مخالفین کی سازش کام کر گئی ، عمران حکومت نے دباؤ میں آکر گھٹنے ٹیک دیے ؟ نواز شریف کی رہائی کے حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) ایک وقت تھا جب جمہوری نظام میں سرمایہ دار طبقے کی شمولیت کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ستر کی دہائی میں جائیں تو انڈیا میں اندراگاندھی کے پہلے انتخاب میں کانگریس پارٹی کا سارا زور یہ ثابت کرنے پر تھا کہ جنتا پارٹی کو ووٹ نہ دیں کیونکہ ہندوستان کا سرمایہ دار طبقہ

نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس کی پشت پر ہے یعنی یہ وہ دور تھا جب سرمایہ داروں نے اقتدار کا براہ راست مزہ نہیں چکھا تھا۔ اس کے بعد وقت بدلتا گیا۔ خصوصاً پاکستان میں ایک وقت آیا کہ حکومت اور جمہوریت پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ہو گیا۔ گزشتہ 70 سال میں آزادی کے ثمرات عام آدمی تک اس لئے نہیں پہنچ سکے کہ ملک میں پے در پے ایسے لوگ اقتدار میں آ گئے جو عوام کے حقیقی نمائندہ نہیں تھے اس کی سماجی معاشی اور عسکری وجوہات بھی تھیں لیکن بنیادی طور پر سیاست اور جمہوریت میں وسیع سرمایہ کاری نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یہ ایک طویل اور لاحاصل بحث ہے جس سے درگزر کر کے ہم حالاتِ حاضرہ کی بات کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے جیل میں میاں نوازشریف سے ملاقات کی ہے اس ملاقات میں ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی کے امکانات پیدا کر دیئے ہیں جس میں اس بات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے کہ وہ برسراقتدار آ کر آئین میں موجود شق 62 اور 63کو ختم کر دیں گے جس کے بعد میاں نوازشریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی جا سکے گی۔ اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو بھی ہو گا کیونکہ آصف زرداری کے خلاف جو مقدمات زیرسماعت ہیں اس میں ان پر فردجرم یقینی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی افسوس اور پچھتاوے کا اظہار کیا کہ پرویز مشرف کے بعد کے 10 سال یعنی دونوں پارٹیوں نے 5،5 سالہ اپنے ادوارِ حکومت

میں احتساب بیورو کو ختم کیوں نہ کر دیا تاکہ نہ ہوتا بانس اور نہ بجتی بانسری۔ یہ دونوں جماعتیں جب اقتدار سے بے دخل ہوتی ہیں تو اکٹھی ہو جاتی ہیں یہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ میاں نوازشریف نے جیل میں علاج کروانے سے انکار کر دیا ہے اور حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کو کچھ ہوا تو پرچہ عمران خان پر کاٹا جائے گا ۔ یہ ایک نفسیاتی دباؤ کا حربہ ہے جس کے سامنے تحریک انصاف گھٹنے ٹیکتی نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف نے اس بنا پر الیکشن جیتا تھا کہ وہ ملک کا مال مسروقہ برآمد کریں گے اور اس کی برآمدگی کا راستہ یہی تھا کہ کسی نہ کسی طرح Recovery کی جاتی۔ لیکن یہ اب خاصا مشکل نظر آتا ہے میاں نوازشریف اور آصف زرداری کے بعد چوہدری برادران کے خلاف بھی چونکہ کیس کھلنے جا رہے ہیں لہٰذا وہ حکومت میں ہونے کے باوجود اس معاملے میں عمران خان کا ساتھ نہیں دے رہے اور معتبر ذرائع کہتے ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین اور ن لیگ کے درمیان ایک خفیہ ڈیل ہو چکی ہے اور کسی بھی اہم موڑ پر ق لیگ حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے۔ فیصلہ ہو چکا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تحریکِ انصاف پنجاب پر حکمرانی جاری نہیں رکھ سکے گی جس کے اثرات وفاقی سطح پر بھی ہوں گے۔تحریک انصاف اپوزیشن کے سامنے ڈٹ جانے سے گریز کر رہی ہے

حالانکہ ان کی الیکشن مہم اس نعرے کے بل بوتے پر تھی کہ دو نہیں ایک پاکستان۔ عمران خان کہتے تھے اس ملک میں غریب کیلئے قانون اور ہے اور امیر اور طاقتور کیلئے اور قانون ہے۔ لگ رہا ہے کہ حکومت کو میاں نوازشریف کو پیرول پر رہا کرنے کے سوا چارہ نہیں ہوگا اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو آنے والے وقت میں اس قانون کا اطلاق آصف زرداری، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی اور باقی سب پر بھی ہو گا اور یوں احتساب کا عمل رول بیک ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات بھی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس سال نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے اور وزیراعظم عمران خان نے نئے آرمی چیف کا تقرر کرنا ہے۔ فوج بطور ایک قومی ادارے کے اپنی پالیسیوں پر گامزن رہتی ہے لیکن چیف کی تبدیلی پھر بھی اپنی جگہ ایک مسلمہ اہمیت کی حامل ہے۔ وزیراعظم اگر چاہیں تو جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کر سکتے ہیں لیکن فوج کے اندر اس جرنیل کو پسند کیا جاتا ہے جو توسیع لینے سے انکار کر دے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو سیاست اور جمہوریت کا اصل مسئلہ سرمایہ کاری نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی تو امریکہ کا بہت بڑا بزنس مین ہے مگر وہاں تو منی لانڈرنگ نہیں ہوتی ہماری روایات اور حکمرانی میں بنیادی نقائص کی وجہ سے قومی ادارے ٹھیک سے کام نہیں کرتے عدلیہ انتظامیہ بیوروکریسی اور سسٹم کے اندر پائے جانے والے آئینی چیک اینڈ بیلنس جب فیل ہو جاتے ہیں تو پھر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ Psychopathy ایک ذہنی بیماری ہے جس میں انسان کا دماغ درست سمت میں کام نہیں کرتا اس مرض کے مریض اپنے گھر میں ایسے ایسے آرٹیکل یا اشیاء جمع کر کے اچھے گھر کو کباڑخانے کی طرح ایسی ایسی چیزوں سے بھر دیتے ہیں جن کی ان کو قطعی طور پر ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اس بیماری کی ایک شاخ کو قدیم یونانی ماہرین نے Kleptocracy کا نام دیا ہے اس میں مبتلا Psychopathic حکمرانوں کے اندر دولت جمع کرنے کا جنون ہوتا ہے جو اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے لئے اتنی زیادہ دولت اکٹھی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس کی انہیں ضرورت ہی نہیں ہوتی جو ان کی آنے والی نسل کی ضرورت سے بھی زیادہ ہوتی ہے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کاضرورت مند طبقہ اپنی بنیادی ضرورت سے محروم رہتا ہے اور یہ بیمار حکمران اس دولت سے معاشرے میں دیگر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جیسے پیسے سے ووٹ خریدنا انصاف خریدنا وفاداری خریدنا وغیرہ وغیرہ۔ جس کے نتیجہ میں معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہی کے دھانے پر پہنچ جاتا ہے اور دوسری قومیں اور دشمن ریاست پر غالب آ جاتے ہیں۔اب حالاتِ حاضرہ پر واپس آتے ہیں اگر تحریک انصاف کی حکومت دو نہیں ایک پاکستان کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی تو یہ دوسری بار منتخب ہونا تو کیا سیاسی افق سے غائب ہو جائیں گے اور اقتدار ان سے چھن کر status Quo! کو واپس مل جائے گا یا پھر غیر جمہوری تجربات کاعمل جاری رہے گا۔ نہ سمجھو گے تو مٹ جائے گے۔۔۔ فوج میں قیاس آرائی یا افواہ کو لنگر پ کہا جاتا ہے۔ اور آج کی لنگر گپ یہ ہے کہ کرکٹ کی لاہور قلندر PSL سے آؤٹ ہے مگر سیاسی لاہور قلندر کو گیم سے نکالنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔(ش س م)