے ؟ سچ بولنے کی پاداش میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے اہم عہدے سے مستعفی ہونے والے نامور صحافی کے پول کھول دینے والے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) رشوت،سفارش اور اقربا پروری اس برے طریقے سے ہمارے نظام کا حصہ بنی ہے کہ اس نے ہماری بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ہر کام میں سفارش، رشوت کے ساتھ ذاتی مفاد کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ آج ہم تنزلی کا شکار ہیں تو اسکی بڑی وجہ ہمارے اپنے کارنامے ہیں۔

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس طرز عمل سے ہمارے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ حکمرانوں نے ہر دور میں ذاتی مفادات کے حصول کے لیے اپنے پسندیدہ افراد کے سامنے سر جھکایا ہے۔ ملک کی تباہی میں عوام نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور حکمرانوں نے اپنے تئیں تباہی کی ہے۔ بہرحال اس بربادی کا بڑا ذمہ دار حکمران طبقہ ہے۔ کیا فارن کرنسی کو آزادی کسی عام آدمی نے دی تھی، کیا اپنی مارکیٹ کو ثانوی حیثیت کسی عام آدمی نے دی تھی، کیا ڈالر کی آزادانہ خرید و فروخت کے فیصلے عام آدمی نے کیے تھے، کیا یہاں سے پیسے کما کر باہر بھیجنے والے عام آدمی ہیں، کیا ایسے سرمایہ داروں کو قانون کے دائرے میں لانا یا تفتیش کا شفاف نظام قائم کرنا عام آدمی کی ذمہ داری ہے؟؟؟؟؟؟ اگر ذمہ داری عام آدمی کی نہیں تھی تو سزا عام آدمی کو کیوں مل رہی ہے، ڈالر کی خرید و فروخت عام آدمی نہیں کرتا، خزانہ ملک سے باہر عام آدمی نہیں بھیجتا تو وہ تکلیف کیوں برداشت کرتا ہے۔ میرے معصوم پاکستانیو، میرے عزیز پاکستانیو، یہ سب کام حکمرانوں کے کرنے کے تھے انہوں نے ذمہ داریوں کا احساس نہیں کیا نتیجتاً عوام ہر دور میں پستے رہے ہیں۔ آج ڈالر کی اڑان، اسکی آزادانہ خرید و فروخت اور سرکاری اداروں کی بے بسی لمحہ فکریہ ہے۔ یہ صورت حال تشویشناک ہے، یہ خطرے کی نشانی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے ہمیں کھوکھلا کیا ہے اور اب ہم مزید تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سرمایہ داروں، رشوت خوروں، لٹیروں اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچانے کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ آج ہم ماضی کے تلخ حقائق اپکے سامنے رکھیں گے تاکہ آپکو سمجھنے میں آسانی ہو کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے۔ ہمارے ایک عزیز ڈاکٹر مشتاق انیس سو باسٹھ تریسٹھ میں پی ایچ ڈی کرنے برطانیہ گئے۔ معمول کے طریقوں سے پاسپورٹ کے حصول میں ناکامی کے بعد انہوں نے پاسپورٹ بنانے کے لیے پہلے سفارش ڈھونڈی، پھر متعلقہ اہلکار کو چار سو روپے رشوت دی کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ سفارش اپنی جگہ اسکی وجہ سے کام میں آسانی تو ہو جائے گی لیکن بغیر پیسوں کے کام نہیں ہو گا۔ نذرانہ وصول کرنے کے بعد متعلقہ اہلکار نے انہیں کہا کہ فلاں دن صبح پونے آٹھ سے آٹھ کے درمیان دفتر آئیں فلاں میز پر آپکا پاسپورٹ پڑا ہو گا آئیں اور لے جائیں۔ یوں انہیں پہلا پاسپورٹ جاری ہوا، یہ قیام پاکستان کے پندرہ سولہ سال بعد کا واقعہ ہے، یہیں سے آپکو ملکی تاریخ میں رشوت کے نظام کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ آج رشوت سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں اور اربوں میں پہنچ چکی ہے۔ہم لٹ چکے ہیں لیکن یہ مکروہ عمل پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب انیس سو پچھتر میں دوبارہ کسی کام سے برطانیہ گئے انہوں نے کرنسی تبدیل کروانا تھی۔ سٹیٹ بینک آئے، لائن میں لگے متعلقہ افسر کو تمام کاغذات دکھائے، سوال و جواب کا سیشن ہوا، حکام مطمئن ہوئے تو انہیں مطلوبہ رقم جاری کر دی گئی۔ کیا آج بھی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے اتنی سختی ہے، اگر نہیں ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے،

اگر یہ سختی برقرار نہیں رہی تو اسکا نقصان کسے ہوا ہے، اس معاملے میں نرمی کا فائدہ کس کو ہوا ہے، آج ڈالر خریدنے والے کیا حکومت کے قابو میں ہیں، خزانہ باہر بھیجنے والوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول ہے، غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت میں نرمی کس کے دور میں ہوئی، اس سے فائدہ کس نے اٹھایا یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ کیوں مختلف حکومتوں نے، حکمرانوں نے رشوت کو عام کیا ہے، کیوں سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، کیوں عام آدمی ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا، کیوں ہر قانون میں مل مالکان کو فائدہ پہنچایا جاتا رہا، کیوں عوام کا خون چوسنے والوں کو ہر دور میں کھلی چھٹی دی جاتی رہی، کیوں ہر دور کا حکمران مافیا کے سامنے محکوم رہا، یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔ آج قرضوں میں جکڑا ہر پاکستانی ان سوالات کا جواب ڈھونڈ رہا ہے۔ آج پاکستان سوال کرتا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے، آج پاکستان سوال کرتا ہے کہ کوئی حکومت ہے؟؟؟ وہ جو نام نہاد عوامی سیاست کے دعویدار ہیں انہوں نے ڈالر کو اڑانا شروع کیا۔ ڈالر اڑتے اڑتے آسمان پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستانی حسرت بھری نگاہوں سے اس کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھ کر آہیں بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آج ہر پاکستانی سوال کر رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس ضمن میں کیا اقدامات کیے ہیں۔ کیوں ہمیں بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے، ہم کس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، آج ہر پاکستانی یہ پوچھ رہا ہے کہ

آسمان سے باتیں کرتا ڈالر نیچے کیسے آئے گا، مہنگائی کے طوفان پر قابو کیسے پایا جایا گا۔ اشیاء خوردونوش کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس کیسے آئیں گی، گھروں کا خرچہ کیسے چلے گا، پانی بجلی اور گیس کے بل کیسے جمع کروائے جائیں گے، بچوں کے سکولوں کی فیسیں کیسے ادا ہونگی، یہ سب سوالات ملک کے چیف ایگزیکٹو سے ہو رہے ہیں، گلیوں چوراہوں میں، مسجدوں مزاروں میں، ہسپتالوں اور کلینکس پر، پارکس اور سینما گھروں میں ہر طرف یہی بحث ہے۔ لوگ جب بات کرتے ہیں تو انہیں ڈٹے رہنے اور نہ گھبرانے کا پیغام ملتا ہے، ان حالات میں عوام نہ گھبرائے تو کیا کرے، کیا میرا حاکم یہ نہیں جانتا کہ لوگ خود کشیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیا میرا حاکم یہ نہیں جانتا کہ ملک میں کم سے کم ساڑھے سولہ ہزار تنخواہ مقرر ہے پھر بھی ساڑھے اڑتیس فیصد لوگ بیروزگار ہیں، کیا میرا حاکم یہ نہیں جانتا کہ ساڑھے سولہ ہزار والوں کو بھی تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں، کیا میرا حاکم یہ نہیں جانتا کہ جب وہ مختلف ایجنٹوں کو ڈالر کی قیمت نہ بڑھانے کی درخواست کر رہے ہوتے ہیں اس وقت تک سٹیٹ بینک کے اعلی حکام چھ سات فیصد تک روپے کی قیمت گرا چکے ہوتے ہیں، کیا میرا حاکم یہ نہیں جانتا کہ عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ فیئر پرائس شاپس پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر حکومت کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے

عوام کے لیے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ اشرافیہ کے ڈالر کے کھیل میں عوام روپے سے بھی محروم ہوتی جا رہی ہے، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ چینی کا مصنوعی بحران پیدا کر کے اسکی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ آٹے کا بحران بھی آنے کو ہے، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ انتظامیہ اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ ریاست کے ملازم عوام کے لیے مشکلات اور سرمایہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ حکومتی وزرائمیں بڑے سٹوروں پر جانے کی ہمت نہیں اور چھوٹے دکانداروں کے لیے ان کے دل میں رحم نہیں، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ عام پاکستانی کے پاس سحر و افطار کا سامان نہیں، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ عام پاکستانی کے پاس عید کی خریداری کے لیے رقم نہیں، کیا میرا حاکم نہیں جانتا کہ عوام کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے؟؟؟؟؟ آج پاکستانی سوال کرتا ہے کہ میرا حاکم کب اپنے چندہ دینے والوں کے چنگل سے باہر نکلے گا، آج ہر پاکستانی یہ سوال کر رہا ہے کہ میرا حاکم کب آزادانہ فیصلے کرے گا، کب تصویر کا دوسرا رخ دیکھے گا، کب عام پاکستانی کے مسائل کے لیے اقدامات کرے گا۔ آج ہر مجبور، محکوم، بے بس، مظلوم اور حالات کے جبر کا شکار ہر پاکستانی اپنے حاکم کی طرف دیکھ رہا ہے لیکن کیا انکا حاکم بھی انہیں دیکھ رہا ہے یا پھر انکا حاکم صرف اپنے چندہ دینے والوں کو دیکھ اور سن رہا ہے؟؟؟(ش س م)