Categories
دلچسپ اور حیران کن معلومات

اس تصویر میں ایک بہت بڑا راز چھپا ہے ، بھلا کیا ؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

لندن (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔سائنسدانوں نے پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو چاند پر انسان کے طویل مدتی قیام کو ممکن بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔تحقیق کاروں نے سنہ 1969 اور 1972 کے اپالو مشنز کے دوران جمع کیے گئے

مٹی کے نمونوں کو پودے اگانے کے لیے استعمال کیا۔تحقیق کاروں کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھوں نے دیکھا کہ چاند کی مٹی میں بیچ صرف دو دن میں ہی پھوٹ پڑے۔فلوریڈا یونیورسٹی کی پروفیسر اور چاند کی مٹی میں پودے اگانے سے متعلق مقالے کی شریک مصنف اینا لیزا پال نے کہا کہ ’میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ ہم کتنے حیران تھے۔ ہر پودا۔۔۔ چاہے چاند کے نمونے میں ہو یا کنٹرول میں تقریباً چھ دن تک ایک جیسا نظر آتا تھا۔‘اس کے بعد اس میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ چاند کی مٹی میں اُگنے والے پودے تناؤ کا شکار نظر آئے اور پھر آہستہ آہستہ ان کی نشوونما رک گئی لیکن تحقیق میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑی پیشرفت ہے اور اسکے زمینی مضمرات ہیں۔ناسا کے سربراہ بل نیلسن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق چاند اور مریخ پر انسانی مشنز کے لیے اہم ہے۔اس تحقیق سے چاند اور مریخ پر پائے جانے والے وسائل کو ترقی دے کر سائنسدانوں کے لیے خوراک پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘پودوں کی نشوونما کی یہ بنیادی تحقیق اس بات کے حوالے سے بھی ایک اہم ہے کہ ناسا کے زرعی شعبے میں اختراعات سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زمین پر خوراک کی کمی والے علاقوں میں پودوں کی نشوونما میں سامنے آنے والے مسائل پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔محققین کے لیے ایک مشکل یہ ہے ان کے پاس تجربہ کرنے کے لیے چاند کی اتنی زیادہ مٹی نہیں۔ ناسا کے خلا باز سنہ 1969 سے تین سال کے عرصے میں چاند کی سطح سے 382 کلوگرام چاند کی چٹانیں، بنیادی نمونے، کنکریاں، ریت اور مٹی واپس لائے۔فلوریڈا یونیورسٹی کی ٹیم کو نمونوں سے تجربے کے لیے فی پودا صرف 1 گرام مٹی دی گئی، جسے کئی دہائیوں سے بند رکھا گیا۔ناسا نے سنہ 1972 کے بعد پہلی بار سنہ 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان مرد بنو اور یہ کام کرو ، ہم آپ کو سچا تسلیم کر لیں گے ۔۔۔۔ حامد میر کا کپتان کو چیلنج

لاہور (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان فرح گوگی کی حمایت کرنے کی بجائے اس کیخلاف آزاد انکوائری کی با ت کیوں نہیں کررہے، عمران خان کی نیوٹرل سے مراد پاکستان آرمی ہے، عمران خان چاہتے ہیں کہ فوج انہیں دوبارہ

وزیراعظم کی کرسی پر بٹھادے، عمران خان کوآؤٹ آف دا وے سپورٹ کیا گیا. میڈیا سے کہا گیا کہ عمران خان حکومت کے پہلے چھ مہینے مثبت رپورٹنگ کریں، عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے چلنے نہیں دیا تو بتائیں ان کے کہنے پر آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو کیسے تبدیل کردیا گیا، عمران خان مرد بنیں اور ان میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے نام لیں اور ثبوت دیں جنہوں نے بقول ان کے پیسے کھائے یا غیرملکی سازش میں شریک ہیں۔حامد میر نے کہا کہ عمران خان کو شروع میں ہی عثمان بزدار کو ہٹانے کیلئے کہہ دیا گیا تھا، عثمان بزدار کو نکالنے کی بات پر عمران خان نے عون چوہدری جیسے قریبی لوگوں کو حلقہ احباب سے نکال دیا، عون چوہدری نے جب عمران خان کو بتایا کہ حکومت عثمان بزدار نہیں فرح خان اور اس کا شوہر چلارہے ہیں تو انہوں نے پہلے عون کو مرکز اور پھر پنجاب سے نکال دیا. عمران خان کی ابھی پارٹی شروع نہیں ہوئی اسی لئے فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں، عمران خان یا ان کے کسی وزیر کیخلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، عمران خان جس عدلیہ پر الزامات لگارہے ہیں اسی سے ریلیف بھی لے رہے ہیں۔حامد میر نے بتایا کہ شہباز شریف پر پارٹی کے اندر سے الیکشن کیلئے شدید دباؤ ہے، پیپلز پارٹی کہتی ہے ن لیگ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ حکومت انتخابی اصلاحات اور معیشت بہتر بنانے کے بعد انتخابات کرائے گی، الیکشن کا فیصلہ صرف ن لیگ نہیں پوری مخلوط حکومت کو کرنا ہے۔

Categories
پاکستان

سیالکوٹ جلسہ ہو گا یا نہیں ؟ عمران خان نے حتمی اعلان کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی شک و شبہے میں نہ رہیں، میں آج سیالکوٹ جا رہا ہوں۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ جلسے سے متعلق سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ’امپورٹڈ حکومت نے

سیالکوٹ میں ہماری قیادت اور ورکرز کے ساتھ جو کیاوہ اشتعال انگیز ہے، مجرموں کا یہ ٹولہ ضمانت پر ہے۔‘چیئرمین عمران خان نے مزید کہا ہے کہ ’ لندن میں بیٹھے مجرم نے ہمیشہ مخالفین کے خلاف فاشسٹ ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا پی ٹی آئی کے سیالکوٹ جلسے پر کہنا تھا کہ پورے سیالکوٹ میں چرچ کے علاوہ اور کہیں جگہ نہیں ملی۔انہوں نے کہا ہے کہ اپنی بے مقصد سیاست اور فتنے بازی کہیں اور جا کر کرو، پورے سیالکوٹ میں چرچ کے علاوہ اور کہیں جگہ نہیں ملی ؟

Categories
پاکستان

ایان علی کیس کا تفتیشی انسپکٹر سلیم زندہ نکلا ۔۔۔تہلکہ خیز حقیقت سامنے آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ڈالرز کی غیر قانونی نقل و حمل کے کیس سے شہرت حاصل کرنے والی معروف ماڈل اور گلوکارہ ایان علی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے میں اپنا تذکرہ کیے جانے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ

مجھ پر جھوٹا الزام لگائے بغیر آپ کی تقریر اور خبر نہیں بنتی۔پی ٹی آئی کے جلسے میں ایان علی کا نام لیے جانے پر معروف ماڈل سے منسوب ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی جانے والی سلسلہ وار ٹوئٹس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپ نے ایک 20 سالہ لڑکی پر بہتان باندھ کر اپنی رکیک سیاست کی۔انہوں نے لکھا کہ میں نے آپ کو توجہ یا جواب کے قابل نہ سمجھا، مگر آپ اپنی حرکتیں بدلنے کو تیار نہیں تو آپ کو جواب دوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے کیس میں تفتیشی افسر ایک انسپکٹر سلیم تھے،جو آج بھی زندہ ہیں اور اپنے ڈیپارٹمنٹ سے انعام لے رہے ہیں، مجھ پر جھوٹے کیس ڈالنے کے ہر عدالتی دستاویز پر اُن کا نام ہے۔انہوں نے کہا ’ان سمیت ہر شخص جس کا نام عدالتی دستاویز میں ہے وہ زندہ ہے، آپ شاید کسی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے اس لیے الف لیلا کی کہانیاں سناتے ہیں، جن کی موت ہوئی ان کا نام انسپکٹر اعجاز تھا (اللہ مغفرت کرے) دور دور تک میرے کیس سے تعلق نہ تھا، یہ ہائی کورٹ میں ثابت ہوا‘۔ایان علی نے مزید لکھا کہ مجھے سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے آزاد کیا، جانتے ہیں اس بینچ میں کون تھا؟ جسٹس ثاقب نثار اور شیخ عظمت سعید، جن کی آپ تک نے تعریف کی‘۔ایان علی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ تک سے میرے بری ہونے کے بعد اگر آپ کے شکی دماغ میں خلل تھا تو اپنے 4 سالہ منحوس دور میں دوبارہ تحقیقات یا اپیل کرتے۔

Categories
انٹرٹینمنٹ

فرق صاف ظاہر ہے : امریکہ میں گوگل پر سب سے زیادہ یونیورسٹیاں جبکہ پاکستان میں کیا سرچ کیا جاتا ہے ؟ جان کر آپ کو حیرانگی ہو گی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان کے شہری دیگر ممالک کے برعکس گوگل پر سب سے زیادہ ڈرامے سرچ کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں یونیورسٹیز کو سرچ کیا جاتا ہے، گوگل پر ہر روز اور ہر وقت کوئی نہ کوئی شخص کچھ نہ کچھ سرچ کر رہا ہوتا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر

سیکنڈ میں اوسطاً 63 ہزار، ہر منٹ میں 28لاکھ، ہر گھنٹے میں 22کروڑ 80 لاکھ، ہر دن میں 5ارب 60کروڑ سے زائد بار اور سال بھر میں 2 ہزار ارب سے زائد بار گوگل پر کچھ نہ کچھ سرچ کیا جاتا ہے جس میں سے 16سے 20 فیصد سرچز ایسی ہوتی ہیں، جنہیں پہلے کبھی سرچ نہیں کیا گیا ہوتا ہے ، گوگل کے آٹو سجیسٹ انجن کے ذریعے ایک بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے شہری دیگر ممالک کے برعکس سب سے زیادہ ڈرامے سرچ کرتے ہیں، اسکے علاوہ بھارتی شہری گوگل پر سب سے زیادہ فلموں اور خوراکوں کی تلاش دیگر ممالک کے برعکس زیادہ کرتے ہیں جبکہ افغانستان میں لڑائی پر مبنی فلمیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں

Categories
منتخب کالم

پی ڈی ایم کی ڈانواں ڈول حکومت پر جنوبی کوریا مہربان ۔۔۔۔؟؟؟ حیران کن اطلاعات سامنے آگئیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر مجاہد منصوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔موجود مختصرمدتی پی ڈی ایم حکومت شبہات اور یقین میں تبدیل ہوتے جن سنگین الزامات میں قائم ہوئی اتنی ہی یہ کنفیوژڈ، پریشان اور بوکھلائی معلوم دے رہی ہے۔ درجن جماعتی اتحاد ی حکومت کی اب تک کی

مجموعی حکومتی شخصیت تو یہ ہی بنی ہے لیکن سراپا ایسا ہی نہیں، مدت سے قومی سیاست سے دور ہوئی سندھ کے دیہات میں سمٹ جانے والی پیپلز پارٹی پھر سےاپنا وفاقی رنگ دکھانے لگی ہے، بلکہ بعد از بھٹو امریکہ سے اس کی دوستی جو بھٹو دور میں نئی بنتی عالمی و داخلی سیاست میں دب کر رہ گئی اور کچھ بے نظیر دور میں بحال ہوئی تھی۔ لگتا ہے پھر سے عود کرآئی ہے۔ بلاول پر نظر امریکہ اور جواں سال بلاول کے وزیر خارجہ بننے پر اور کچھ اس سے بھی پہلے ان کو واشنگٹن کے بلاوے معنی خیز ثابت ہوئے، جس پر آصف زرداری شاد ہیں، اتنے کے کل تو انہوں نے مدتوں بعد پریس کانفرنس کرکے پورے پی ڈی ایم خصوصاً ن لیگ، اپوزیشن اور دوسرے پاور کوریڈورز پر واضح کرنے کی اپنے تئیں کھلی کھلی اور بے تکلفانہ انداز میں ببانگ دہل کوشش کی کہ بائیڈن تو میرا یار ہے اور امریکہ مہربان۔ کسی شرارتی یا تیار رپورٹر نے زرداری صاحب سے امریکہ سے کوئی 2ملین ڈالر کا ’’انعام و اکرام ملنے کا سوال جو پوچھا تو جواب آیا، امریکہ تو خود یوکرین وار میں پھنسا ہوا ہے، ہاں جنوبی کوریا سے وفاق کی کوئی پیکیج ڈیل ہوئی ہے جس میں سے سندھ میں صحت عامہ کی حالت بہتر بنانے کے لیے دو ترقیاتی پروجیکٹس کا حصہ صوبے کے لیے منوا لیا ہے۔ کیسی خبر ہے؟ کہ ابھی کسی وفاقی ذریعے سے اس کی بھنک بھی نہیں پڑی کہ اتنے بڑے معاشی اور آئینی بحران میں ایک عبوری سی اور عمران جیسے مقبول ہوتے لیڈر سے عوامی زور پر چیلنج ہوئی

پی ڈی ایم کی لڑکھڑاتی حکومت پر جنوبی کوریا حکومت کتنی مہربان ہوئی ہے۔ امید ہے وفاقی حکومت بھی جلد اس کی تفصیلات سے عوام اور دوسری صوبائی حکومتوں کو آگاہ کرے گی کہ آخر مشرقی ایشیا کے لڑائی کے ماحول سے ہمارے دوست کوریا نے اس برے وقت میں جو حق دوستی ادا کیا ہے اس کی جملہ تفصیلات کیا ہیں؟ یا کسی اور نوع کے قرض میں جکڑنے کا تو کوئی اہتمام نہیں ہونے لگا ؟پی پی کو تو وفاق میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سیاسی زندگی بخشنے والی جو نوازش بلاول کو وزارت خارجہ ملنے سے حاصل ہوئی ہے اس پر بابائے اسٹیٹس کو کے منہ سے نکلا تو ہوگا کہ اندھے کو کیا چاہیے؟ دو آنکھیں، کہ بلاول کی حکومتی سیاست کا آغاز وفاقی اور خارجی و سفارتی سیاست سے ہو رہا ہے، وگرنہ پی ڈی ایم نہ بنتی تو پی پی توابھی دیہی سیاست کے کنویں میں ہی بند رہتی اور تو اور پی پی سازی کےتاریخی قلعہ لاہور میںزرداری کی جماعت مدتوں کی پارلیمانی محرومی کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے لیے ہی داخل نہیں ہوئی، خیر سے آئندہ الیکشن میں ن لیگ کا تحریک عدم اتحاد کے ڈیزائنر زرداری سے پی پی کے حق میں قومی اسمبلی کی 20 اور 40 صوبائی نشستوں سے دستبردار ہونے کا بڑا انعام بھی طے پا گیا ہے۔ کتنی زر آور سیاست ہے زرداری کی۔ مقابل پی ڈی ایم سیٹ اپ میںبھی وفاق میں شہبازی حکومت جم رہی ہے نہ پنجاب میں حمزہ کی۔ کہاں بلاول کا حکومتی سیاست کا ثمر آور آغاز اور کہاں حمزہ شہباز کا جس کا مطلوب درجے پر شروع ہونا بھی محال ہوگیا ہے۔

ایک میڈیا ٹاک میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے درست کہا کہ ’’عمران نے نوجوانوں کو گمرا ہ کردیا ‘‘ ایسے میں وہ داخلی امن و استحکام کی طرف کیسے متوجہ ہوسکتے ہیں؟ رانا صاحب بے خبر ہیں یا اس کڑوے سچ کو ہوا نہیں دینا چاہتے کہ عمران حکومت کے اکھڑتے ہی خان کو اتنا بڑا ووٹ بینک گھر بیٹھے اس وقت مل گیا جب ان کی تنہائی کا احساس انہیں مایوسی کی اتھاہ گہرائی میں دھکا دینے کو تھا۔اس سے اندازہ لگا لیں کہ خان اعظم کو حکومت گنوا کر کتنا کچھ مل گیا، اتنا کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اور اتنا کہ زرداری کے لیے بھی چیلنج بن گیاکہ اب خان اعظم ڈرا رہا ہے کہ ’’اب میں سندھ میں بھی آ رہا ہوں، محروم دیہاتیوں کو چور سیاست دانوں کےاستحصال سے آزاد کرانا ہے‘‘۔ دیکھنا یہ ہے کہ خان صاحب جھولی میں آن گرے اتنے بڑے ووٹ بینک سے مطلوب ، مستحکم اور قیادت سے متوازن جماعت بھی نکال پاتے ہیں یا نہیں۔ انہیں جلد سے جلد قوم کے لیے ایک قابل عمل و فہم و پروپیپل انتخابی پروگرام چاک آئوٹ کرنا ہے کہ نہیں معلوم ان کے بڑھتے دبائو کی کامیابی میں کس وقت الیکشن کا اعلان ہو جائے لیکن زرداری اور سنگین مقدمات کا ریکارڈ اسٹاف مینج کئے اور اپنے خلاف جملہ اقسام کے سوراخوں کو بند کئے بغیر انتخاب پر انحصار کرنا اپنی جگہ ایک بڑا خطرہ لینے کےمترادف ہے۔ جبکہ اشیائے خورو نوش کی بے قابو مہنگائی تو حکومت بنتے ہی جڑوں میں بیٹھ گئی۔پھر بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ کا ہوّا بھی تو ن لیگ کے سر پر

سوار ہوگیا ہے جو خان کا بہت جاندار ووٹ ہے جو بڑی تیاری و تنظیم سے وطن میں اپنا ووٹ استعمال کرنے کے لیے عملاً کوشاں۔ پی پی بڑی ہوشیاری سے اس کی مخالفت سے بچ رہی ہے اور ن لیگ اس مخالفت میں دھنس رہی ہے کیونکہ اوورسیز ووٹرز کی بڑے فیصد میں تعداد پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتی ہے۔ جبکہ پی پی، پاکستان تحریک انصاف جیسی نئی سب سے بڑی وفاقی قوت کے مقابل ن لیگ کی بجائے کم از کم خود دوسری بڑی وفاقی پارلیمانی کا روڈ میپ رکھتی ہے۔گزشتہ روز پی پی کے منجھے رہنما سابق گورنر لطیف کھوسہ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں اوورسیز پاکستانیوں کا حق ووٹ محفوظ رہنے کی مکمل تائید کی جبکہ ن لیگی رہنما ابھی کھلے تو نہیں لیکن ان میں سمندر پار پاکستانیوں کے انتخابی حق رائے دہی کو ختم کرانے پر صلاح مشورے ہو رہے ہیں کہ موجوہ حالات میں دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی بطور ووٹر حیثیت ختم کرنے کو قابل عمل تجویز بنانا سیاسی اعتبارسے ان کے لیے مزید خسارے کا باعث تو نہیں بنے گا اور معاشی بحران کا طوق تو مکمل ہی ن لیگ کے گلے میں پڑ گیا ہے جبکہ عرب شاہی دوستیاں بدل بھی چکیں اور وہ کوئی بڑی مہربانی کرتے نظر نہیں آرہیں۔ گیمک اکانومی کے ماہر اسحاق ڈار اب بھی واپس آنے سے گریزاں ہیں اور مفتاح اسماعیل کے انہیں آن لائن شیئر دینے پر آمادہ نہ ہونے کی خبریں بھی آئی ہیں۔ وزیر اعظم کی قیادت میں بااعتماد وزرا یا ادھوری کابینہ کی لندن یاترا میں اصلی رہبر رہنماسے مشاورت کےلیے انوکھا دورہ ن لیگ کے خساروں میں گھرے ہونے کی تصدیق کرگیا۔ دیکھئے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔

Categories
پاکستان

(ن) لیگ نے گیم ڈال دی : اگلے 48 گھنٹوں میں کیا ہونیوالا ہے ؟ اہم خبر آگئی

لندن (ویب ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران نے چار سالہ دور اقتدار میں بدعنوانی کی محفل کی صدارت کی۔لندن میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اڑتالیس گھنٹوں میں معیشت سے متعلق بڑا فیصلہ آئے گا وزیراعظم تمام اسٹیک ہولڈرز اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے چار سالہ دور اقتدار میں بدعنوانی کی محفل کی صدارت کی اور پاکستان کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا جسے اتحادی جماعتوں کے اتفاق رائے سے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ایم ایل این رہنماء کا کہنا تھا کہ موجودہ غیر مستحکم صورتحال میں استحکام لانے کی کوشش میں معیشت سے متعلق اہم فیصلے کا اعلان کرنے سے قبل اہم اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 48 گھنٹوں میں اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔لندن میں تیسرے اور آخری اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ خان اور ملک احمد خان نے شرکت کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ اجلاس میں پوری توجہ معیشت پر مرکوز تھی جیسا کہ عمران خان نے ریاستی سرپرستی میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔خواجہ آصف نے قبل از وقت انتخابات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مخلوط حکومت پر قبل از وقت انتخابات کے لیے کوئی دباؤ نہیں۔ ہم عمران خان کی طرف سے پیدا کی گئی تباہی اور زہر کو روکنے کے لیے مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے کنفیوژن ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام حتمی خود مختار ہیں۔ ہم اگلے 48 گھنٹوں میں اپنا کیس پاکستانی عوام کے سامنے رکھیں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان پاک فوج کے خلاف نفرت پر اکسانے میں ملوث تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان “وہی ہاتھ کاٹتے ہیں جو انہیں کھلاتا ہے۔ اس کی کسی سے وفا کی کوئی تاریخ نہیں ہے، وہ صرف اپنے آپ سے پیار کرتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ وفادار نہیں رہا۔اب وہ انہی لوگوں پر دھاوا بول رہا ہے جنہوں نے اس کی حکومت کے دوران اس کی سرپرستی اور مدد کی۔ عمران خان صرف اپنے آپ سے پیار کرتے ہیں اور وہ اپنی خواہشات اور خواہشات کے غلام ہیں۔وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان، خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا ’’غیر ملکی سازش‘‘ کا بیانیہ جھوٹا ہے اور پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ عمران خان جو کہہ رہے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں۔

Categories
پاکستان

جو اب نیوٹرل ہیں وہ دراصل کب نیوٹرل ہوئے ؟ شیریں مزاری نے ایک اور ہی قصہ چھیڑ دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب کوئی دیکھے کہ ملک تباہی کی جانب جارہا ہے، ملک کے خلاف بیرونی سازش ہو رہی ہے تو کیا کوئی نیوٹرل رہ سکتا ہے، سب کو پتا ہے کہ نیوٹرل بیرونی

سازش کے دوران نیوٹرل نہیں تھے.نیوٹرلز کو بھی پتا چل گیا ہے کہ انہوں نے امریکا کی رجیم چینج کی سازش کامیاب کرا کر کتنی بڑی غلطی کی ہے‘ہماری حکومت کے خلاف سیاست کا نہیں بیرونی سازش کا معاملہ تھا‘ امپورٹڈ حکومت کے آنے کے بعد معیشت تباہ ہوگئی‘ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر گرتے جا رہے ہیں. ڈالر کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے‘فروغ نسیم نے سب سے ذیادہ ہمیں خراب کیا‘ چیف الیکشن کمشنر (ن) لیگ کا حصہ بن چکے،فوری مستعفی ہونا چاہیے ،وارننگز سے مرعوب ہونے والے نہیں، بیس لاکھ لوگ اسلام آباد آئیں گے ۔جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں مزید بڑھنے جارہی ہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے اس امپوٹڈ حکومکت کو کہہ دیا ہے کہ جب تک فیول کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی اس وقت تک قرض نہیں دیا جائیگا۔ روس سے سرطان کے مریضوں کیلئے آنے والی سستی دواؤں کی درآمد بھی امریکی دباؤ کے باعث بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔

Categories
پاکستان

ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ کیا ؟ مفتاح اسماعیل نے نیا شوشا چھوڑ دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ڈالر کی پرواز اور مہنگائی میں اضافہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے اور پھر اس کی خلاف ورزی کے اثرات ہیں، عمران خان نے جو معاہدے کئے ان کے چنگل اور دلدل سے نکلیں گے تو ڈالر نیچے آئے گا.

چار سال کی لوٹ مار، نالائقی، نااہلی، کارٹلز کی حکمرانی کی وجہ سے مہنگائی آسمان پر پہنچ گئی‘ عمران خان نے ساڑھے تین سال میں 20 ہزار ارب روپے قرضہ لیا ہے ، اس قرضہ کی وجہ سے پاکستان کی حکومت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئی‘ پٹرول پر سبسڈی نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو شدید مالی دباؤ سے دوچار کیا . زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ صورتحال خطرناک ہے‘عمران خان جواب دیں کہ 115 سے ڈالر 189 پر کیوں لے کر گئے؟ عمران خان کو ملک و قوم کے خلاف اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا ‘عمران خان معیشت کو جس نہج پر چھوڑ کر گئے ہیں اسے واپس لانا آسان کام نہیں لیکن انشاءاللہ تعالیٰ ہم اسے واپس ضرور لے کر آئیں گے‘ ان شاءاللہ ہم اس دلدل سے نکلیں گے اور سٹاک ایکسچینج پھر اوپر جائے گی۔جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت خرید اور پاکستان میں قیمت فروخت کے درمیان فرق سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے .اس مہینے تقریبا ً120 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ تھا جو سویلین حکومت چلانے کے خرچ سے تین گنا زیادہ ہے ، اتنا بڑا خسارہ کوئی بھی حکومت برداشت نہیں کرسکتی ، اسی وجہ سے تمام مارکیٹوں میں ہلچل ہوئی اور مہنگائی پھیل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس پیسے نہ ہوں اور وہ پھر بھی سبسڈی دے تو مزید قرض لینا پڑتا ہے، اس وجہ سے شرح سود میں اضافہ کے ساتھ روپے پر دباؤ بڑھ رہا ہے، عمران خان نے تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا ، 71 سال میں پاکستان نے جتنا مجموعی قرضہ لیا، عمران خان نے ساڑھے 3 سال میں اس کا 80 فیصد قرضہ لیا .عمران خان 10.4 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئے ہیں ، زرمبادلہ کے یہ ذخائر صرف 45 دن کی امپورٹس کے مساوی ہیں ، زرمبادلہ کے ذخائر کی یہ صورتحال خطرناک ہے، کم از کم دو گنا ہونے چاہئیں ، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال نے پاکستان کے معاشی دباؤ کو بڑھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے کئے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کی جسے ہمیں دوبارہ بحال کرنا پڑا ، عمران خان نے چین سعودی عرب سمیت تمام ممالک سے پاکستان کے تعلقات میں مسائل پیدا کئے جن پر اب ہم نے قابو پالیا ہے ، شہباز شریف کے آنے کے بعد ڈالر نیچے آیا تھا ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج کو شہباز شریف پر اعتماد تھا، اسی لئے 1700 پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا ، نوازشریف دور میں ہم ترقی کی شرح 6.1 فیصد اور مہنگائی کم ترین 3.4 فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے۔

Categories
انٹرٹینمنٹ

شادی کے 16 سال مکمل : کرکٹر محمد حفیظ نے کس بات پر اہلیہ کا شکریہ ادا کر ڈالا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) قومی کرکٹر محمد حفیظ نے سوشل میڈیا پر اہلیہ کا محبت دینے اور خیال رکھنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔محمد حفیظ کی شادی کو 16 سال مکمل ہو گئے ہیں، اس موقع پر محمد حفیظ نے اہلیہ کے ہمراہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خوبصورت تصویر شیئر کی ہے۔

اس تصویر کے کیپشن میں محمد حفیظ کا اہلیہ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھنا ہے کہ ’شادی کی 16ویں سالگرہ مبارک ہو۔‘انہوں نے اہلیہ کا اِن 16 برسوں کے دوران محبت دینے اور خیال رکھنے پر شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 41 سالہ کرکٹر محمد حفیظ 2007ء میں اہلیہ نازیہ حفیظ کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔

Categories
کھیل

مداح افسردہ : باکسر عامر خان نے رنگ کو الوداع کہہ دیا

لندن (ویب ڈیسک) پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں باکسر عامر خان نے ریٹائرمنٹ کا اعلان اس طرح کیا کہ اب میرا گلوز اتارنے کا وقت آگیا ہے۔عامر خان نے کہا کہ مجھے اپنے 27 سالہ باکسنگ کیرئیر پر

فخر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے مداحوں، دوستوں اور فیملی کا شکر گزار ہوں۔واضح رہے کہ باکسر عامر خان نے اپنے باکسنگ کیرئیر میں 34 فائٹس جیتیں جبکہ 6 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

Categories
کھیل

چیئرمین پی سی بی کے طور پر رمیز راجہ نے 6 ماہ میں کتنا پیسہ خرچ کیا ؟ اعداد وشمار سامنے آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجا کے 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل سامنے آگئی۔پی سی بی نے اپنے چیئرمین کے 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل ویب سائٹ پر جاری کردی ہے۔دستاویزات کے مطابق رمیز راجا نے 6 ماہ میں 39 لاکھ 17 ہزار روپے کی رقم خرچ کی،

انہوں نے صرف وہیکل الاؤنس کی مد میں 5 لاکھ 77 ہزار روپے سے زائد رقم خرچ کی۔رمیز راجا نے 6 ماہ کے دوران موبائل، حفاظتی اقدامات اور میڈیکل کی مد میں 4 لاکھ 15 ہزار روپے لیے گئے۔دستاویزات کے مطابق اندرون ملک سفر پر 26 لاکھ 78 ہزار 985 روپے اور غیر ملکی دوروں پر 2 لاکھ 39 ہزار روپے سے زائد خرچ ہوئے۔پی سی بی حکام کے مطابق اخراجات کی تفصیلات جاری کرنا یا نہ کرنا چیئرمین رمیز راجا کا استحقاق ہے۔رمیز راجا کے اخراجات اپ ڈیٹ نہ کرنے پر گزشتہ روز میڈیا پر خبر چلی تھی، جس کے 24 گھنٹے بعد پی سی بی نے اخراجات کی تفصیل جاری کردی۔

Categories
پاکستان

عامر لیاقت کی ویڈیوز میں نے نہیں بنائیں بلکہ ۔۔۔دانیہ ملک کا تہلکہ خیز انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) ٹک ٹاکر دانیہ ملک نے شوہر، عامر لیاقت حسین پر نئے الزامات لگائے ہیں۔عامر لیاقت حسین کی تیسری اہلیہ، دانیہ ملک آج کل متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میڈیا چینلز کو انٹرویو دے رہی ہیں، ہر انٹرویو کے دوران دانیہ ملک نئے انکشافات کر رہی ہیں۔حال ہی میں دیئے گئے

ایک نئے انٹرویو میں دانیہ ملک نے انکشاف کیا ہے کہ اُن کے شوہر، عامر لیاقت حسین اُن کی غیر موجودگی میں کسی اور کو بلاتے تھے۔دانیہ ملک کا کہنا ہے کہ ’عامر لیاقت مجھے کبھی کبھی شاپنگ کے لیے بھیج دیتے تھے، مارکیٹ بھیج کر کہتے تھے کہ جب تک میں نہ کال کر کے گھر آنے کا نہ کہوں باہر ہی رہنا، اس دوران اُنہیں جس کی ضرورت ہوتی تھی اُسے گھر بلاتے لیا کرتے تھے، عامر لیاقت کہتے تھے کہ اگر شاپنگ سے گھر جَلدی بھی آنا پڑ جائے تو مجھے آدھا گھنٹہ قبل بتا دینا اور پھر گھر آنا۔‘دانیہ شاہ کا مزید کہنا ہے کہ لیک ویڈیو میں نے نہیں بنائی اور نہ ہی میرے پاس ویڈیو ثبوت ہیں، میرے پاس عامر لیاقت کی جتنی ویڈیوز ہیں وہ سب مجھے دوسروں کی جانب سے موصول ہوئی ہیں۔میزبان کے پوچھنے پر دانیہ شاہ نے کہا کہ لیک ویڈیو میں نے نہیں بنائی، اُس کمرے میں موجود کوئی تیسرا بنا رہا ہے۔

Categories
پاکستان

پاکستان میں شدید ترین گرمی : اس بار موسم سرما کے بعد اچانک گرمیاں کیسے آگئیں ؟ محکمہ موسمیات نے وضاحت کردی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان جو اپریل کے آغاز سے بلند درجہ حرارت کی زد میں ہے، آج اس کے مختلف حصے ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہے۔خبر ایجنسی کے مطابق جیکب آباد میں گزشتہ روز درجہ حرارت 49 اعشاریہ 5 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں درجہ حرارت معمول سے

6 سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، مختلف علاقوں میں یہ سلسلہ رواں ہفتے کے اختتام تک رہے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور میں آج درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ظہیر احمد بابر فارکاسٹر پی ایم ڈی کے مطابق رواں سال ہم سردیوں سے موسم گرما میں داخل ہوئے ہیں، گرمی کی شدت اور دورانیہ بڑھ رہا ہے، پاکستان نے 2015 کے بعد سے گرمی کی شدید لہروں کو برداشت کیا۔مقامی طبی اہلکار کے مطابق جیکب آباد میں 6 سال سے ہیٹ اسٹروک کے کیسز جون جولائی کی بجائے مئی میں رپورٹ ہو رہے ہیں۔ترجمان آبپاشی پنجاب کے مطابق بارشوں، برف باری کی کمی کی وجہ سے دریائے سندھ 65 فیصد سکڑ گیا ہے، پانی کی قلت برقرار رہی تو رواں سال فصلوں میں کمی کا حقیقی خطرہ ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان کا وہ قریبی ساتھی جس نے 6 ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ ملک دیوالیہ ہے ۔۔۔۔ حیران کن حقیقت سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی دور کے سابق چیئر مین ایف بی آر، شبر زیدی نے چھے ماہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ملک دیوالیہ ہے۔سابق وفاقی وزیرِ برائے پانی و بجلی، عابد شیر علی نے سوشل میڈیا پر ڈالر کی اڑان اور

گرتی معیشت سے متعلق ٹوئٹ شیئر کیا ہے۔عابد شیر علی نے اپنے ٹوئٹ میں مہنگائی کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک مہینے میں معیشت ڈوب جائے کیسے ممکن ہے، یہ بس کپتان کا نیا چٹکلا ہے درحقیقت اس کی غرقابی تو ساڑھے تین سال سے جاری تھی۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’115 سے 195 تک ڈالر کس نے پہنچایا؟ پی ٹی آئی دور کے سابق چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے چھے ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ ملک دیوالیہ ہے۔‘واضح رہے کہ ملک میں کل بھی انٹر بینک میں کاروبار کے دوران ڈالر مزید 1 روپے 23 پیسے مہنگا ہو کر 193 پر پہنچ گیا تھا، یہ ملکی تاریخ میں ڈالر کی بلند ترین قیمت ہے۔

Categories
پاکستان

عمران خان ملکی حالات پر سخت پریشان : وہ اتنے سخت اور ناراض نہیں جتنا بتایا جارہا ہے ۔۔۔۔ انصار عباسی نے اندر کے حالات بتا دیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔ اگرچہ دونوں فریقین میں تعلقات انتہائی خراب ہیں لیکن ملک کی تیزی سے خراب ہوتی معاشی صورتحال اتحادی حکومت اور عمران خان کی زیر قیادت پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بٹھا سکتی ہے۔

پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اکتوبر میں اگر انتخابات کرائے جائیں تو حکومتی اتحادیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان انتہائی اہم سمجھے جانے والے معاملے یعنی معیشت کے معاملے پر وسیع تر اتفاق رائے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ملک کی معاشی صورتحال سب کیلئے باعثِ پریشانی ہے اور اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ اگر فوری طور پر درست اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان اگلا سری لنکا بن سکتا ہے۔ جس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی پارٹی کے اہم ارکان گزشتہ تین روز سے لندن میں معیشت اور الیکشن جیسے معاملات پر غور و خوص کر رہے ہیں، بنی گالا کا باسی بھی معاشی بحران پر پریشان ہے اور ان کی پارٹی کے ایک اہم رکن نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ وہ اُتنے سخت نہیں جتنا شیخ رشید بتا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میں ریکارڈ پر آ کر کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم الیکشن اور معیشت کے معاملے پر بات کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں شیریں مزاری، فواد چوہدری اور شیخ رشید جیسے عقابی رہنمائوں کو چھوڑ کر بات کی جائے تو پی ٹی آئی میں ایسے رہنما ہیں جو موجودہ سیاسی بحران کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کیلئے تیار ہیں تاکہ پاکستان کو معاشی بربادی سے بچایا جا سکے۔ حکمران اتحاد بھی انتہائی مشکل فیصلوں کے معاملے میں پھنس چکا ہے جس میں معیشت کو درست کرنے

کیلئے انتہائی بڑی سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، معیشت مکمل تباہی کی جانب گامزن ہے کیونکہ ملک میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں۔ تیل کی مصنوعات پر بھاری سبسڈی کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنا ضروری ہوگیا ہے جس کے بعد پاکستان ڈیفالٹ سے بچ نہیں سکتا۔اگر یہ سبسڈی ختم کر دی گئی تو اس کا مطلب زبردست مہنگائی ہے جو حکمران اتحاد اور سب سے بڑھ کر نون لیگ کیلئے ایک مشکل ترین فیصلہ ہوگا کیونکہ اس پارٹی کے پاس ہی وزارت عظمیٰ اور معاشی وزارتوں کے قلمدان ہیں۔ نون لیگ اور اتحادی جماعتیں اس بات پر منقسم ہیں کہ سبسڈی ختم کرکے تیل کی مہنگی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے یا نہیں، یہ سبسڈی ماہانہ 100؍ ارب روپے ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ صورتحال آگے کھائی پیچھے کنواں جیسی ہے – سبسڈی ختم نہ کی گئی تو ڈیفالٹ یقینی ہے اور اگر سبسڈی ختم کر دی گئی تو نتیجہ شدید مہنگائی ہوگا۔ وزیراعظم پر معاشی فیصلہ کرنے کے حوالے سے شدید دبائو ہے، وہ پارٹی کے اہم رہنمائوں کے ساتھ مل کر لندن گئے تاکہ الیکشن کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ان آپشنز کے ساتھ لندن گئے تھے کہ اسمبلی رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں یا پھر جولائی اگست میں تحلیل کر دی جائے تاکہ اکتوبر میں الیکشن کی راہ ہموار ہو سکے۔ لندن یاترا کا تیسرا دن گزر چکا اور اس میں تمام تر توجہ الیکشن اور معیشت کے معاملے پر مرکوز رہی۔ نون لیگ اپنا معاشی لائحہ عمل جاری کرے گی لیکن آئندہ انتخابات کرانے کا معاملہ کسی پارٹی کے ہاتھ میں نہیں چاہے نون لیگ کوئی بھی فیصلہ کرے۔سیاسی اور معاشی صورتحال الیکشن کے وقت کا فیصلہ کرے گی۔ تاہم، اکتوبر میں الیکشن کرانا دونوں فریقوں کیلئے موزوں رہے گا۔الیکشن کمیشن پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اکتوبر سے قبل الیکشن ممکن نہیں۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی رواں سال اکتوبر میں الیکشن کیلئے راضی ہو جائے گی۔ اس سے حکمران اتحاد کو بھی آئندہ چند ماہ میں یا ممکنہ طور پر جولائی میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے سے قبل اصلاحات کا موقع مل جائے گا۔ چونکہ معاشی صورتحال ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاشی پالیسی پر اتفاق رائے حاصل کریں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کیلئے ثالث کون ہوگا۔ یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ صرف اسٹیبلشمنٹ اپنی غیر جانبداری کو نقصان پہنچائے بغیر کر سکتی ہے۔

Categories
پاکستان

اسٹیبلشمنٹ مجھ سے ناراض کیوں ہوئی ؟ عمران خان کا ایسا انکشاف کہ اسٹیبلشمنٹ والے بھی دنگ رہ گئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آ رہے ہیں لیکن میں کسی سے بات نہیں کررہا، میں نے ان لوگوں کے نمبر بلاک کر دیے ہیں۔اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

عمران خان نے کہا کہ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا، تب تک کسی سے بات نہیں ہو گی، اسلام آباد مارچ کے لیے تیاری شروع کردی ہے، جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بہت سے آپشن کھل جاتے ہیں۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ نیب اور عدلیہ پر ہمارا اثر نہیں تھا لیکن جن کا اثر تھا، اگر وہ چاہتے تو آٹھ سے دس لوگوں کو سزائیں ہوجاتیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگران آٹھ دس لوگوں کو سزا ئیں ہوجاتیں تو اس سے احتساب کا عمل مضبوط ہوتا اور حالات مختلف ہوتے، لیکن انہوں نےا یسا نہیں ہونے دیا۔پی ٹی آئی چیئرمین سے جب پوچھا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ان کے تعلقات کیوں خراب ہوئے تو انہوں نے جواب دیا کہ آخری دن تک اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اچھے رہے۔ دو معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رہا۔ مقتدر حلقے چاہتے تھے کہ میں عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹاؤں، اگر عثمان بزدار کو ہٹاتا تو پنجاب میں تحریک انصاف تقسیم ہوجاتی، کیونکہ مختلف دھڑوں کو کوئی اور قابل قبول نہیں ہوتا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی تبدیلی پر دباؤ ڈالنا ہی تھا تو سندھ میں کارکردگی اور بدعنوانی کے حالات بدتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے دوسرا اختلاف سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر تھا، میں چاہتا تھا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی سردیوں تک رہیں۔ انہیں برقرار رکھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال تھی، جبکہ میں ڈی جی آئی ایس آئی اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی سازش

کو روکنے کیلئے بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا، کیوں کہ مجھے اپوزیشن کی سازش کا جون سے معلوم تھا۔انہوں نے کہا کہ میں اللّٰہ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو آرمی چیف بنانے کا سوچا ہی نہیں تھا۔عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیشہ ایسے فیصلے ہوتے رہے کہ میری حکومت کمزور رہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ہی ن لیگ کے 30 ایم پی ایز پنجاب میں ہمارے ساتھ مل کر فارورڈ بلاک بنانا چاہتے تھے۔ اگر فارورڈ بلاک بن جاتا تون لیگ کی سیاست ختم ہو جاتی لیکن ان ایم پی ایز کو طاقتور حلقوں نے پیغام دیا کہ جہاں ہیں، وہیں رہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے علاوہ بھی میر جعفر اور میر صادق ہیں۔ لیکن ابھی وقت نہیں کہ ان کے سامنے لاؤں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یہ بھی پتا کہ لندن میں کون، کس سے اور کب کب ملتا رہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں یوکرین معاملے پر abstain کرنا درست فیصلہ تھا۔ اس معاملے پر حکومت کی پوزیشن درست تھی۔عمران خان نے مزید کہا کہ 20 مئی سے لانگ مارچ کے لئے تیاری شروع کریں گے۔ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بہت سے آپشن کھل جاتے ہیں۔

Categories
پاکستان

ایک بات طے ہے کہ عمران خان پیچھے نہیں ہٹیں گے ، تو پھر اب آگے کیا ہو سکتا ہے ؟ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ کاروں نے رائے دے دی

کراچی(ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے واضح کردیا نیوٹرل کوئی اور نہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہے، ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ عمران خان پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ مزید آگے بڑھیں گے،شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے

ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نیوٹرل سے مراد پاکستان آرمی ہے. تفصیلات کے مطابق میزبان شہزاد اقبال نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ عمران خان مسلسل حکومت اورا داروں پر دباؤ بڑھارہے ہیں، عمران خان فوری انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں، اپنے جلسوں اور تقاریر میں اسٹیبلشمنٹ سے کھل کر نیوٹرل نہ رہنے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جب تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوجاتا وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات نہیں کریں گے، عمران خان اور دیگر سیاسی رہنما اپنی تقریروں میں مسلح افواج کی قیادت پر بھی تنقید کررہے ہیں. شہزاد اقبال نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اپنے جلسوں میں جو بات کررہے ہیں، آج انہوں نے جو ٹوئٹ کیا اور شیریں مزاری صاحبہ نے بات کی ہے اس پر آج سابق وزیراعظم عمران خان نے زیادہ کھل کر بات کی ہے. آج سابق وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کی جس کا زیادہ تر حصہ آف دا ریکارڈ تھا لیکن اس وقت وہ جو بات اپنے ٹوئٹس یا جلسوں میں کررہے ہیں اس پر انہوں نے زیادہ واضح پوزیشن لی، عمران خان نے آج کی گفتگو میں واضح کردیا کہ جب وہ نیوٹرل کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نیوٹرل کوئی اور نہیں ہے وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہے. ایک اہم موقع پر جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ پیغامات آتے رہتے ہیں لیکن میں نے لوگوں کے نمبرز بلاک کردیئے ہیں، جب تک الیکشن کی تاریخ نہیں دی جاتی تب تک کسی سے بات نہیں ہوگی یعنی وہ بتانا چاہ رہے تھے کہ ان کا اعتماد نہیں ہے، صحافیوں سے گفتگو کے بعد ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ عمران خان پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ مزید آگے بڑھیں گے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں نیب عمران خان کے کنٹرول میں تھی، نیب عمران خان کے کنٹرول میں نہ ہوتی تو علیم خان کبھی ان کیخلاف نہیں ہوتے، علیم خان سے پوچھ لیں وہ بتادیں گے انہیں کس نے گرفتار کرایا اور نیب انہیں کس کے کہنے پر تنگ کرتی تھی، عمران خان کہہ رہے ہیں عدلیہ نے سزائیں کیوں نہیں دیں، اس کا مطلب ہے عدلیہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں تھی. جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس ثابت کرتا ہے کہ عدلیہ خودمختار تھی، عمران خان نے پاک فوج کو پنجاب پولیس بنا کر استعمال کرنے کی کوشش کی، فوج کے کندھے استعمال کر کے اپوزیشن کو بلڈوز کرنے کی کوشش کی، عمران خان اس میں کامیاب نہیں ہوئے تو فوج پر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔

Categories
منتخب کالم

لندن میں موجود شہباز کابینہ اورنواز شریف کن 2 آپشنز پر غور کررہے ہیں ؟سلیم صافی نے پاکستانیوں کو بڑی خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان بھی اب تو یہ اعتراف کررہے ہیں اور شاہ محمود قریشی بھی کہ پاکستان معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کو ہے۔نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ سفارتی اور معاشرتی حوالوں سے بھی پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے لیکن اس کا اعتراف وہ

دونوں بوجوہ نہیں کررہے بلکہ دن رات اسے مزید تباہ کرنے میں لگے ہیں۔تاہم سرِدست سب سے اہم مسئلہ جوسر پہ کھڑا ہے وہ معیشت کا ہے اور اس میں بھی بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرکے اچانک مہنگائی میں اضافہ کر کے عوام کے قہروغضب کا خطرہ مول لیا جائے یا پھر پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا۔ اسی الجھن کا حل نکالنے کے لیے اس وقت مسلم لیگ(ن) کی قیادت لندن میں سرجوڑ کر بیٹھی ہے۔ ایک سوچ یہ ہے کہ عمران خان کے گند کو اپنے سر لینے کے بجائے فوری انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے اور دوسری رائے اس کے برعکس یہ ہے کہ پہلے معاملات کو کسی حد تک کنٹرول کیا جائے اور ساتھ ہی عمران خان کو ایکسپوز بھی کیا جائے اور پھر انتخابات کی طرف بڑھا جائے۔مجوزہ راستوں میں بہتر راستہ کونسا ہوسکتا ہے؟ اس حوالے سے اپنی رائے دینے سے قبل دو وضاحتیں پیش کرتا چلوں۔ پہلی وضاحت یہ ہے کہ حالیہ بحران کی اصل جڑیں گزشتہ الیکشن کو سلیکشن بنانے میں پیوستہ ہیں۔ تب اگر نیب، میڈیا، عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر دبائو ڈال کر جعلی اسمبلیاں تشکیل نہ دی جاتیں تو آج ہمیں اس صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔الیکشن سے قبل مجھ پر بہت دبائو ڈالا گیا کہ دیگر اینکرز کی طرح میں بھی ”پاکستان کو ووٹ دو“ کا پیغام ریکارڈ کرواؤں لیکن میں استعفیٰ دینے کو تو تیار ہوا تاہم وہ پیغام ریکارڈ نہیں کروایا۔ اگر قبل از انتخابات اور پولیٹکل انجینئرنگ کو ایک طرف رکھ دیا جائے

تو بھی جب پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا اور آر ٹی ایس سسٹم فیل کروایا گیا تو ان انتخابات کی کوئی وقعت نہیں بنتی۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ 2018 کے انتخابات میں دوسرے بھی نہیں بلکہ تیسرے نمبر پر آنے والوں کو منتخب ڈکلیئر کیا گیا اور پھر انہیں وزیر مشیر بھی بنایا گیا۔چنانچہ میرے نزدیک اسمبلیاں اور ان اسمبلیوں سے بننے والا سیٹ اپ جعلی تھا اور جعلی ہے۔ جعلی اسمبلیوں کا لیڈر بدلنے سے ان کے جعلی ہونے کی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ میں عمران خان کی حکومت کو بھی ڈی فیکٹو سمجھتا تھا اور موجودہ سیٹ اپ کو بھی۔ چنانچہ اصولی موقف میرا کل بھی یہ تھا اور آج بھی یہ ہے کہ پاکستان کا سیاسی بحران تب ختم ہوسکتا ہے جب آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں لیکن اب سوال یہ ہے کہ کب اور کیسے؟ سردست نئے انتخابات کیلئے ایک حوالے سے فضا بہتر ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر آئینی رول تک محدود ہوکر سیاست، عدالت اور صحافت میں مداخلت سے فی الوقت تائب ہوچکی ہے چنانچہ گزشتہ پانچ برسوں میں پہلی مرتبہ ہمیں الیکشن کمیشن، عدلیہ اور میڈیا آزادی کے ساتھ کام کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو جمہوریت اور آزادانہ انتخابات کیلئے ضروری ہے۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ فیصلہ کرنے میں مہلت کم ہے۔ اس دوران اگر حکومت اسمبلیاں توڑ دیتی ہے تونگران حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔ دوسری طرف عالمی طاقتیں اور عالمی مالیاتی ادارے نگران حکومتوں کے

ساتھ طویل المیعاد منصوبہ بندی سے گریز کرتے ہیں۔ تب آئی ایم ایف (واضح رہے کہ خود شوکت ترین کا بیان آن ریکارڈ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے انتہائی نامناسب شرائط پر آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا ہے)۔ نگران حکومتوں کو عوام کی زیادہ فکر بھی نہیں ہوتی چنانچہ یا تو وہ آئی ایم ایف کی وہ تمام شرائط تسلیم کرلے گی جو ماضی میں عمران خان حکومت ان کے ساتھ مان چکی ہے اور یا پھر اگر فیصلہ نہیں کر پاتی تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ سوال یہ ہے کہ جو مشکل فیصلے عمران خان نہ کرسکے اور اب قدآور شخصیات اور بڑی پارٹیوں کی مشترکہ حکومت نہیں کرسکتی، وہ مشکل فیصلے ایک نگران حکومت کیسے کرسکے گی؟ جبکہ جون کا مہینہ قریب ہے اور جون میں بہر صورت نیا بجٹ پیش کرنا ہوگا۔دوسری بڑی رکاوٹ الیکشن کمیشن ہے۔ الیکشن کے حوالے سے بنیادی فیصلے الیکشن کمیشن نے کرنے ہیں۔ اگرچہ عمران خان اب بھی ایمپائر اور فواد چوہدری چوکیدار سے مطالبات کررہے ہیں لیکن آئین کی رو سے الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان، سپریم کورٹ آف پاکستان میں یہ تحریری موقف پیش کر چکا ہے کہ اسے انتخابات کی تیاری اور نئی حلقہ بندیوں کے لیے کم از کم سات ماہ درکار ہیں۔ یوں اگر سات ماہ تک انتخابات کی تیاری نہیں ہوسکتی تو پھر کیا ہوگا؟تیسری بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر خود عمران خان کا مقرر کردہ ہے لیکن اس وقت وہ دن رات ان کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔ ان کے دفتر کے سامنے مظاہرے کررہے ہیں۔

ان پر جانبداری کا الزام لگارہے ہیں حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن سے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ ان کے لیے اسی طرح کے غیرقانونی کام کرے جس طرح کہ سردار رضا کا الیکشن کمیشن کررہا تھا۔ گویا وہ الیکشن کمیشن کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ اب اگر نتائج عمران خان کی مرضی کے خلاف آتے ہیں تو وہ شور مچائیں گے اور گزشتہ الیکشن کی طرح سلیکشن ہوتی ہے تو باقی جماعتیں تسلیم نہیں کریں گی۔ اس لیے انتخابی اصلاحات کئے بغیر انتخابات میں جانا ملک کو انارکی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔میں اس حقیقت سے بھی واقف ہوں کہ مسلم لیگ(ن)، جے یو آئی، اے این پی، پختونخوا میپ، ایم کیوایم اور دیگر قوم پرست جماعتوں کو فوری انتخابات سوٹ کرتے ہیں جبکہ خفیہ ایجنسیوں کے سرویز بھی یہ بتارہے ہیں کہ فوری انتخابات کی صورت میں واضح اکثریت مسلم لیگ(ن) کو حاصل ہوگی۔ لیکن اب اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے یہ غلطی کی ہے کہ پہلے جعلی اسمبلیوں میں بیٹھ گئی ہیں اور اب عدم اعتماد بھی لے آئی ہیں تو پھر صرف پارٹی مفاد کو نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدِنظر رکھیں۔ ہمت پکڑیں اور ملکی حالات کو مدِنظر رکھ کر مشکل فیصلے کریں۔ سوشل میڈیا اور جلسوں کی دنیا الگ جبکہ زمینی وسیاسی حقائق کی دنیا الگ ہے۔عمران خان خودکو بھی اس کا اندازہ ہے۔ وہ صرف نفسیاتی دبائو ڈال رہے ہیں۔ وہ خود فوری انتخابات میں سنجیدہ ہوتے تو جلسے جلوسوں کی بجائے پختونخوا اسمبلی تحلیل کرتے۔ قومی اسمبلی سے جعلی طریقے سے استعفے دینے کی بجائے اپنے استعفے موجودہ اسپیکر کے حوالے کرتے۔پنجاب، سندھ، بلوچستان کی اسمبلیوں اور سینیٹ سے بھی استعفیٰ دیتے لیکن وہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ڈرا بھی رہے ہیں لیکن ساتھ خود بھی ڈر رہے ہیں۔ اس لیے کسی قسم کے دبائو میں آئے بغیر حکومت کو جراتمندانہ فیصلے کرنے چاہئیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر یہ ذمہ داری اپنے سر لی ہی کیوں؟

Categories
پاکستان

آمدن سے زائد اثاثہ جات : فرح خان کے خلاف تحقیقات میں بڑی پیشرفت سامنے آگئی

لاہور(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی سہیلی فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوگئی۔نیب لاہور نے فرح خان اور شوہر احسن جمیل گجر کیخلاف انکوائری کیلئے مختلف اداروں کو 100 سے زائد

لیٹر ارسال کئے تھے جس پر جواب موصول ہونا شروع ہوگئے۔ایس ای سی پی نے فرح خان اور احسن جمیل کی مبینہ کمپنیوں کا ریکارڈ جمع کروا دیا جبکہ ایف بی آر نے ٹیکس ریکارڈ اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروا دی ہے۔ذرائع کے مطابق مشتبہ بینک اکاؤنٹس کی معلومات کیلئے مختلف حکومتی و پرائیویٹ بینکوں سے ریکارڈ موصول ہو رہا ہے۔