Categories
پاکستان

اگلا بجٹ کیسا ہونا چاہئے ؟ حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ایف بی آر نے اگلے بجٹ کیلیے ایف پی سی سی آئی، چیمبرز اور تاجر تنظیموں سے تجاویز طلب کرلیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال 2023-24ء کے لیے بجٹ کی تیاری شروع کر دی ہے اور فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)

اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، تاجر و صنعتکار تنظیموں سمیت ایف بی آر کے فیلڈ فارمشنز سے بھی آئندہ مالی سال2023-24ء کے وفاقی بجٹ کیلیے یکم مارچ 2023ء تک بجٹ تجاویز طلب کرلی ہیں، اس مقصد کیلیے لیٹرز ارسال کردیے گئے ہیں۔ دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ایف پی سی سی آئی اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت فیلڈ فارمیشنز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو تین صفحات پر مشتمل مختلف کٹیگریز کیلئے فارمیٹ بھی بھجوائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان کے مطابق بجٹ تجاویز ارسال کی جائیں۔ ایف بی آر کی جانب سے چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بذریعہ ای میل اپنی بجٹ تجاویز ایف بی آر کو ارسال کی جائیں تاکہ ان کا جائزہ لے کر قابل عمل تجاویز کو اگلے مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا جاسکے ۔ دوسری جانب پاکستان نے آئی ایم ایف سے مطالبات پر عملدرآمد کے لیے مانگ لیا۔ آئی ایم ایف کے مشن ہیڈ نیتھن پورٹر کی سربراہی میں وفد نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ، وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا سمیت وزیر اعظم کے معاونین خصوصی طارق پاشا اور طارق باجوہ نے بھی شرکت کی جب کہ ملاقات میں نویں اقتصادی جائزہ مذاکرات کے شیڈول اور خدوخال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت میں معاشی اہداف پر بھی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئی ایم ایف کے وفد نے بجٹ میں اعلان کردہ فیصلوں کے مطابق بجٹ خسارہ 4.9 فیصدرکھنےکا وعدہ پورا کرنے کا کہا اور بجٹ فیصلوں کےمطابق پرائمری خسارہ جی ڈی پی کا0.2فیصدرکھنےکاوعدہ پوراکرنے کا بھی کہا گیا۔ آئی ایم ایف وفد نے مطالبہ کیا کہ برآمدی شعبےکو 110ارب روپے کااستثنا ختم کیا جائے، ایف بی آر کی طرف سے 7470 روپے ٹیکس وصولیوں کاہدف ہرحال میں پورا کیاجائے، اس کے علاوہ گردشی قرض میں خاطر خواہ کمی لائی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 855 ارب روپے وصولی کا ہدف پورا کرنے کا بھی کہا گیا، ریاستی کمپنیوں کی کارکردگی بہتر کرکے ان کا خسارہ بھی ختم کرنے کا کہا گیا ہے، آئی ایم ایف نے نجکاری پروگرام پر عمل درآمد کرنے کا کہا جب کہ آئی ایم ایف نے مالی خسارے اور نقصانات کی نشاندہی بھی کی۔ حکام وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے مالی نظم و ضبط پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے غریب طبقے کے لیے سبسڈی کی مخالفت نہیں کی ا ور آئی ایم ایف بی آئی ایس پی کے تحت ریلیف جاری رکھنے پر بھی آمادہ ہوگیا ہے۔