Categories
پاکستان

حسن نثار نے شریفوں کی اصلیت بے نقاب کردی

لاہور (خصوصی رپورٹ ) نواز شریف کبھی نظریاتی ، کبھی تجارتی اور کبھی باغی کیوں بن جاتے ہیں ؟ ایک خاص وقفے کے بعد آنیوالی ان تبدیلیوں کے پیچھے کیا کہانی ہے ؟ سینئر کالم نگار صحافی اور تجزیہ کار حسن نثار نے اصل کہانی بیان کردین۔ اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو میں حسن نثار نے کیا کچھ کہا ،

آپ اس ویڈیو میں جانیں ۔۔۔

Categories
پاکستان

حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور (ویب ڈیسک ) فیصل آباد کے این اے 108 کے ضمنی انتخاب کیلئے جمع کرائے گئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نےمجموعی طور پر 30 کروڑ 42 لاکھ 78 ہزار 495 روپے کے اثاثے ظاہر کئے جبکہ ان کی

اہلیہ بشری بی بی کے نام پاکپتن اور اوکاڑہ میں 698 کنال اراضی اور بنی گالا میں ایک گھر موجود ہے ۔ عمران خان کی ملکیت میں دو لاکھ مالیت کی چار بکریاں بھی موجود ہیں تاہم دونوں میاں بیوی کے پاس زیورات اور گاڑی ہونے کے خانہ میں کچھ نہیں ظاہر کیا گیا جبکہ عمران خان کی کسی بھی کمپنی میں کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں ہے۔ وراثت میں ملنے والے دو گھر، بھکر میں 228 کنال زمین ظاہر کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ اسلام آباد میں کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر ایک فلیٹ اور ایک کمرشل پلاٹ اور 14 لاکھ کرایہ کی مد میں آمدن ظاہر کی گئی ہے ۔

Categories
پاکستان

عدالت کا حکومت سے سوال ،

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گِل کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کی حکومتی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل کی مقدمہ اخراج اور مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواستوں پر

اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق سماعت کر رہے ہیں۔شہباز گِل نے مقدمہ خارج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، جبکہ پراسیکیوشن نے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے مجسٹریٹ کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔دورانِ سماعت قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے وکلاء کو سیاسی گفتگو کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ ملزم سیاسی جماعت کا عہدے دار ہے، تاہم عدالت نے صرف قانونی نکتے کو دیکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم جو بھی ہے اس عدالت کے سامنے یہ بات بے معنی ہے، کورٹ کے سامنے قانونی کیس ہے جسے قانون کے مطابق دیکھنا ہے، عدالت کو یہ بتائیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کیسے قابلِ سماعت تھی؟جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے پھر تو بات ہی ختم ہو گئی، کسی ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنا سنجیدہ معاملہ ہے، بظاہر یہ لگتا ہے کہ سیشن عدالت کا ایک فورم موجود ہے کہ وہ سپروائز کر لے، سیشن عدالت دیکھ لے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کر دیا۔قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ریمانڈ دینے کی درخواست کے میرٹس پر نہیں جا رہا، پہلے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل سنوں گا، انہوں نے تو یہ بھی استدعا کر رکھی ہے کہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ہائی کورٹ ریمانڈ تو نہیں دیتی، ملزم ہمیشہ عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں کہ وہ دیکھے کہ ملزم کا کتنا ریمانڈ دینا ہے، جرم کتنا ہی سنگین ہو، ریمانڈ کا معاملہ مجسٹریٹ نے دیکھنا ہے، ابھی اس حد تک دلائل سن رہا ہوں کہ سیشن کورٹ میں اپیل سنی جا سکتی تھی یا نہیں؟عدالت نے شہباز گِل کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کی حکومتی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔عدالت نے قرار دیا کہ درخواست قابلِ سماعت ہوئی تو میرٹ پر دلائل کی تاریخ رکھیں گے۔شہباز گِل کی بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر عدالت نے سماعت جاری رکھی۔پٹیشنر کی جانب سے شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل کے بیان پر سیاق و سباق سے ہٹ کر کارروائی کی گئی۔

Categories
پاکستان

شادی کے 12 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش

کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کی مشہوراداکارہ و ماڈل کرن تعبیر کے ہاں شادی کے 12 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔اداکارہ نے گزشتہ روز انسٹاگرام پر خوشخبری دی کہ خدا نے انہیں بیٹی کی نعمت سے نوازا ہے اور یہ ان کی پہلی اولاد ہے۔کرن تعبیر نے انسٹاگرام پوسٹ کے کیپشن میں لکھا

‘وہ خوش قسمت ہوتے ہیں جن کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے، اللہ نے مجھے اسی سے نوازا ہے’۔اداکارہ نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ‘الحمد اللہ، اللہ نے آخر کار ہمیں 12 سال بعد اس رحمت سے نواز دیا، اب ہم والدین بن چکے ہیں’۔اداکارہ نے اپنی ننھی پری کا نام’ایزا حمزہ ملک ‘ رکھا ہے، ساتھ ہی انہوں نے مداحوں سے درخواست کی ہے کہ انہیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔

Categories
شوبز

اہم اعلان

ممبئی (ویب ڈیسک) آنجہانی بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کے والد نے کہا ہے کہ وہ جلد اپنے بیٹے کو نشانہ بنانے کی سازش کرنے والوں کو بے نقاب کریں گے۔ ایک جلسے میں خطاب کے دوران سدھو موسے والا کے والد نے کہا کہ میرا بیٹا یہ اندازہ ہی نہیں لگا سکا کہ جو اس کے

بھائی ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ اس کے دشمن بن گئے۔ خیال رہے کہ رواں برس 29 مئی کو شبھ دیپ سنگھ سدھو عرف سدھو موسے والا کو بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع منسا میں نشانہ بنا دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی ذمہ داری کینیڈا کی تنظیم لارنس بشنوئی کے رکن گولدی برار نے قبول کرلی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کیس میں ملوث 6 ملزمان میں سے دو کو انجام تک پہنچایا جا چکا ہے جبکہ 3 کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان میں سے ایک اب بھی مفرور ہے۔ سدھو کے والد بالکور کا کہنا تھا کہ کچھ غدار میرے بیٹے کے کیریئر کے دشمن بن گئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کیریئر کے ابتدا میں ان سے جو لوگ جڑ گئے تھے وہ درست لوگ نہیں تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ سدھو کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ جن لوگوں کو وہ اپنا بھائی سمجھ رہا ہے وہی کل اس کے دشمن بن جائیں گے۔ آنجہانی گلوکار کے والد نے کہا کہ ’اپنے بیٹے کے واقعہ میں ملوث ان افراد کے بھی نام لوں گا، بس وقت آنے دیں، یہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے، میں یہ واضح کردوں گا کہ آخر کون سدھو کے کیس میں ملوث تھا۔‘

Categories
پاکستان

حامد میر کے پروگرام میں انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ ایڈیشنل ہوم سیکریٹری پنجاب پر شہباز گِل کو اسلام آباد نہ بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔حامد میر نے انکشاف کیا کہ آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو فون پر کہا کہ شہباز گِل کی مدد کرو۔

سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آئی جی پرزن جات پنجاب پر شہباز گِل کو سہولتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو آئی جی پنجاب نے کہا مسٹر ایکس سے آرڈر مت لیں۔دوسری جانب ترجمان پنجاب پولیس نے سینیئر صحافی حامد میر کے آئی جی پنجاب سے منسوب بیان کی تردید کی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کیس میں آئی جی پنجاب کی کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی، یہ اسلام آباد پولیس، عدالت اور محکمہ پرزن پنجاب کامعاملہ ہے

Categories
اہم خبریں

حامد میر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور (خصوصی رپورٹ ) سینئر صحافی تجزیہ کار اور کالم نگار حامد میر نے نواز شریف کی ستمبر میں پاکستان واپسی کی خبروں پر تبصرہ کیا ہے ، حیران کن طور پر حامد میر نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی کا اب مسلم لیگ (ن) کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ نقصان ہو گا ،

حامد میر نے اس دعوے کی کیا دلیل دی ، آپ اس ویڈیو میں جانیں ۔۔۔۔۔

Categories
منتخب کالم

فوج کے خلاف غلط بیان اور شہباز گل کو تحریک انصاف میں چیف آف سٹاف کا عہدہ ملنے کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاسی Equation میں بھونچال اس وقت آیا جب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے فوج کے خلاف بہت زیادہ گمراہ کن بیان دے کر آ بیل مجھے مار کے مصداق قانون کی توپوں کا

رخ اپنی جانب کر لیا یہ احمقانہ اقدام ایک ایسے نازک وقت پر ہوا جب تحریک انصاف پہلے ہی بہت زیادہ رسوا کن سیاسی مشکلات کا شکار تھی۔شہباز گل کا بیان آئین سے کھلم کھلا غداری اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف پاکستان کی پہلی سیاسی پارٹی ہے جس نے اپنی پارٹی صفوں میں چیف آف سٹاف کا عہدہ فوج کے ساتھ stand off کے بعد متعارف کرایا جس کا مقعد عسکری اداروں کویہ پیغام دینا تھا کہ ہمارے پاس بھی اپنا چیف آف سٹاف ہے۔ یہ چیف آف سٹاف کا عمدہ پارٹی نے شہباز گل کو دے رکھا تھا اور اسے تمام مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کیلئے استعمال کیا جا تا تھا اس کی گھٹیا غلیظ اور اخلاق سوز زبان سے نہ کوئی خاتون سیاستدان محفوظ تھی اور نہ ہی مخالف سیاسی قیادت۔ اس طوفان بدتمیزی پر پارٹی اجلاسوں میں اس کیلئے تالیاں بجوائی جاتی تھیں جس سے وہ اور زیادہ نڈر ہو کر مخالفین کی charaucter assassination یا کردار کشی کرتا تھا وہ اس میں اتنا آگے نکل چکا تھا کہ اس نے وہی زبان قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کردی۔قومی سلامتی کے ادارے گزشتہ ہفتے فوج کے وطن پر جانیں نچھاور کرنے کے واقعہ پر تحریک انصاف کے منفی پراپیگنڈے پر پہلے ہی ناراض تھے شہباز گل کے خطرناک الفاظ آخری تنکا ثابت ہوئے عمران خان نے شہباز گل کی گرفتاری کو فوری طور پر تو اغ واء قرار دیا

مگر معاملے کی سنگینی کا احساس ہونے پر ایک پریس کانفرنس میں معاملے کو cool down کرنے کی کوشش کی وہ بہت گھبرائے ہوئے نظر آرہے تھے انہوں نے معاملے پر معذرت کرنے کی بجائے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ماضی کے فوج مخالف بیانات کو یاد دلا کر فوج کو مزید مشتعل کرنے کی کوشش کی کیو نکہ غذر گناہ بدتر از گناہ ۔ ایک موقع پر انہوں نے مغربی میڈیا کا حوالہ دے کر یہ بھی کہا کہ افغانستان پر ڈرون اٹیکس پاکستان سے کیا گیا ہے ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں معلوم حقیقت کیا ہے۔ یہ بہت بڑی کنفیوژن تھی جس سے ان کی پر یس کانفرنس نے معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھا دیاہے۔پولیس تفتیش میں ملزم کا جو موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا ہے جس سے اہم معلومات اور جرم سے متعلق معا ملات میں مدد ملے گی البتہ پولیس وہ پرچہ برآمد کرنے میں کا میاب نہیں ہو سکی جسے ملزم ٹی وی کیمرے کے سامنے پڑھ رہا تھا پولیس کو شبہ ہے کہ اسے ایسا کرنے کے لیے کہا گیا تھا یہ بات تفتیشی بیان میں بھی سامنے آ سکتی ہے اگر ملزم اپنے شریک کا ر کا نام بتادے یا تفتیش میں تعاون کرے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ عمران خان نے وزیرا عظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپنا چیف آف سٹاف کا عہدہ create کیا تھا اور کارپوریٹ سیکٹر میں CEO جب کسی کو چیف آف سٹاف مقرر کرتا ہے تو اس کے پاس CEO کے بہت سے اختیارات ہوتے ہیں یہ دیکھا جائے گا کہ چیف آف سٹاف نے یہ جو ورقہ بڑھا تھا یہ CEO کے ایماء پر تو نہیں

پڑھا گیا۔ اس کیس کے لئے 14 دن کا ریمانڈ مانگا گیا تھا مگر یہ اس سے پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ جائے گا البتہ جتنا طویل وقت لگے گا عمران خان اور پارٹی کی مشکلات بڑھتی جائیں گی۔اس میں اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اتحادی وزیرا علیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے شہباز گل کے بیان کی مذمت کی ہے اور اس کے ساتھ اظہار لا تعلقی کیا ہے اور چیئرمین عمران خان کو بھی ایسا کرنے کا کہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت میں سے کوئی بھی شہباز گل کی حمایت نہیں کر رہا نہ ہی کوئی احتجاج ہوا ہے ۔ یہ کیس جاوید ہاشمی کے مقدمے سے ملتا جلتا ہے۔ دفاعی اداروں کے اندر بھی اب اپنی پیشہ ورانہ ساکھ بحال کروانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کیونکہ سیاستدانوں میں اس طرح کے بیانات کی روش پر قابو پانا ضروری ہوگیا ہے ان حالات میں شہباز گل کو اپنے بیان کے انجام سے گزرنا ہوگا۔اس سارے واقعہ سے پی ٹی آئی کافی حد تک دفاعی پوریشن پر چلی گئی ہے اور ہو سکتا ہے کے جو جلسہ وہ اسلام آباد سے لاہور لے آئے تھے وہ اب انہیں لاہور سے بھی ملتوی کرنا پڑے 13 اگست کا جلسہ التوا نہ بھی ہوا تو بھی اس کا ٹرن آؤٹ اور لب ولہجہ کا فی مدھم ہو جانے کا امکان ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں شہباز گل کے بعد اگلا چیف آف سٹاف کون ہوگا۔ پارٹی کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ یہ عہدہ ختم کردیں یا اسے کوئی اور نام دیدیں۔ جنوں کا نام خرد رکھ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر تو یہ نام کسی کو مشتعل کرنے کیلئے رکھا گیا تھا تو یقینا یہ ہتھکنڈا فلاپ ہوچکا ہے۔ اس حوالے سے ایک ہلکی پھلکی مماثلت یاد آرہی ہے۔ ہمارے ہاں جب سستے پلاٹ سے ’’لیلن دیاں جوتیاں‘‘ بنانے کا آغاز ہوا تو مینو فیکچرز جو دیسی تھے انہوں نے اپنے برانڈز کے نام BMW اور مرسیڈیز رکھ دیئے۔ بچے یہ سینڈل پہن کر ایک دوسرے کو شوخی دکھاتے تھے ایک کہتا تھا میں BMW پر سکول آیا ہوں دوسرا جواب دیتا کہ تمھیں پتہ نہیں میرے پاس مرسڈیز ہے یہ محض سیاست کا حسن اتفاق ہے کہ ہو سکتا ہے اگلے چند دنوں میں عمران خان آرمی چیف آف سٹاف سے اپیل کرتے دکھائی دیں کہ ہمارے چیف آف سٹاف سے وہی سلوک کیا جائے جو ایک چیف آف سٹاف دوسرے چیف آف سٹاف سے روا رکھتا ہے۔ لیکن عقل اورسیاست دونوں کا یہ تقاضا ہے کہ جب آپ کو اصلی چیف کی طاقت کا ادراک تھا تو آپ نے اس کے آگے 2نمبر چیف بنا کر کیوں کھڑا کر دیا اور حد یہ کہ 2 نمبر چیف شیر کی کھال پہن کر اپنے آپ کو اصلی شیر سمجھنے لگ گیا۔ پھر جو ہوا یہ تو ہونا ہی تھا۔

Categories
منتخب کالم

اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کرکے نہ ہم الیکشن لڑ سکتے ہیں اور نہ جیت سکتے ہیں ۔۔۔۔ جاوید چوہدری کو دیے انٹرویو میں مونس الٰہی کے اعترافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’آپ کی جب ن لیگ سے چیف منسٹری فائنل ہو گئی تھی تو پھر آپ کو عمران خان کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ مونس الٰہی کا جواب تھا ’’میں مانتا ہوں

عمران خان عدم اعتماد سے پہلے تک پاپولر نہیں رہے تھے‘ میں حلقے میں جاتا تھا تو لوگ کہتے تھے چوہدری صاحب ہم اگلا الیکشن پی ٹی آئی کے ساتھ لڑ کر نہیں جیت سکتے‘ آپ حکومت سے جان چھڑا لیں مگر جب عدم اعتماد آئی تو لوگوں کی رائے تبدیل ہونا شروع ہو گئی‘ حلقے کے لوگوں نے کہنا شروع کر دیا‘ بارہ جماعتیں عمران خان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں‘ ہمیں اس وقت عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔میں نے لوگوں کے ذہن پڑھ لیے اور عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا اور میں اپنے بزرگوں کی مخالفت کے باوجود یہ کرتا رہا‘ وہ خواہ’’ خان صاحب اپنی پارٹی کے لوگوں سے کہیں آپ نے گھبرانا نہیں‘‘ جیسا بیان ہو یا پھر کابینہ میں میری گفتگو ہو‘ میرا خیال تھا ہمیں مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے اور میں نے اور ابا نے یہ کیا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کو شافع اور سالک کو بھی کنونس کرنا چاہیے تھا‘‘ ان کا جواب تھا ’’شافع ایم پی اے بننا چاہتا ہے۔میں نے اس کو آفر کی تھی آپ جہاں سے کہتے ہو میں تمہیں کھڑا کر کے پنجاب اسمبلی پہنچاؤں گا‘ تم بے شک میرے حلقے سے الیکشن لڑ لینا لیکن یہ فیصلہ نہیں کر سکا جب کہ سالک ابا کے حلقے سے ایم این اے ہے اور یہ کبھی حلقے میں نہیں گیا‘ میں نے اسے کئی مرتبہ کہا‘ تم حلقے کے اندر اپنا گھر یا ڈیرہ بناؤ‘ لوگوں سے ملو تاکہ تمہاری سیاسی گرومنگ ہو سکے

لیکن یہ نہیں مانا‘‘ میٹنگ میں موجود ایک دوسرے صاحب بولے ’’سالک صاحب پارٹی فنڈ سے حلقے میں ڈیرہ بنوانا چاہتے تھے‘ انھوں نے مجھے…‘‘مونس الٰہی نے فوراً ہاتھ کے اشارے سے انھیں خاموش کرا دیا‘‘ مونس الٰہی نے کہا ’’سالک نے الیکشن کمیشن میں 40 کروڑ روپے کیش ڈکلیئر کیا ہے۔ان کے پاس رقم بھی موجود ہے لیکن یہ اپنی رقم چوہدری شجاعت پر خرچ کرتے ہیں اور نہ حلقے میں‘ ماموں میری ذمے داری تھی‘‘ وہ صاحب دوبارہ بولے ’’جرمنی میں علاج بھی…‘‘ مونس الٰہی نے دوبارہ ہاتھ کے اشارے سے انھیں روک دیا اور بولے ’’یہ دونوں بھائی سیاسی لحاظ سے ایکٹو نہیں ہیں لیکن ان کے خواب بڑے ہیں اور یہ خواب تنازعے کی اصل جڑ ہیں‘‘۔میں نے پوچھا ’’یہ خبر گردش کرتی رہی آپ نے خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق کو کمرے میں بٹھا کر اندر سے کنڈی لگا کر بتایا تھا آپ کس کے کہنے پر عمران خان کے پاس بنی گالہ گئے تھے؟‘‘ یہ سیدھے ہوئے اور بولے ’’میں حلف دینے کے لیے تیار ہوں یہ بات غلط ہے‘ آپ خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق کے سامنے قرآن رکھ دیں اور میرے سامنے بھی رکھ دیں‘ یہ بات غلط نکلے گی‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا موجودہ حالات میں الیکشن ممکن ہیں؟‘‘ ان کا جواب تھا’’ہم اسٹیبلشمنٹ سے لڑ کر الیکشن کرا سکتے ہیں اور نہ جیت سکتے ہیں۔یہ حقیقت ہے آج اگر الیکشن ہو جائیں تو عمران خان ٹوتھرڈ نہیں تھری تھرڈ میجارٹی لے لیں گے لیکن ہمیں الیکشن تک جانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے اپنے فاصلے کم کرنا ہوں گے‘ میں نے خان صاحب کو مشورہ دیا‘ آپ اور آرمی چیف دونوں اکیلے

بیٹھ جائیں‘ وہاں کوئی تیسرا شخص نہیں ہونا چاہیے‘ آپ کی غلط فہمیاں چند لمحوں میں ختم ہو جائیں گی لیکن وہاں اگر کوئی تیسرا شخص ہوا تو پھر یہ دونوں اپنی اپنی پوزیشن پر قائم رہیں گے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ کی ملاقاتیں ہوئیں؟‘‘ یہ بولے ’’جی ہاں ہوئی ہیں۔آرمی چیف کے دل میں عمران خان کے خلاف کسی قسم کی کدورت نہیں‘ وہ کبھی ان کے خلاف بات نہیں کرتے۔ ہم نے اگر فیئر اینڈ فری الیکشن کرانے ہیں تو پھر ہمیں یہ فاصلہ کم کرنا ہوگا‘ اس کے بغیر کوئی آپشن نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کی والدہ کے بارے میں شنید ہے یہ عمران خان کی حامی ہیں‘‘ مونس الٰہی کا جواب تھا ’’میری والدہ قیصرہ الٰہی سیاسی لحاظ سے بہت سمجھ دار خاتون ہیں‘ چوہدری ظہور الٰہی انھیں سیاست میں لانا چاہتے تھے‘ وہ چوہدری شجاعت اور پرویزالٰہی کے بجائے ہمیشہ میری والدہ کو سیاسی مذاکرات میں لے کر جاتے تھے‘وہ سیاسی گفتگو کے دوران ابا اور ماموں کو کمرے میں نہیں گھسنے دیتے تھے‘والدہ انتہائی پڑھی لکھی اور سمجھ دار بھی ہیں۔پورے خاندان کے بچوں کے نام انھوں نے رکھے‘ شاید اسی لیے آپ کو ظہور الٰہی فیملی کے نام منفرد محسوس ہوتے ہیں‘ میں نے امریکن اسکول میں تعلیم حاصل کی‘ ہمیں وہاں اردو نہیں پڑھائی جاتی تھی‘ والدہ نے میرے لیے اردو کا ٹیوٹر رکھا اور میں جب اسکول سے آتا تھا اور میرے کزنز کھیلتے کودتے تھے تو والدہ مجھے کان سے پکڑ کر ٹیوٹر کے سامنے بٹھا دیتی تھیں اور یہ والدہ کی محنت کا نتیجہ ہے

میں اردو پڑھ بھی لیتا ہوں اور لکھ بھی لیتا ہوں جب کہ باقی سب رومن میں اردو لکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں‘ میری والدہ سیاسی لحاظ سے ہم سب سے آگے ہیں‘ یہ ہمیں بھی سمجھاتی اور بتاتی رہتی ہیں لیکن آپ انھیں چھوڑیں‘ ہمارے خاندان میں عمران خان کی سب سے بڑی فین اور ہمدرد چوہدری شجاعت حسین کی بیگم کوثر الٰہی ہیں۔یہ میری پھوپھی بھی ہیں‘ ہم نے جب عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو پھوپھو (چوہدری شجاعت کی بیگم) نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور میرا ماتھا بھی چوما تھا‘ آپ اس سے ان کی ہمدردی کا اندازہ کر لیجیے‘ میرا ماموں کے ساتھ یہی اختلاف ہے‘ آپ نے پوری زندگی میرے سامنے شریف فیملی کی برائیاں کیں‘ آپ مجھے بتاتے رہے ہمارے ساتھ فلاں موقع پر بھی ناانصافی ہوئی اور فلاں جگہ بھی ہم سے غلط بیانی کی گئی لیکن پھر آپ اچانک ان کے ساتھ مل گئے۔آپ کو چاہیے تھا آپ میرا سافٹ ویئر بھی اپ ڈیٹ کر دیتے تاکہ میں بھی ذہنی طور پر تیار ہو جاتا لیکن آپ نے اچانک یوٹرن لے لیا اور میں اس یوٹرن کو ہضم نہ کر سکا‘‘ میں نے آخری سوال کیا ’’کیا آپ پی ٹی آئی جوائن کریں گے یا اپنی پارٹی کو الگ رکھیں گے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’یہ قبل از وقت ہے‘ ہم اس وقت عمران خان کے اتحادی ہیں‘ ہمیں آگے چل کر اتحاد میں سیاسی مستقبل نظر آیا تو ہم اتحادی رہیں گے اور اگر حالات کا تقاضا ہوا تو ہم پی ٹی آئی میں باقاعدہ شامل ہو جائیں گے بہرحال ہم نے ابھی فیصلہ نہیں کیا‘‘۔

Categories
بڑی خبر

مشہور ایم این اے ڈی نوٹیفائی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی محمد میاں سومرو کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔واضح رہے کہ محمد میاں سومرو این اے 196 جیک آباد سے رکن قومی اسمبلی منتحب ہوئے تھے۔خیال رہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی محمد میاں سومرو

نے اسپیکر کو رخصت کی درخواست ارسال کی تھی۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے رکن محمد میاں سومرو کی رخصت کی درخواست مسترد کردی تھی۔اسپیکر نے ایم این اے محمد میاں سومرو کی نشست مسلسل غیر حاضری پر خالی قرار دے دی تھی۔خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر نے محمد میاں سومرو کی درخواست کا معاملہ ایوان میں رکھا تھا۔اسپیکر نے محمد میاں سومرو کی رخصت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما نے کوئی درخواست بروقت نہیں دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 40 روز کے اندر درخواست نہیں دی گئی، وقت گزرنے پر درخواست دی گئی۔واضح رہے کہ محمد میاں سومرو کی نشست خالی قرار دینے کی تحریک پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شاہدہ رحمانی نے پیش کی تھی۔اس تحریک میں کہا گیا تھا کہ محمد میاں سومرو ایوان کے اجلاسوں سے مسلسل 40 دن تک بغیر اجازت غیر حاضر رہے اور یہ ایوان دستور کے آرٹیکل 46 کی شق 2 کے تحت نشست خالی قرار دیتا ہے۔ایوان نے محمد میاں سومرو کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کی تھی۔قومی اسمبلی سے تحریک منظور ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے محمد میاں سومروکی نشست خالی قرار دی گئی، تاہم آج ای سی پی نے انہیں ڈی نوٹیفائی کردیا۔

Categories
پاکستان

بریکنگ نیوز

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر سمیع اللّٰہ علیزئی جمعیت علماء اسلام میں شامل ہوگئے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں شمولیتی پریس کانفرنس کے دوران سمیع اللّٰہ علیزئی نے کہا کہ عمران خان جیسے فتنے کو سب سے پہلے مولانا فضل الرحمان نے پہچانا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنی

حکومت کے دوران ملکی معاشرت اور معیشت سب کچھ تباہ کیا۔سابق صوبائی وزیر نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی امین گنڈا پور کو بھی ہدف تنقید بنایا اور اُن پر سیوریج سسٹم میں کروڑوں کی کمیشن لینے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور صاحب اب تمہیں منی ٹریل دینی ہے، تم نے کروڑوں کے سیوریج سسٹم میں کمیشن لیا ہے۔سمیع اللّٰہ علیزئی نے مزید کہا کہ علی امین تم پٹواریوں سے پیسے لیتے ہو، ملازمتیں دینے کے بھی پیسے لیتے ہو، پی ٹی آئی رہنما دیہاتیوں کو اداروں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اقتدار سے پہلے علی امین گنڈا پور کے پاس گھر کی دیوار بنانے کے پیسے نہیں تھے، آج یہ کروڑوں کی گاڑیوں میں کیسے گھومتے ہیں؟

Categories
اہم خبریں

حامد میر نے ساری کہانی بیان کردی

لاہور (خصوصی رپورٹ ) سینئر صحافی کالم نگار اور تجزیہ کار حامد میر نے 13 اگست کے ہاکی اسٹیڈیم لاہور کے جلسے میں چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے دی گئی خبر پر تبصرہ کیا ہے ۔ چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان صلح ہو رہی ہے ۔۔

حامد میر کا اس خبر پر تبصرہ نیچے دی ویڈیو میں ملاحظہ کریں ۔۔۔۔

Categories
پاکستان

چوہدری پرویز الٰہی نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنا دی

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے لیے بری خبر یہ ہے کہ وہ اختلافات پیدا کرنے میں ناکام ہوگئے کیونکہ عمران خان اور پاک فوج کے درمیان تعلقات بہترہوگئے ہیں۔ پرویز الہیٰ نے کہا کہ شریفوں نے ق لیگ اور پی ٹی آئی کو لڑانے کی سازش کی

، بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹ فوج اور عمران خان کے درمیان بھی اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے مگر انہیں ناکامی کا سامنا رہا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں ایسا پاکستان بنے گا کہ دنیا دیکھے گی اور کہے گی کہ عمران خان قائد اعظم کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا لیڈر ہے۔پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ پہلی بار وزیراعلی بنا تو تعلیم مفت کر دی، ن لیگ نے کاروبار پر پابندیاں لگا دی تھیں، میں نے آتے ہی تاجروں پر پابندیاں ختم کر دیں، منہگائی چند دنوں میں نہ صرف کم نہیں بلکہ ختم ہوگی، ہر اسپتال کی ایمرجنسی میں دوائیاں مفت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ احساس پروگرام کی میں بذات خود نگرانی کر رہا ہوں، ہنگامی حالات میں کام کرنے والے ڈاکٹر کو ڈبل تنخواہ ملے گی اور ہم صوبے میں سود کے کاروبار کو ختم کر کے دم لیں گے۔

Categories
پاکستان

حامد میر کا حیران کن تبصرہ

لاہور (خصوصی رپورٹ ) سینئر تجزیہ کار ، صحافی اور کالم نگار حامد میر نے عمران خان کی نااہلی کے بعد بننے والے منظر نامے اور شہباز گل کے فوج مخالف بیان پر اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ اگر عمران خان کو نااہل قرار دے دیا گیا تو کچھ نہیں ہو گا ۔

زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ۔۔۔۔حامد میر کا خصوصی تبصرہ نیچے ویڈیو میں ۔۔۔۔۔

Categories
پاکستان

آنکھوں دیکھا احوال

لاہور (ویب ڈیسک) جشن آزادی کے موقع پر مینار پاکستان پارک میں اوباش لڑکوں کی خواتین سے چھیڑ خانی کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ پولیس شہریوں کی بڑی تعداد کے باعث ان پر قابونہیں پاسکی۔ مینار پاکستان پارک میں عوام کا غیرمعمولی رش کے پیش نظر 800 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کردیئے گئے۔

اس دوران شدید رش میں اوباش لڑکوں نے خواتین سے چھیڑ خانی بھی کی خواتین کے ساتھ آئے مردوں اور اوباش لڑکوں کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی اورایک موقع پر ڈنڈے بھی چل پڑے۔پولیس کے پہنچنے سے پہلے منچلے فرار ہوگئے۔ علاوہ ازیں پولیس نے آزادی پل پر کھڑے اوباش لڑکوں کیخلاف لاٹھی چارج بھی کی۔ پولیس نے شہریوں سے چھیڑ خانی میں ملوث 65 اوباش لڑکوں کو حراست میں لے لیا۔

Categories
پاکستان

تازہ ترین ریٹ اس خبر میں

لاہور (ویب ڈیسک) امریکی ڈالر لمبی اڑان بھرنے کے بعد مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اس کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ استحکام کی طرف گامزن ہے۔آج صبح کاروبار کے آغاز میں انٹر بینک میں امریکی ڈالر 99 پیسے سستا ہونے کے بعد 214 روپے 50 پیسے کا ہو گیا۔دوسری جانب اوپن مارکیٹ

میں امریکی ڈالر 3 روپے سستا ہونے کے بعد 210 روپےکا ہو گیا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے آغاز پر مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔صبح سویرے ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 43 ہزار کی سطح عبور کر گیا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 524 پوائنٹس اضافے سے 43 ہزار 381 ہو گیا ہے۔

Categories
پاکستان

اعلیٰ قیادت کا بڑا فیصلہ

راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت نے اڈیالہ میں قید رہنما شہباز گِل سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔تحریک انصاف کے 3 وفود الگ الگ شہباز گِل سے اڈیالہ قید خانے میں ملاقات کریں گے۔پہلا وفد پی ٹی آئی اسلام آباد کے صدر علی اعوان کی قیادت میں اڈیالہ جا کر

شہباز گِل سے ملے گا۔قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے سابق چیف وہپ عامر ڈوگر شہباز گِل سے ملنے والے دوسرے وفد کی قیادت کریں گے۔سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شہزاد وسیم کی قیادت میں تیسرا وفد شہباز گِل سے قید خانے میں ملاقات کرے گا۔شہباز گل سے ملاقات کے بعد تینوں وفود پارٹی قیادت کو اپنے تاثرات سے آگاہ کریں گے۔

Categories
منتخب کالم

جان کر آپ یقین نہیں کریں گے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے، صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘

یہ گھر ہمارے نانا چوہدری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی انکی ناگہانی موت ہو گئی۔گھر بہت بڑا تھا لہٰذا اس کی تقسیم مشکل تھی اور یوں یہ سلسلہ لٹکا رہا‘ ماموں اور ابا کا بزنس مشترکہ تھا‘ ہمارے پاس دو شوگر اور دو ٹیکسٹائل ملیں تھیں‘ 2006 میں یہ اثاثے تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا‘ کنجاہ ٹیکسٹائل اور میاں چنوں شوگر مل چوہدری شجاعت کے بیٹوں نے لے لیں اور پھالیہ شوگر مل اور ملک وال ٹیکسٹائل ہمارے حصے آ گئی‘ مجھے فیکٹریاں چلانے کا تجربہ نہیں تھالہٰذا میں نے دونوں ملیں بیچنے کا فیصلہ کر لیا‘ پنجاب بینک کے صدر ہمیش خان ایک گاہک لے آئے‘ میں نے انھیں ٹالنے کے لیے ویلیو سے زیادہ ڈیمانڈ کر دی لیکن گاہک نے اوکے کر دیا اور یوں میں نے ملیں بیچ دیں۔ابا یہ نہیں چاہتے تھے‘ یہ مخالفت کرتے رہے مگر میں نے ملیں بیچ کر زمینیں خرید لیں‘ اللہ نے کرم کیا اور میرے اثاثوں میں اضافہ ہوگیا‘ شافع اور سالک نے بھی ہمیش خان سے خود رابطہ کر کے اپنی ملیں بیچ دیں‘ ان دونوں نے اپنی رقم کہاں لگائی میں نہیں جانتالیکن یہ ملیں بیچنے کا الزام میرے سر لگا دیتے ہیں جب کہ پراپرٹیز ان کی تھیں‘ یہ فیصلہ بھی انھوں نے خود کیا تھا‘ یہ نہ بیچتے‘ دوسرا ہماری لاہور میں للیانی میں زمین تھی‘ وہ زمین بھی ان کی مرضی سے تقسیم ہوئی تھی۔ان دونوں بھائیوں نے فرنٹ زیادہ لیا تھا اور مجھے پیچھے زمین دی تھی‘ میری قسمت‘

میری پچھلی زمین مہنگی بک گئی‘ انھیں اس کا بھی افسوس ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا گھر کی تقسیم پر بھی کوئی جھگڑا تھا؟‘‘ یہ بولے ’’ایک نہیں کئی جھگڑے تھے‘ یہ گھر ماموں شجاعت کی خواہش پر تقسیم ہوا تھا‘ مجھے ماموں نے کہا تھا تم ایل ڈی اے سے کاغذات نکلواؤ اور گھر تقسیم کر دو‘ گھر کی تقسیم کسی طرح نہیں ہو پا رہی تھی‘ ہمارے بیڈرومز اور ڈرائنگ روم تک تقسیم ہو رہے تھے لہٰذا ماموں نے فیصلہ کیا جس کا گھر جہاں ہے اسے اسی طرح قبول کر لیا جائے لیکن پھر پیمائشوں کا تنازع شروع ہو گیا۔کبھی ایک پیمائش شروع کر دیتا تھا اور کبھی دوسرا‘ پیمائش کے اس تنازعے کے دوران اشرف مارتھ مرحوم کے صاحب زادے منتہیٰ اور چوہدری وجاہت کے بیٹے موسیٰ الٰہی کی لڑائی بھی ہوئی اور یہ تماشا گھر کے ملازمین نے بھی دیکھا‘ شجاعت ماموں کے دو بیٹے (شافع اور سالک) اور ایک بیٹی (خیریا) ہیں‘ خیریا کی شادی ایک سعودی شہری سے ہوئی‘ یہ سعودیہ میں رہتی ہیں‘ ماموں نے مجھے بلا کر کہا‘ تم لاہور والے گھر کا میرا حصہ خیریا کے نام ٹرانسفر کر دو‘ میرے بیٹے میرے بعد اسے نہیں دیں گے‘ میں نے کر دیا تو خیریا نے آ کر مجھ پر الزام لگا دیا تم میرے 13 مرلے کھا گئے ہو‘ میں نے ماموں سے کہا‘ آپ میرے حصے میں سے جتنا لینا چاہتے ہیں لے لیں اور یوں ماموں نے اپنا بیڈروم میرے حصے تک ایکسٹینڈ کر دیا مگر مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں‘‘۔

Categories
منتخب کالم

شہباز گل اگر ٹوٹ گیا ہے تو کوئی قربانی کیوں نہیں ہوئی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آخر مشکل یہ ہے کہ ہولناک الزامات کی یلغار میں گھرا ہونے کے باوجود کپتان تن کر کھڑا ہے۔اس سے بھی سوا یہ کہ ہر بار اس کی آواز پہ غمگسار امنڈے چلے آتے ہیں۔بچے ‘ بوڑھے‘ عورتیں سب سے بڑھ کر

جوانانِ رعنا اور وہ جدید بستیوں کے وہ مکین‘ ابھی کل تک کارِسیاست سے جو بے زار تھے۔سیاستدانوں کی طرف جو نگاہ غلط انداز سے دیکھتے اور اپنے محسوسات کی دنیا میں داخل ہونے نہ دیتے: سایۂ ابرِ گریزاں سے ’’ہمیں‘‘ کیا لینا ریگ زاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں پانچ سات دن چلیے‘ پانچ سات ہفتے میاں صاحب ہجوم گرما لیں گے۔اس کے بعد کیا ہو گا؟جب لات چلے گا بنجارہ ۔نہلے پہ جب دہلا پڑے گا۔سو سنار کی ایک لوہار کی۔زمان پارک کے مکین نے کسی دن مینار پاکستان کے نواح کو تمتاتے چہروں سے بھر دیا تو کیا ہو گا۔کیا ہو اگر یہ لوگ لاہور کے کوچہ و بازار میں نعرہ زن ہوں؟ لاہور ہی پہ کیا موقوف قصور‘ شیخو پورہ‘ گوجرانوالہ‘ فیصل آباد‘ ساہیوال‘ خانیوال‘ ملتان‘ گجرات ‘ راولپنڈی اور پشاور کے علاوہ دریائے کابل کے پار ایک ایک دیار میں۔ اس کے سوا بھی تو ایک دیوار راہ میں ہے۔دیوار کیا سدِ سکندری۔ ججوں نے اگر انکار کر دیا‘ عدالت نے قانون کی پاسداری کا مصمم ارادہ کر لیا؟ سیاست میں تاویل کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی۔قانون کو کبھی کبھار ہی موم کی ناک بنایا جا سکتا ہے۔حالات جب سازگار ہوں ‘ خلق خدا جب متوجہ نہ ہو۔آج کے پاکستان میں دو اور دو چار کی طرح کچھ حقائق ایسے ہیں جو ہمالہ کی طرح اٹل ہیں۔عدالت عظمیٰ جس کا حکم کوئی منسوخ نہیں کر سکتا‘میاں صاحب سزا یافتہ ہیں۔ اس شرط کے ساتھ جیل سے رہائی اور سمندر پار سفر کی اجازت ملی تھی کہ چار چھ ہفتے میں لوٹ آئیں گے۔لوٹ کر کیا آتے؟ علاج کی ابتدا ہی نہ ہوئی ۔وہ جو پلیٹ لیٹس کا شور شرابا تھا۔نرا شور شرابہ ہی نکلا۔یہ اکیسویں صدی ہے۔معالج اور مشینیں بتا سکتی ہیں کہ مریض کبھی مبتلا بھی تھا یانہیں: تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ خلقِ خدا کے ساتھ فریب دہی تو کارِ سیاست میں کبھی کوئی جرم تھا ہی نہیں مگر عدالت کو دھوکہ دہی؟ برادرِ کلاں ہی نہیں ممکن ہے وزیر اعظم بھی طلب کئے جائیں۔’’حضور!آپ نے پیمان کیا تھا؟ شخصی ضمانت آپ نے دی تھی‘‘۔ شہر شہر ایسے میں ہجوم اگر فریاد کناں ہوں؟چیخ چیخ کر پوچھ رہے ہوں۔ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟ منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟ ایسے میں کوئی لشکر کیا کرے گا؟ سالار کیا کریں گے؟ اگر عدالت ہی عرصہ امتحان میں ہوئی؟کیا کوئی ڈوبنے والا بھی بوجھ اٹھایا کرتا ہے؟ پس تحریر: اتنے بہت سے اخبارات اوراتنے بہت سے چینل یک آوازاونچے سروں میں گا رہے ہیں کہ شہباز گل ٹوٹ گیا ہے؟ واقعی ایسا ہے؟ تو کوئی قربانی کیوں نہیں؟کوئی انکشاف کیوں نہیں؟

Categories
منتخب کالم

کیا اسٹیبلشمنٹ مسلسل غیر جانبدار رہ پائے گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے 2013میں پہلی مرتبہ عمران خان کو لاڈلے کا خطاب دیا تھا لیکن یہ میری بھی توقع نہیں تھی کہ وہ اس قدر لاڈلے بن جائیں گے کہ پارٹی فنڈنگ کیس کے فیصلے کو برسوں تک لٹکایا جائے گا۔

ان کے سول نافرمانی کے اعلانات اور پی ٹی وی پر دھاوے تک کے جرائم سے چشم پوشی اختیار کی جائے گی اور ان کی کابینہ میں مغرب اور پڑوسی ملکوں کے ایجنٹوں کو برداشت کیا جائے گا۔ لیکن نیوٹرلز کی انوسٹمنٹ غالباً اتنے طویل عرصے پر ہی محیط تھی اور ان کی خاطر دشمنیاں اتنی لی گئی تھیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان کے وہ وہ نخرے اور وہ وہ لاڈ نیوٹرلز نے برداشت کئے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یوں لاڈلے اور لاڈلے کے لاڈلوں شہباز گل، شبلی فراز، فواد چوہدری، فیصل جاوید، اعظم خان اور اسی طرح کے دیگر لاڈلوں کے نخرے بھی حد سے بڑھنے لگے۔ پی ٹی آئی نے بدعنوانی میں پیپلز پارٹی کو مات دی۔ نااہلی میں ایم ایم اے کو مات دی اور نیوٹرلز کے ساتھ چھیڑخانی میں مسلم لیگ (ن) کو مات دی۔ قومی سلامتی کے فیصلے بنی گالہ میں عمل اور سحر اور خوابوں سے ہونے لگے اور لاڈلا الٹا نیوٹرلز کے ادارے میں گھس کر اپنی من مانی کرنے لگا۔ دوسری طرف معیشت تباہ کردی۔ ناقص سفارت کاری سے پاکستان کو ہر دوست سے محروم کردیا۔ ان کی ناکامیوں کی وجہ سے فوج کو مغلطات پڑنے لگی۔ چنانچہ تنگ آکر فوج نے نیوٹرل بننے اور سیاست سے لاتعلق ہو کر آئینی رول تک محدود ہونے کا فیصلہ کیا لیکن لاڈلے کو فوج کی یہ ادا پسند نہ آئی۔ اب ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ وہ جاکر اپنے محسنوں سے معافی تلافی کرتے لیکن اس کی بجائے انہوں نے پریشرائزنگ اور دبائو کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی سازش کے جھوٹے بیانیےکا اصل مقصد بھی ریاست اور فوج کو آزمائش سے دوچار کرنا تھا۔

ماضی میں بھی کئی جماعتیں اور پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں فوج پر تنقید کرتی رہی ہیں لیکن ان کی تنقید یہ رہی کہ آپ نیوٹرل ہوکر آئینی رول تک محدود کیوں نہیں ہوتے جب کہ عمران خان کی تنقید جہاں سخت تھی، وہاں ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ نیوٹرل بننے کی بجائے غیر آئینی طور پر مجھے سپورٹ کیوں نہیں کرتے؟ پروپیگنڈے کے زور پر لاڈلا اپنا یہ جھوٹا بیانیہ عوام کی ایک بڑی تعداد میں راسخ کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ اسے سازش کے تحت نکالا گیا۔ دوسری طرف لاڈلے کی یہ خوش قسمتی تھی کہ ان کی متبادل جو حکومت آئی وہ چوں چوں کا مربہ تھی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی اپنی بندربانٹ میں لگی رہیں۔ ان کی نفسا نفسی اور زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کا یہ عالم ہے کہ آج تک حکومت صوبوں کے گورنر نہیں لگا سکی نہ بیانیہ بنا سکی اور نہ اسے پھیلانے کے لئے موثر میڈیا ٹیم سامنے لا سکی۔ شہباز شریف کو مولانا ایک طرف کھینچتے ہیں، زرداری دوسری طرف، اپنی پارٹی کے لوگ تیسری طرف اور بیوروکریسی چوتھی طرف جس کی وجہ سے ان کی قوت فیصلہ ہی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف نیوٹرل، واقعی نیوٹرل ہوگئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت جانے، عمران خان جانے، نیب جانے اور عدالت جانے، جب کہ حکومت اس انتظار میں بیٹھی تھی کہ ان کے لئے اسی طرح مسائل حل کئے جائیں جس طرح لاڈلے کیلئے کئے جاتے تھے۔ اس صورتِ حال سے لاڈلے کو اور حوصلہ ملتا تھا۔ عدلیہ میں ان کی سپورٹ اور اداروں میں بعض لاڈلوں کے ان کے ساتھ اور ان کےحامی میڈیا کی درپردہ حوصلہ افزائی سے ان کا حوصلہ اور بڑھا اور یہاں تک بڑھا کہ جنرل سرفراز اور دیگر افسران و جوانوں کے وطن پر نچھاور ہونے کی آڑ میں سوشل میڈیا کے ذریعے گندی سیاست کھیلی اور بعد میں بنی گالہ کے اندر کچھ سابق وزرا کے مشورے سےفوج میں پھوٹ ڈالنے کے لئے شہباز گل سے منصوبہ بندی کے ساتھ ایسا بیان دلوایا گیا کہ جس میں نچلے رینک کے لوگوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ چنانچہ نیوٹرلز کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا ۔ نیوٹرلز نے کسی حد تک اپنی نیوٹریلیٹی ختم کردی لیکن عمران خان کے لئے نہیں بلکہ اپنے ادارے کو بچانے کے لئے۔ جس کا آغاز شہباز گل سے ہوگیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیوٹرلز کس حد تک غیرجانبدار بنتے ہیں اور کس حد تک متحرک ہوتے ہیں ۔ پھر دیکھنا ہوگا کہ ان کے متحرک ہونے کی صورت میں عمران خان کے ساتھ کون کون کھڑا رہتا ہے؟