Categories
انٹرنیشنل

پاکستان میں تو 200 سے اوپر مگر بھارتی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کتنی ہے ؟ جانیے

کراچی (ویب ڈیسک )تیل کی زیادہ قیمتوں سے افراطِ زر کے خدشات کے سبب بھارت کی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے، حالانکہ مرکزی بینک نے وقفے وقفے سے ڈالر کو فروخت کرکے نقصانات کو محدود کرنے میں مدد کی۔برطانوی میڈیا کے مطابق ڈالر کے مقابلے

میں بھارتی روپے کی قدر 0اعشاریہ 6فیصد گر کر 78 روپے 77 پیسے ہو گئی ہے جو کہ تمام تر سابقہ ریکارڈ کو توڑ کر گزشتہ ہفتے 78 روپے 39 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اہم ایکوٹی انڈیکس نفٹی 50میں بھی 0اعشاریہ 4فیصد کی کمی ہوئی۔

Categories
پاکستان

مسئلہ یہ ہے کہ امپائر کے بغیر عمران خان کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔لائیو پروگرام میں تجزیہ کاروں کی حیران کن آراء

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خاتون میزبان کے سوال کیا لاہور ہائیکورٹ کو پنجاب میں دوبارہ انتخابات کا حکم دینا چاہئے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ حکومت کو عمران خان سے نہیں ڈرنا چاہئے وہ امپائر کی سرپرستی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا.

ایک دوسرے سوال پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی انتخابی مہم میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو حکومت کیخلاف استعمال کرے گی۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ حمزہ شہباز کس طرح اب تک وزیراعلیٰ ہیں، کیا اس ملک میں کوئی آئین و قانون نہیں ہے، باپ اور بیٹے پر فرد جرم عائد ہونی تھی لیکن وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن گئے. پچیس منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد حمزہ شہباز کی وزیراعلیٰ رہنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی، حمزہ شہباز غیرقانونی وزیراعلیٰ ہیں ان کی کابینہ اور بجٹ غیرقانونی ہے، حمزہ شہباز کو دھونس دھاندلی سے حکومت بنانے پر سزا بھی دینی چاہئے۔سلیم صافی کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں کل بھی جعلی تھیں آج بھی جعلی ہیں. لیڈر آف دی ہاؤس بدلنے سے اسمبلی اصلی نہیں ہوجاتی،پی ٹی آئی حکومت کے بعد موجودہ نظام بھی چلتا نظر نہیں آرہا ہے، سندھ میں جے یو آئی نے پیپلز پارٹی کی دھاندلی کیخلاف دھرنے دیئے ہوئے ہیں، حکومت کو عمران خان سے نہیں ڈرنا چاہئے وہ امپائر کی سرپرستی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔بینظیر شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب میں وزیراعلیٰ کا دوبارہ الیکشن ہی حل ہے، ن لیگ کو اعتماد حاصل کرنے کیلئے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی. خصوصی نشستیں خالی ہوں تو اسے جلد از جلد بھردینا چاہئے، پنجاب اسمبلی میں 20نشستیں خالی ہیں اس صورتحال میں الیکشن کمیشن کا موقف درست تھا کہ جلد از جلد ضمنی انتخابات کروائے جائیں، ن لیگ تمام بیس نشستیں جیت جاتی ہے تو پی ٹی آئی کو پانچ مخصوص نشستیں کیسے دی جاسکتی ہیں۔

Categories
پاکستان

کتنے اور کن مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھی ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)وحدت کالونی میں صلح کے دوران سسر کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہونے والی بہو چوری اور لڑائی جھگڑوں کے 26مقدمات میں اشتہاری نکلی۔پولیس کے مطابق لاہوروحدت کالونی میں شبنم بی بی کو اس کے سسر خضر نے زندگی سے محروم کردیا، ملزم اور شبنم اہل خانہ سمیت ثالث ارشد کے گھر صلح کے

لئے جمع تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ صلح کے دوران دونوں پارٹیوں میں ہونے والے جھگڑے میں خضر نے اچانک ہلہ بول کو شبنم کی جان لے لی ،پولیس کے مطابق شبنم چوری اور لڑائی جھگڑوں کے 26 مقمدمات میں اشتہاری تھی۔شبنم کے بے جان جسم کو کارروائی کیلئے ڈیڈ ہاؤس منتقل کردیاگیا ہے۔ایس پی اقبال ٹاؤن عمارہ شیرازی کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

Categories
انٹرٹینمنٹ

میں اداکارہ نہیں بننا چاہتی تھی ، مجھے تو زبردستی اداکارہ بنایا گیا ۔۔۔۔ بالی وڈ کی سدا بہار خاتون ریکھا کا انکشاف

ممبئی(ویب ڈیسک) بالی ووڈ کی سدا بہار اداکارہ کہلانے والی ریکھا نے کہا ہے کہ وہ کبھی اداکارہ نہیں بننا چاہتی تھیں، انہیں زدوکوب کرکےاداکارہ بنایا گیا ہے۔بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ نے سینئر اداکارہ کا ماضی کا انٹرویو دوبارہ شایع کیا جس میں ریکھا کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی،

کم عمری سے ہی زور سے اور جبری مجھے اداکارہ بنایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریکھا نے صرف 3 سال کی عمر سے بھارت کی مقامی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تاہم انہوں نے بالی ووڈ میں 13 برس کی عمر میں ڈیبیو کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔اداکارہ نے یہ بھی کہا تھا کہ جب ممبئی آئی تو فلم انڈسٹری کے لوگوں نے گھر والوں سے رابطہ کیا، مجھ سے پوچھنے لگے کہ ہندی فلم میں کام کروگی تو میں نے منع کردیا، میرے انکار کے باوجود انہوں نے مجھے پروجیکٹ کا حصہ بنالیا، کام کرتے ہوئے 6 سے 7 سال گزرے تو میری انڈسٹری کے لیے دلچسپی پیدا ہوئی۔ریکھا کا مزید کہنا تھا کہ زبردستی خود کو کھینچ کر فلموں کی عکسبندی پر لے جاتی تھی، دو شفٹ کرنا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔

Categories
منتخب کالم

فیصلہ کرنے کا وقت : ایک بندہ شہباز حکومت کو لے ڈوبے گا یا پھر ایک بندہ ڈوبتی کشتی کو پار لگا سکتا ہے ۔۔۔۔۔جاوید چوہدری کی زبردست تجاویز

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میاں شہباز شریف بلاشبہ پاکستانی تاریخ کے کام یاب ترین وزیراعلیٰ تھے‘ پوری قوم کو ان سے بے تحاشا توقعات تھیں‘ وزیراعظم بننے کے بعد اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر دونوں نے انھیں سلامی بھی دی لیکن شاید ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں

یا ملکی مسائل ان کی توقع سے زیادہ ہیں لہٰذا یہ اب تک پرفارم نہیں کر سکے اوریوں ریاست اور قوم دونوں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔حکومت کا پہلا غلط فیصلہ مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنانا تھا‘ مفتاح اسماعیل ایک غیرسنجیدہ انسان ہیں‘ یہ بڑے سے بڑا ظالمانہ فیصلہ بھی ہنستے ہنستے سناتے ہیں اور یہ ان کے عہدے کے شایان شان نہیں‘ یہ صنعت کار بھی ہیں اور صنعت کاروں کو روپے کی ڈی ویلیویشن سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے چناں چہ یہ ڈالر کنٹرول نہ کر سکے یا انھوں نے ملک میں جان بوجھ کر معاشی ایمرجنسی بھی پیدا کر دی تاکہ انھیں فوری طور پر نہ ہٹایا جا سکے‘ حکومت اگر اسحاق ڈار کو واپس لے آتی یا یہ شوکت ترین کو کام جاری رکھنے کا موقع دے دیتی تو آج صورت حال بالکل مختلف ہوتی‘ہمیں یہ ماننا ہو گا اسحاق ڈار اور شوکت ترین دونوں معیشت کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں چناں چہ دونوں کے دور میں معیشت بہتر ہوئی تھی جب کہ مفتاح اسماعیل نے اپنے دونوں ادوار میں بیڑہ غرق کر دیا۔لہٰذا آج مفتاح اسماعیل ن لیگ کی مقبولیت کو تابوت بنا کر اس میں کیل ٹھونکتے چلے جا رہے ہیں اور مجھے یقین ہے اگر اسحاق ڈار واپس نہ آئے تو مفتاح اسماعیل اپنی جہد مسلسل سے ن لیگ کو الیکشن کے قابل نہیں چھوڑیں گے‘ دوسرا حکومت شروع میں بری طرح کنفیوز تھی‘ یہ پورا مہینہ یہ سوچتی رہی ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے‘ عمران خان کو گرین چٹ دے کر نکال لیا گیا ہے

اور باقی تمام پارٹیوں کو گرتی ہوئی چٹان کے نیچے کھڑا کر دیا گیا ہے چناں چہ ہمیں پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھانی چاہییں اور جلد سے جلد الیکشنز کرا دینے چاہییں لیکن عمران خان نے جب میر صادق اور میر جعفر کی گردان شروع کی تو حکومت کی سانس میں سانس آئی مگر یہ اس کے باوجود 25مئی تک استعفیٰ دے کر الیکشن میں جانے کا فیصلہ بھی کرتے رہے۔اس دوران یہ فیصلہ بھی ہو گیا وزیراعظم 27 مئی کو مستعفی ہو جائیں گے‘ اسمبلی ٹوٹ جائے گی اور یوں اکتوبر میں الیکشن ہو جائیں گے لیکن عمران خان غلطی کر گئے‘ انھوں نے 25 مئی کے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا‘ اس کے نتیجے میں حکومت ڈٹ گئی اور اس نے لڑنے کا فیصلہ کر لیا لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں میاں شہباز شریف کی حکومت عملاً 25 مئی کو شروع ہوئی اور یہ اگلے سال 25مئی تک قائم رہے گی‘ یہ جب تک معیشت کو الیکشن کے قابل نہیں بناتی یہ اس وقت تک قائم رہے گی‘ ملک ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹ میں آ رہا ہے۔آئی ایم ایف بھی اپنا وزیر خزانہ لانے کے بعد اپنا پیکیج بحال کر دے گا‘ حکومت کو اس کے بعد چین اور سعودی عرب سے بھی امداد مل جائے گی اور انھیں قطر بھی تین بلین ڈالر کی ادھار ایل این جی اور 2 بلین ڈالر دے دے گا جس کے بعد ڈالر ایک سو نوے روپے سے نیچے آ جائے گا اورکسی حد تک مہنگائی کنٹرول ہو جائے گی‘روس اور یوکرین وار نہ رکی تو حکومت امریکا کو راضی کر کے ایران سے سستا پٹرول بھی حاصل کر لے گی اور یوں حالات سنبھل جائیں گے لیکن یہ تمام چیزیں صرف دو چیزوں پر بیس کرتی ہیں۔ایک شریف فیملی کو پنجاب کا اقتدار اپنے خاندان سے باہر کسی دوسرے کے حوالے کرنا ہو گا اور شہباز شریف کو آزادی سے فیصلے کرنے کی اجازت دینا ہو گی ورنہ دوسری صورت میں حالات ان کے ہاتھ سے بھی نکل جائیں گے‘ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گااور اس کے بعد سیاست پر پابندی لگ جائے گی۔ملک میں آنے والے دن کیسے ہوں گے؟ میں نہیں جانتا تاہم یہ دیوار پر لکھا ہے ہم سوئی کی نوک پر اٹکے ہوئے ہیں‘ہماری ایک غلطی‘ ہماری مزید ایک حماقت ہمیں کھائی میں گرا دے گی لہٰذا اب تو عقل استعمال کر لیں‘ اب تو گنجائش بھی نہیں بچی۔

Categories
منتخب کالم

مہنگائی اور نااہلی تو ایک پردہ ہیں : عمران خان کی کونسی حرکات دیکھ کر اسٹیبشلمنٹ نیوٹرل ہونے پر مجبور ہو گئی ؟ جاوید چوہدری کی انکشافات سے بھرپور تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ فیصلہ مشکل ہوتا جا رہا ہے عمران خان زیادہ ناکام ہیں یا اتحادی حکومت لیکن یہ بہرحال طے ہے عمران خان سے تحریک نہیں چل رہی اور حکومت سے معیشت لہٰذا اس وقت دونوں ناکام نظر آ رہے ہیں۔

ہم سب سے پہلے عمران خان کے المیے کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان ایٹمی پروگرام کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا سب سے بڑا پروجیکٹ تھا‘ اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح ایٹمی پروگرام کے لیے دن رات ایک کر دیا‘ اپنی ہر چیز‘ اپنا ہر اثاثہ داؤ پر لگا دیا بالکل اسی طرح عمران خان کو بھی اقتدار میں لانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی‘ ریاست کے سارے داؤ‘ ساری طاقتیں اور سارے کلیے استعمال کر دیے گئے یہاں تک کہ وہ تمام سیاست دان بھی قربان کر دیے گئے جو ریاست نے زیور کی طرح مشکل وقت کے لیے بچا کر رکھے ہوئے تھے۔چین‘ سعودی عرب‘ ترکی اور امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات تک قربان کر دیے گئے اور عمران خان کے لیے عدلیہ کو عدلیہ‘ میڈیا کو میڈیا اور صنعت کاروں کو صنعت کار بھی نہیں رہنے دیا گیا اور یوں دانتوں تک پسینے کے بعد عمران خان اقتدار میں پہنچ گئے مگر اس کے بعد کیا ہوا ؟یہ کہانی اب کہانی نہیں رہی‘ عمران خان کے پونے چار سال کے اقتدار نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں‘ پنجاب 12 کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے۔یہ صوبہ اس عثمان بزدار کے حوالے کر دیا گیا جس کی اہلیت صوبے دار سے زیادہ نہیں تھی اور اس نے ان پونے چار برسوں میں پنجابی تاریخ کے ’’بھنگی دور‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا‘ آپ یہ سن اور جان کر حیران رہ جاتے ہیں عثمان بزدار کو غیرقانونی کاموں کی چٹیں اور احکامات جلانے میں تین دن لگ گئے تھے‘

وہ تمام افسر اور ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان اپنے بیانات ریکارڈ کرا چکے ہیں جنھوں نے رقم‘ ہار اور انگوٹھیاں دے کر پوسٹنگز اور ٹرانسفرزکرائی تھیں یا این او سی لیے تھے‘ نوا سٹی کا مالک جنید چوہدری اب اپنے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے چکر کاٹ رہا ہے۔فرح گوگی کے تحائف اور یہ جس جس نے خریدے وہ فہرست بھی بن چکی ہے اور وزراء کی ٹیلی فون کالز‘ اعترافات اور لین دین کا تمام کچا چٹھا بھی اکٹھا ہو چکا ہے بس وڈیوز اور آڈیوز کی ریلیز باقی ہے اور یہ کام جس دن ہو گیا عوام اس دن حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کو بھول جائیں گے‘ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا کام ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن ان پر بوجھ مزید بڑھ گیا‘ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہوں‘ تاجروں اور صنعت کاروں کو مطمئن کرنا ہو‘ چین‘ سعودی عرب اور یو اے ای سے امداد لینی ہو ‘ امریکا کو راضی رکھنا ہو‘ویکسین جمع کرنی ہو‘ عوام کو ویکسین لگوانی ہو‘ چیئرمین نیب کو بچانا ہو‘ بجٹ پاس کرانے ہوں۔علیم خان اور جہانگیر ترین کو خاموش کرانا ہو‘ پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانا ہو‘ اتحادیوں کو حکومت کے ساتھ لٹکائے رکھنا ہو‘ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو خاموش کرانا ہو ‘ مولانا فضل الرحمن کو اسلام آباد سے واپس بھجوانا ہو‘ ایران اور افغانستان کے ساتھ بات چیت کرنی ہو‘ کشمیر میں کرفیو کے خلاف آواز اٹھانی ہو یا پھر حکومت کے لیے وزیر خزانہ کا بندوبست کرنا ہو یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی ذمے داری تھی

جب کہ عمران خان صرف ایک کام کر رہے تھے‘ فلاں کو اٹھا لیں‘ فلاں کو اندر بند کر دیں اور فلاں کی ضمانت نہ ہونے دیں۔وزیراعظم نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو دفتر میں بلا کر خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے کا حکم دے دیا تھا اور رانا ثناء اللہ پر 15 کلو ڈال کر انھیں چھ ماہ کے لیے قید میں بند کر دیا گیا تھااور سید خورشید شاہ دو سال ایک ماہ قید میں بند رہے‘ یہ سلسلہ جیسے تیسے پونے چار سال چلتا رہا لیکن جب عمران خان نے ان نوازشات کو اپنا حق اور ریاست کی مجبوری سمجھنا شروع کر دیا‘یہ برملا کہنے لگے ’’میرے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں‘‘ اور اس کے ساتھ ہی اگلے دس سال کی پلاننگ کر لی‘ اگلے آرمی چیف کا فیصلہ بھی کر لیا۔سو ریٹائرڈ ججوں کو بھرتی کر کے نیب کورٹس بنانے اور کرپشن کے الزامات میں ملوث تمام لوگوں کو ڈس کوالی فائی کرنے‘ صدارتی نظام لانے اور اپنے دس سال کے اقتدار کے بعد ملک میں آمریت نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ریاست کی بس ہو گئی اور اس نے اپنی غلطی سدھارنے کا فیصلہ کر لیا‘ باقی حالات آپ کے سامنے ہیں۔عدم اعتماد کے بعد عمران خان کے پاس چار باعزت آپشن تھے‘ یہ استعفیٰ دیتے اور ملکی تاریخ کے مضبوط ترین اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرتے‘ یہ اگر یہ راستہ اختیار کرتے تو آج ان کا سیاسی قد مینار پاکستان سے بھی اونچا ہو چکا ہوتا‘ دوسرا یہ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں توڑ دیتے اور ملک نئے الیکشنز کی طرف چلا جاتا لیکن عمران خان نے کم از کم ایک صوبے کے وسائل اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا‘ تیسرا یہ حکومت کے ساتھ بیٹھتے‘ انتخابی اصلاحات کرتے اور اگلے الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیتے اور چوتھا یہ اقتدار سے نکلنے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات قائم رکھتے اور یہ آج تین ماہ بعد ایک بار پھر وزیراعظم ہوتے۔عمران خان اگر ان چار میں سے کوئی ایک راستہ بھی اختیار کر لیتے تو یہ آج بنی گالا میں محصورنہ ہوتے اور یہ ہر کھانے کی چیز کو مشکوک نظروں سے نہ دیکھ رہے ہوتے لیکن عمران خان کی افتاد طبع انھیں بند گلی میں لے آئی اور یہ اب تیزی سے اکیلے ہوتے جا رہے ہیں اور دیکھنے والے ان کے ہاتھ سے تسبیح اور انگلی سے انگوٹھی اترنے کا انتظار کر رہے ہیں‘کیوں؟ کیوں کہ عمران خان کو جاننے والے جانتے ہیں اب عثمان بزدار‘ فرح گوگی‘ احسن جمیل اور مانیکا فیملی کی باری ہے‘ خان صاحب اپنی بربادی کا ملبہ کسی بھی وقت ان پر گرا کر ان سے اپنی جان چھڑائیں گے اور نئی تحریک انصاف کی بنیاد رکھ دیں گے‘ یہ آگے چل پڑیں گے۔

Categories
کھیل

میرا کیرئیر کس نے خراب کیا ؟ احمد شہزاد نے نام لے کر بتا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) ٹیسٹ کرکٹر احمد شہزاد پھٹ پڑے، کہا وقار یونس کی میرے خلاف رپورٹ نے میرا کیرئیر کارنر کردیا ۔احمد شہزاد نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا میں چاہتا ہوں کہ رپورٹ کو پبلک کیا جائے جس کی بنیاد پر مجھے ٹیم سے باہر رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا

میرے پاس بھی اپنے دفاع کے لئے بہت کچھ ہے ۔ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہے تو مجھے اس کا بتایا جائے ، سزا دی جائے لیکن کیرئیر کیساتھ کیوں کھیلا جا رہا ۔ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ رپورٹ میں جو کہا گیا اس کی وضاحت ہونی چاہیے کیونکہ مجھے اس کا بہت نقصان ہوا ۔ مجھے پتہ تو ہونا چاہیے کہ رپورٹ ہے کیا اور میں نے غلط کیا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں کنڈکٹ کے تحت تمام چیزیں کر رہا ہوں مجھے کارنر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ میں نے رپورٹ کے بارے میں جاننے کی بہت کوشش کی لیکن مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا ۔احمد شہزاد نے کہا کہ مجھے سری لنکا کے خلاف آخری سیریز میں پورا موقع ہی نہیں دیا گیا اور باہر کر دیا ۔ مجھے خود نہیں پتہ کہ مجھے کنڈیشنگ کیمپ میں کیوں نہیں بلایا گیا ۔ اس کا درست جواب تو وہی دے سکتے ہیں جنہوں نے کھلاڑیوں کو منتخب کیا ۔ میں بھی کیمپ میں شامل ہو کر ایک معیاری ٹریننگ کرنا چاہتا تھا ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میرا گھر ہے ۔ کوئٹہ کی ٹیم نے ہمیشہ اچھی کرکٹ کھیلی ہے ۔ مجھے خود بڑا دکھ ہے کہ میں پی ایس ایل نہیں کھیل سکا ۔

Categories
منتخب کالم

جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی یا پی ٹی آئی ان میں شامل ہو گئی ؟ عاصمہ شیرازی نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔عکس معکوس ہو جائے تو تصویر دھندلی رہ جاتی ہے البتہ عکس سائے کا ہو تو تصویر میں ڈھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم سایوں کے عکس میں تصویر ڈھونڈتے ہیں اور سائے ہیں

کہ ہمارا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔پاکستان کی سیاست میں پس آئینہ کردار ہی اصل کردار ہیں۔ تصور سے تخلیق اور پھر تکمیل سے تحسین تک ان کا خفیہ کردار اس قدر واضح ہوتا ہے کہ سوائے ان کے سب کو ہی نظرآتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔ جو دکھائی دے وہی حقیقت ہے لہذا اب حقیقت منظر پر عام ہو چکی ہے۔ سنہ 2014 کے دھرنے کے پس منظر کے اصل کردار اب ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام کی مہربانی سمجھیے کہ اُنھوں نے اسی مناسب وقت پر اپنے ’سچ مُچ نیوٹرل‘ ہونے کی قسم اٹھائی جب اصل نیوٹرل اپنی نیوٹریلٹی کے باعث زیر عتاب ہیں۔ یہ تصویر تحریک انصاف پراجیکٹ کی کامیابی کا اظہار ہے یا سر عام اعتراف۔۔ بہرحال یہ اعتراف بروقت بھی ہے اور بر محل بھی۔ملکی تاریخ میں پس منظر سے منظر عام پر آنے والے سیاسی جرنیلوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے سو یہ کریڈٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام کو دینا بنتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہی سہی مگر اپنی جماعت کو علی لاعلان شناخت تو دی۔ اب دیکھیے اُن جیسے کئی جرنیل گُم نامی میں ہی گزر گئے۔جنرل ریٹائرڈ جیلانی کے سر مسلم لیگ ن کی قیادت چُننے کا کریڈٹ جاتا ہے تو جنرل ریٹائرڈ حمید گُل تحریک انصاف کے بانیان میں گردانے جاتے ہیں۔ جنرل ریٹارڈ ایوب خان، جنرل ریٹائرڈ یحییٰ، جنرل ضیا الحق اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سر عام آئین معطل کیا لیکن خفیہ طور پر حلف توڑنے والے جرنیلوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ہائبرڈ سیاسی جرنیلوں اور اہلکاروں

کی اس فہرست سے نکل کر اسائمنٹ کو باقاعدہ طور پر تسلیم البتہ کم جرنیلوں نے ہی کیا ہے۔جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی یا سیاسی جماعت اُن میں شامل ہوئی اس سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں یہ تصویر بمعہ تقریر سامنے آئی جب ادارہ تحریک انصاف کی خفیہ اور اعلانیہ نشانے پر ہے۔بے چہرہ اکاؤنٹس سوشل میڈیا پر نہ صرف فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں بلکہ موجودہ آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم کردار کُشی کی جا رہی ہے۔ یہ کس کی عنایت اور حمایت سے ہے اداروں کو خبر ہو یا نہ ہو مگر عوام ضرور جانتے ہیں۔جو بات دل میں کہنے سے علی وزیر سزا بھگت رہے ہیں وہ کھلم کھلا مغلطات دینے والوں کے لیے کوئی بات ہی نہیں۔ جو بات سماجی پلیٹ فارم پر محض سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرنے والے ارسلان خان کو غائب کر دیتی ہے وہ بات ایک مخصوص جماعت کے لیے کس متانت سے ادارے برداشت کر رہے ہیں یہ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے مگر کچھ تو ہے جو پس آئینہ ہے۔ریٹائرڈ جنرل صاحب نے تحریک انصاف کے بینر لگے ڈائس پر اپنی تقریر میں یہ بھی فرمایا کہ وہ ’سچ مُچ کے نیوٹرل‘ ہیں اور کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں لیکن اس بات پر بھی زور دیا کہ ووٹ سسٹم کے لیے دیں اور سسٹم صرف تحریک انصاف میں ہے۔اب آپ صرف سادگی ملاحظہ کیجیے کہ جنرل صاحب سادہ الفاظ میں ’سسٹم‘ کی حمایت کے لیے ووٹ مانگ

سکتے تھے مگر اُنھوں نے ’سچ مُچ نیوٹرل‘ ہونے کا جو الزام خود پر لگایا ہے اسی سے اُن کی سچائی بھی ظاہر ہوتی ہے۔رہی بات سسٹم کو ووٹ دینے کی تو یہ بات بھی درست ہے کہ سسٹم کی تبدیلی کا جو منصوبہ اُنھوں نے تخلیق کیا تھا وہ تو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا البتہ اب ایک اور سسٹم کا خواب کہیں گوشے میں ضرور پنپ رہا ہے۔دوران ملازمت بظاہر غیر سیاسی جنرل سیاست سے اسی طرح دور رہتے ہیں جیسے شہد سے دور مکھی اور دودھ سے دور مکھن، البتہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب یہ سچ مُچ کے نیوٹرل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ اسی طرح کے مناظر سامنے آتے ہیں کہ سیاسی جھنڈے کے نیچے نیوٹریلیٹی کا عزم اور سسٹم کی بہتری کی قسم۔ایک بات پر تو جنرل صاحب کی ستائش بنتی ہے کہ جو شاہکار اُنھوں نے تعمیر کیا وہ آج بھی اُسی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ماہ و سال نے اُن کی وفاداری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی، جنھوں نے ایسا نہیں کیا وہ آج کل زیر عتاب ہیں اور نیوٹرل ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں۔نہ جانے اب اس کے بعد جنرل ریٹائرڈ پاشا بھی منظر عام پر آئیں اور ایسے تمام پس آئینہ کردار خفیہ پراجکیٹس کا اعتراف کریں۔ عمران خان کو جنرل ریٹائرڈ ظہیر اور جنرل ریٹائرڈ پاشا جیسے نیوٹرل چاہئے لیکن شاید موجودہ قیادت وہ خدمت اور سہولت مزید دینے سے قاصر ہے۔دعا ہے کہ سچی مچی نیوٹرل ہونے کی یقین دہانی کرنے والے پاکستان کے آئین کے حلف کی پاسداری کریں کہ اب وہ کبھی سیاست میں کردار ادا نہیں کریں گے۔

Categories
پاکستان

ٹک ٹاکر ڈولی کے نخرے : 4 پولیس اہلکاروں کی نوکری داؤ پر لگا دی

گوجرانوالہ (ویب ڈیسک) مارگلہ ہلزکے جنگلات میں آگ لگا کر ویڈیو بنانیوالی ٹک ٹاکر ڈولی کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوگئی۔ٹک ٹاکر گرل پان کھانے گوجرانوالہ اندرون شہر کالج روڈ پر ایک پان شاپ پر پہنچیں جہاں ایک سادہ لباس میں ملبوس پولیس کانسٹیبل ٹک ٹاکر گرل کا پروٹوکول مینجر بن کر ساتھ آیا۔ٹک ٹاکر کو

رش سے بچانےکے لیے یونیفارم پہنے تین پولیس اہلکار بھی حفاظت پر مامور تھے۔ڈولی کی یہ ویڈیو وائرل ہونے پر سی پی او نے نوٹس لے کر کانسٹیبل سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔اس حوالے سے سی پی او نے میڈیا کو بتایا کہ ویڈیو میں یونیفارم میں ملبوس نظر آنے والے 3 افراد پولیس ملازم نہیں ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ پولیس کانسٹیبل ویڈیوکے لیے ان تینوں افراد کو پولیس وردیاں پہنا کر ساتھ لایا۔اُنہوں مزید بتایا کہ ویڈیو میں پولیس یونیفارم میں نظرآنےوالے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

Categories
پاکستان

پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ ۔۔۔۔۔!!! لاہور ہائیکورٹ سے (ن) لیگیوں کی دوڑیں لگوا دینے والی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے انتخاب اور حلف کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عدالت وزیراعلیٰ کا الیکشن 16 اپریل کی پوزیشن پر دوبارہ کروانے کا سوچ رہی ہے۔اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ایک دن جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکلا نے

10 دن کا وقت مانگ لیا۔لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کے بطور وزیرِاعلیٰ انتخاب اور حلف کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت عالیہ کے 5 رکنی فل بینچ نے استفسار کیا کہ اگر وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ کروایا جائے تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے وزیراعلیٰ کو تمام صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی۔سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹا کر دوبارہ الیکشن کروائے جائیں، نئے الیکشن میں مخصوص نشستوں کے ان 5 ارکان کو بھی ووٹ ڈالنے دیا جائے جن کا لاہور ہائی کورٹ نے 27 جون کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو لوگ 16 اپریل کو رکن اسمبلی نہیں تھے، وہ ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، الیکشن ڈپٹی اسپیکر کی نگرانی میں ہی ہوگا۔بینچ نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ الیکشن کے بعد بھی اگر تحریک انصاف یہ سمجھے کہ مخصوص نشستوں کے ارکان کے آنے سے مسلم لیگ (ن) کے پاس اکثریت نہیں رہی تو وہ تحریک عدم اعتماد لا سکتی ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانا ضروری ہے، اس پر جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کرنے کا کہا تھا، کسی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نہیں۔جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ کا نوٹیفکیشن ٹھیک تھا یا نہیں، یہ دیکھنا لاء ڈویژن کا کام ہے۔کیس پر مزید سماعت 29 جون کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

Categories
انٹرنیشنل

ایک بھارتی طالبعلم کو فیس بک میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے تنخواہ والی ملازمت مل گئی ، مگر کیسے ؟ آپ بھی جانیے

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت کے ایک طالب علم کو فیس بک کمپنی میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے سالانہ کی ملازمت مل گئی۔کولکتا سے تعلق رکھنے والے بیساکھ موندال جادیوپور یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں چوتھے سال کے طالب علم ہیں۔بھارتی اخبار کے مطابق رواں سال یونیورسٹی کے کسی بھی طالب علم کو ملنے

والی یہ سب سے زیادہ تنخواہ کی ملازمت ہے۔قبل ازیں اسی یونیورسٹی کے 9 طلبہ بیرون ملک ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے جن کی سالانہ تنخواہ ایک کروڑ روپے سے زائد تھی۔بیساکھ اپنی نئی ملازمت کے لیے ستمبر میں لندن روانہ ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وبا کے دو سالوں میں انہیں مختلف اداروں میں انٹرن شپ کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی نصابی تعلیم کے علاوہ کافی معلومات حاصل کیں۔بیساکھ کو گوگل اور ایمیزون سے بھی ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی لیکن انہوں نے زیادہ تنخواہ کی وجہ سے فیس بک کا انتخاب کیا۔بیساکھ ایک لوئر مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی والدہ پیشے کے اعتبار سے نرس ہیں۔

Categories
پاکستان

حمزہ شہباز یا پرویز الٰہی : مسلم لیگ (ق ) کا شجاعت گروپ کس کی حمایت کرے گا ؟ اہم خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز کی حمایت کے دعووں کی تردید کردی۔ ق لیگی صدر نے کہا کہ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ صوبائی اسمبلی میں چوہدری پرویز الہٰی ہی ہمارے امیدوار ہیں،

ہمارے ارکان چوہدری پرویز الہٰی کو ہی ووٹ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ غلط افواہیں پھیلا کر ہمارے کسی رکن اسمبلی کو غلط فہمی میں ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ق لیگی ارکان پنجاب اسمبلی نے ہمیشہ پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کی ہے، انشاء اللّٰہ وہ چوہدری پرویز الہٰی کی ہی حمایت کریں گے۔چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی غلط بیانی نہیں کی، ہمیشہ صاف گوئی کا درس دیا، اس طرح کی بےبنیاد افواہیں نہ پھیلائی جائیں۔

Categories
پاکستان

خود تو نہ کر سکے مگر ۔۔۔۔۔۔عمران خان نے اتحادی حکومت کو معیشت ٹھیک کرنے کا طریقہ بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے، آصف علی زرداری اور شریف خاندان باہر پڑا اپنا پیسہ آدھا واپس لے آئیں۔ آن لائن پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم نے ملکی بجلی کے بحران پر بات کرتے ہوئے

اتحادی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں ایسی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی اب کیسے ہوگئی؟ آپ نے سازش کی، اب کہتے ہیں کہ سب کچھ پی ٹی آئی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ قیمتیں بڑھانے کا دباؤ عالمی وبا کے دوران بھی تھا، تاہم وبا کے دوران سب سے سستا ملک پاکستان تھا، ہم پر بھی دباؤ تھا لیکن ہم نے قیمتیں نہیں بڑھائیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کے منصوبے پر ن لیگ نے معاہدے کیے، پھر بھی ہم نے بجلی کی قیمت نہیں بڑھنے دی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت نے درآمدی فیول پر پاور پلانٹس لگائے تھے، اب بجلی بھی نہیں بن رہی اور پیسے بھی کیپسٹی چارجز میں دے رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اس حکومت سے نہ معیشت سنبھالی جارہی ہے اور نہ ہی قیمتیں کنٹرول میں ہیں، ان کا خیال ہے کہ صرف ظلم کر کے لوگوں کو کنٹرول کرلیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتانا ہوگا کہ سازش کر کے بحران کیوں پیدا کیا گیا، ہم نے روس سے تیل لینا تھا، انہوں نے سازش کی اور عدم استحکام پیدا کیا، ملک کو بحران سے نکالنے کی ان کی نیت اور صلاحیت ہی نہیں تھی۔سابق وزیراعظم نے بتایا کہ میں نے شوکت ترین کو کہا تھا کہ نیوٹرل کو بتاؤ کہ سیاسی بحران آئے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور جمہوریت اخلاقی قوت سے چلتی ہے ڈنڈے سے نہیں۔ سارے شہروں میں لوگوں کو پُرامن احتجاج کرنے کا کہہ رہے ہیں۔پنجاب کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حمزہ کی غیرقانونی حکومت بنی ہوئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت نے مخصوص نشستوں پر ان کو بے نقاب کردیا ہے، پنجاب میں لگ رہا ہے کہ حمزہ کی اب حکومت نہیں رہے گی۔عمران خان نے کہا کہ سیاستدانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدا جاتا ہے، پنجاب کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی کوششیں جاری ہیں۔

Categories
پاکستان

اپنی حکومت کے یہ فائدے ہوتے ہیں : لندن بیٹھے اسحاق ڈار کو پاکستان سے بڑی خوشخبری بھجوا دی گئی

لندن (ویب ڈیسک) لندن میں مقیم سابق وزیرِ خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کو نیا پاکستانی پاسپورٹ مل گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار جولائی کے تیسرے ہفتے میں پاکستان آئیں گے، جس کے لیے سفری تیاریاں بھی مکمل کرلی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے

اسحاق ڈار کو پاکستان جانے کی اجازت دے دی جبکہ کمر میں تکلیف کا علاج کرنے والے ہارلے اسٹریٹ کے ڈاکٹروں نے بھی اسحاق ڈار کو سفر کی اجازت دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیرِ خزانہ کو پاکستان آکر معاشی ٹیم کا حصہ بننے کا کہا تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار اپنے خلاف بنائے گئے مقدمات کا سامنا کریں گے جس کے لیے قانونی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اسحاق ڈار پاکستان پہنچتے ہی سینیٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔خیال رہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ستمبر 2018 سے لندن میں مقیم ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے اسحاق ڈار اور ان کی اہلیہ کے پاسپورٹ منسوخ کردیے تھے۔

Categories
منتخب کالم

عمران خان کے کہنے پر پوری قوم مصلے پر بیٹھی آسمان سے من و سلویٰ اترنے کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک ۔۔۔۔۔ کپتان کے نظریاتی مخالف کالم نگار کا دلچسپ تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عرفان اطہر قاضی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔خان کی شخصیت کا ایک کمزور ترین پہلو یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ نہ خود کچھ کرتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کوکوئی کام کرنے دیتے ہیں۔ کہیں کہیں ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر اس شخص سے

ایک انجانا خوف محسوس کرتے ہیں جو ان کی شخصیت پر حاوی ہوسکتا ہے۔خود نمائی ان کی شخصیت کا ایک ایسا نمایاں پہلو ہے جو انہیں ”میں“ سے ”میں نہ مانوں“ کی طرف لے جاتا ہے۔ انہیں اس بات کا ذرہ برابربھی احساس نہیں کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں ملک کو معاشی طور پر جس گرداب میں پھنسا دیا ہے اس میں غریب عوام کے ساتھ ساتھ سب ڈوب چکے ہیں۔ اب تو کسی دلیل یا ثبوت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ خود خان کابینہ کے وزیر خزانہ شوکت ترین یہ اعتراف کرچکے کہ تحریک انصاف دور میں قیام پاکستان سے اب تک مجموعی قرضوں کا76 فی صد حاصل کرکے پاکستان کا معاشی سفینہ ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا گیا جس کی قیمت آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ خان کے چاہنے والے ان سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ آخر اس قرض سے حاصل شدہ رقم کہاں غرقاب کردی۔وزیراعظم خان سے پہلی ملاقات کا تذکرہ زیر بحث ہے۔ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ، ہمیں یاد ہے ذرا ذرا۔ کہ جب ان سے پوچھاگیا کہ آپ نے قوم کو ایک سو دن کا ویژن دیا تھا اب آپ اس پر عمل کیلئے مزید چھ ماہ کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں آخر آپ کے ذہن میں پاکستان کو معاشی طور پر پاؤں پر کھڑا کرنے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کا کیا نسخہ ہے اور یہ جو آپ دعویٰ کررہے ہیں کہ بیرون ملک سے اربوں ڈالرسرمایہ کاری کی شکل میں پاکستان آئیں گے یہ سب کس طرح ممکن ہے؟

تو وزیراعظم خان کہنے لگے کہ آپ تھوڑا انتظار کریں اس حوالے سے ہماری تیاری بالکل مکمل ہے۔قومی خزانہ لوٹنے والے چوروں، کی سینکڑوں فائلیں تیار کی جاچکی ہیں۔ میں ان فائلوں کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہا ہوں ، جوں جوں انہیں پڑھتا ہوں میرے ہوش گم ہو جاتے ہیں کہ کس بے دردی سے ان لوگوں نے گیم ڈالی عنقریب بلاتفریق احتساب کا عمل شروع ہوگا۔ مجرموں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان سے لوٹ مار کا اتنا پیسہ نکلوا لیں گے کہ ہمیں کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور ہم قرضہ اتارنے کی پوزیشن میں ہوںگے۔وزیراعظم خان نے زور دے کر کہا ان چوروں، کی اندرون و بیرون ملک جائیدادوں کو فروخت کرکے اربوں ڈالر کا قرضہ اتاریں گے۔ بس کچھ دن کی بات ہے احتساب بیورواپنا کام شروع کر دے گا۔ آپ دیکھیں گے کہ قومی خزانہ لوٹ مار کی رقم کی واپسی سے بھر جائے گا۔ اس سے آگے کی کہانی تو آپ آج کل پڑھ ہی رہے ہیں کہ کسی مجرم کو سزا ملی نہ ہی کوئی ایسی بڑی ریکوری ہوئی کہ جسے مستند شدہ ریکارڈ پر لایاجاسکے۔ اُلٹا احتساب کے نام پر اربوں روپے کورٹ کچہری پسندیدہ وکلاءکو نوازنے پر لٹا دیئے گئے۔مشیر احتساب شہزاد اکبر، چیئرمین نیب سے لے کر چپراسی تک اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے۔ حکومتی سطح پر چیئرمین نیب کو ویڈیوز کی بنیاد پر پریشرائز کیا جاتا رہا۔ معصوم، بے گناہ لوگوں کو سالوں قید میں رکھ کر انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔مشیر احتساب شہزاد اکبر، وزیراعظم خان کو سب اچھا کی فلم دکھاتے رہے۔ اب ان کی چوری کی داستانیں زبان زدِ عام ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ لوٹ مار کے اس کاروبار میں بنی گالا کی نیک بیبیاں بھی شامل تھیں۔ اور یہ واحد خوش نصیب بیبیاں ہیں کہ جن کے دفاع میں خان کو ایک پوری وضاحتی پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ حقائق سب کے سامنے ہیں نہ پچھلوں کا احتساب ہوا نہ اگلوں کا ہوگا۔ اسی ملاقات میں وزیراعظم خان نے کہا کہ ہمیں تو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان کے پاس کتنی مالیت کے قدرتی وسائل ہیں۔آئل اینڈ گیس کے صرف چھ فی صد ذخائر ہی تلاش کئے جاسکے ہیں۔ کسی حکومت نے اس قدرتی خزانے کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اب ہم یہ خزانہ تلاش کرکے دکھائیں گے۔ یادش بخیر!پھر کچھ عرصے بعد وزیراعظم خان نے قوم کو یہ خوش خبری سنائی کہ کراچی کے سمندر میں قدرتی وسائل کا ایک بہت بڑا خزانہ ان کے ہاتھ لگ چکا ہے جو پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔پوری قوم وزیراعظم خان کے کہنے پر مصلّے پر بیٹھ کر آسمان سے من و سلویٰ اترنے کا انتظار کرنے لگی۔ دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر لگ گئیں، عربوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ اس سے آگے میری آنکھ کھل گئی ہر طرف ویرانہ ہی ویرانہ تھا۔ پھر ورلڈ بینک تھا اور آئی ایم ایف کی خوف ناک شرائط۔

Categories
پاکستان

مفتاح اسماعیل یا اسحاق ڈار : کون وزیر خزانہ کے طور پر بہتر رہے گا ؟ تجزیہ کاروں نے رائے دے دی

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ کار ارشاد بھٹی، حفیظ اللہ نیازی ، سلیم صافی اور ریما عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کی بجائے مفتاح اسماعیل کو ہی وزیر خزانہ رہنا چاہئے. اسحق ڈار ملک میں ہوتے تو ن لیگ کی وزیرخزانہ کیلئے آٹومیٹک چوائس اسحق ڈار ہی ہیں،

سندھ میں بلدیاتی انتخابات حکومتی مداخلت اور مار دھاڑ سے بھرپور تھے، اتحادی حکومت کی جو کھچڑی بنی ہے یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ تفصیلات کے مطابق میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال مفتاح اسماعیل کو وزیرخزانہ برقرار رہنا چاہئے یا اسحق ڈار کو وزارت سنبھالنی چاہئے؟ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کو وزیرخزانہ برقرار رہنا چاہئے. اسحق ڈار کے آنے سے نہ آئی ایم ایف نہ ہی مہنگائی بیروزگاری غربت ہماری جان چھوڑے گی، اسحق ڈار کے جھوٹے اعداد و شمار کی وجہ سے آئی ایم ایف ماضی میں پاکستان پر جرمانہ کرچکا ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ اسحق ڈار ملک میں ہوتے تو ن لیگ کی وزیرخزانہ کیلئے آٹومیٹک چوائس اسحق ڈار ہی ہیں.اسحق ڈار سیاست میں نہیں تھے تب بھی کاروباری برادری کا بڑا نام تھے، اسحق ڈار پاکستان کی تاریخ کے غیرمعمولی وزیرخزانہ تھے۔ سلیم صافی نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کو بطور وزیرخزانہ کام کرتے رہنا چاہئے، معیشت کا معاملہ صرف وزیرخزانہ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، ہماری معیشت ملکی حالات، سفارتکاری سمیت دیگر چیزوں سے بھی جڑ گئی ہے، اس ملک میں رہ کر جدوجہد کرنے والے کا حق حکمرانی پر زیادہ ہوتا ہے۔ریما عمر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو اسحق ڈار کے بجائے مفتاح اسماعیل کو وزیرخزانہ برقرار رکھنا چاہئے، مفتاح اسماعیل، شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف اور آصف زرداری نے جیلیں کاٹیں لیکن ملک سے باہر نہیں گئے۔دوسرے سوال سندھ میں گورننس پر شدید تنقید کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے سلیم صافی نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات حکومتی مداخلت اور مار دھاڑ سے بھرپور تھے، اتحادی حکومت کی جو کھچڑی بنی ہے یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں ہے. ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے اچھی وزارتیں خود رکھ لیں لیکن چھوٹی جماعتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے، آصف زرداری اندرون خانہ ایک اور گیم کھیل رہے ہیں، وہ جوڑ توڑ کرکے اور خود کو زیادہ لاڈلا ثابت کر کے دیگر جماعتوں سے لوگ توڑ رہے ہیں۔

Categories
انٹرنیشنل

عمران خان کے بھارتی دوست نوجوت سنگھ سدھو بھی اسٹیبشلمنٹ کے زیر عتاب ۔۔۔۔۔

لاہور (خصوصی رپورٹ ) نوجوت سنگھ سدھو کو ایک 34سالہ پرانے کیس میں عدالت نے ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔ انھوں نے بھرپور سیاسی دوڑ دھوپ کرکے مشرقی پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ، کیپٹن امریندر سنگھ، کو اقتدار سے فارغ کر دیا تھا۔قوی اُمید کی جا رہی تھی

کہ امریندر سنگھ کی جگہ نوجوت سنگھ سدھو ہی وزیر اعلیٰ منتخب کیے جائیں گے لیکن پھران کا زوال شروع ہوا ، پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیاں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے اسٹیبشلمنٹ کا ناراض ہو جانا ۔ چند حیران کن حقائق اس ویڈیو میں ۔۔۔۔۔

Categories
پاکستان

پنجاب اسمبلی کی پانچ مخصوص نشستیں اگر پی ٹی آئی کو مل جائیں تو پھر نمبر گیم کیا ہو گی ؟ اہم خبر

لاہور(ویب ڈیسک)پنجاب اسمبلی میں اگر پی ٹی آئی کو پانچ مخصوص نشستیں مل گئیں تو پارٹی پوزیشن کیا ہوگی؟حمزہ شہباز 16 اپریل کو پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے انہیں 371 کے ایوان میں 197 ووٹ ملے تھے جب کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان اسمبلی ڈی سیٹ ہوئے

جس کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران کی تعداد 346 رہ گئی۔اس وقت پنجاب اسمبلی میں حکومتی جماعت (ن) لیگ کے پاس 166 سیٹیں ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کے7، تین آزاد اور ایک راہ حق پارٹی کا ووٹ بھی (ن) لیگ کے پاس ہے، اس طرح (ن) لیگ کے حکومتی اتحادکے ووٹوں کی تعداد 177 بنتی ہے۔2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی کوپنجاب اسمبلی میں183 نشستیں ملی تھیں لیکن 25 منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی نشستیں 158 رہ گئیں۔اس وقت پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 158 اور (ق) لیگ کے 10 ارکان ملا کر اپوزیشن کے 168 ارکان بنتے ہیں اس لیے پی ٹی آئی کو 5 مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اپوزیشن اتحادکی تعداد173بنتی ہے یعنی مخصوص نشستوں کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر 4 ووٹوں کی برتری حاصل رہے گی۔

Categories
پاکستان

ملک بھر میں مون سون بارشوں کا دوسرا سلسلہ کب شروع ہو رہا ہے ؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں جمعرات سے مون سون بارش کا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کر دی۔محکمہ موسمیات کے مطابق 30 جون سے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال زیادہ بارشیں ہوں گی، پاکستان کے کچھ علاقوں

میں 10 سے 20 فیصد جبکہ کچھ علاقوں میں 20 سے 30 فیصد معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔

Categories
پاکستان

شہباز حکومت کا وہ فیصلہ جس سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ۔۔۔۔

اسلام آباد( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صاحب ثروت افراد پر ڈائریکٹ ٹیکس حکومت کا انقلابی قدم ہے، آئی ایم ایف سے معاہدہ جلد طے پائے گا، پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے. اب ترقی اور خوشحالی کے سفر پر گامزن ہوں گے، افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے دو ارب ڈالر سالانہ بچیں گے،

سابق حکومت نے جب گیس سستی تھی تو نہیں خریدی، اب تیل و گیس کی قیمتیں عالمی سطح پر بے پناہ بڑھ گئیں اور گیس نایاب ہو گئی۔پیر کو یہاں مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، بجٹ میں عام آدمی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ریلیف فراہم کیا گیا ہے، حکومت شمسی توانائی کے حوالے سے جلد پروگرام لے کر آ رہی ہے۔ہم جو اقدامات کر رہے ہیں. یہ قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے وژن کے تحت ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈائریکٹ ٹیکس سے چینی، سٹیل اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں متاثر نہیں ہوں گی، یہ ٹیکس مختلف شعبوں کے مالکان کی آمدن پر لگایا گیا ہے۔آئی ایم ایف نےبے پناہ کڑی شرائط رکھیں، سابق حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے اس کی دھجیاں اڑائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں خوردنی تیل کا بہت بڑا بحران پیدا ہونے والا تھا، پاکستان اس سے بچ گیا ہے. انڈونیشیاء کے صدر سے میں نے خود فون پر بات چیت کی اور ہمارے وزیر اپنے خرچے پر وہاں گئے۔ شاید جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے کیونکہ گیس نایاب ہے، سابق حکومت نے سستی گیس ملنے کے باوجود نہیں خریدی۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے کوئلے کی ترسیل آہستہ آہستہ بڑھے گی اور اس سے ہماری ٹرانسپورٹ اور ریلوے بھی چلے گی۔