Categories
پاکستان

معاملات کس طرف جانے لگے!! نگران پر ڈیڈ لاک برقرار، بڑی خبر آگئی

پشاور: (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ کی تشکیل پر گورنر اور سابق اپوزیشن لیڈر اکرم درانی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا غلام علی اور سابق اپوزیشن لیڈر اکرم درانی کی گورنر ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں نگران کابینہ کے معاملے پر مشاورت کسی حتمی نتیجے

پر نہیں پہنچ سکی۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا میں نگران کابینہ کےنام فائنل نہیں کیے جاسکے ہیں اور پی ڈی ایم جماعتیں ابھی تک اپنےنام فائنل نہیں کرسکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اکرم خان درانی کی دو روز میں گورنر خیبرپختونخواسےدوسری ملاقات ہوئی وہ گزشتہ روز بھی 8 گھنٹےسے زیادہ گورنر ہاؤس میں موجود رہے۔ ذرائع کا بتانا ہےکہ پی ڈی ایم نے نگران کابینہ کےلیے 16 سے 18 ناموں کی فہرست تیارکی ہے جب کہ وزیراعلیٰ اعظم خان مختصر کابینہ بنانے کے حامی ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے گزشتہ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے صرف منحرف اراکین اور چھٹیوں کی درخواست دینے والے 2 اراکین باقی رہ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کر کے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی 43 اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اب تک کن ارکان کے استعفے منظور ہوئے؟ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے۔ اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔