Categories
پاکستان

فواد چودھری کی گرفتاری میں کس نے کیا کردار ادا کیا؟ شیخ رشید نے بھانڈا پھوڑ دیا

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فواد چودھری کی گرفتاری میں الیکشن کمیشن سیاسی فریق بن گیا ہے، الیکشن کمیشن کا کام پرچے کروانا نہیں، انتخابات کروانا ہے، جو قوم الیکشن کمیشن پر اعتبار نہیں کر رہی وہ الیکشن کے نتائج پر کیا خاک

اعتبار کرے گی۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سے پہلے گرفتاریوں کا دور شروع ہوگا، جس کے بعد جام حکومت کا سڑکوں پر کام تمام ہو جائے گا، حکومت کے ارادے واضح ہو گئے ہیں، عوام کو سمجھ جانا چاہیے، یہ الیکشن نہیں کچھ اور کرنے جا رہے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ چھوٹا بھائی پرائم منسٹر ہے اور بڑے بھائی کے پاکستان آنے پر پاؤں میں مہندی لگی ہے، الیکشن کا مطالبہ کرنے والے الیکشن میں جانے کے لئے تیار نہیں، نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والے عنقریب قوم کے احتساب کی بھینٹ چڑھیں گے، زرمبادلہ کے ذخائر 4 بلین سے کم اور آئی ایم ایف کی شرائط سر پر ہیں، وزیروں کا جمعہ بازار لگا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی، اقتصادی، معاشی اور توانائی بحران حکومت کے گلے پڑنے والا ہے، ملک جام ہے ، حکومت کا کام تمام ہے، فواد چودھری کی گرفتاری جلتی پے پٹرول کا کام کرے گی، اب ملک الیکشن کے بجائے تشدد کی راہ پر چل پڑا ہے، فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے گزشتہ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے صرف منحرف اراکین اور چھٹیوں کی درخواست دینے والے 2 اراکین باقی رہ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کر کے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی 43 اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اب تک کن ارکان کے استعفے منظور ہوئے؟ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے۔ اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔