Categories
پاکستان

رہنماؤں کے بعد پی ٹی آئی کارکن بھی مشکل میں، حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا

راولپنڈی: (ویب ڈیسک) گزشتہ سال نومبر میں پی ٹی آئی کی جانب سے کیے گئے احتجاج میں شامل کارکنوں اور عہدیداروں کیخلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں اورعہدے داروں پر گزشتہ سال نومبر میں کیے احتجاج کے دوران جی ٹی روڈ کو بانٹھ مندرہ کے مقام پر بند کرنے، خلاف

قانون مجمع لگانے اور نعرے بازی پر مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے کی ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے عہدیداروں راجہ ساجد جاوید، راجہ عبدالوحید قاسم، ملک یاسر، مون چوہدری، ملک طاہر، امیر افضل ، راجہ ضیا، ملک وحید اختر، شہزاد خان، مرزا بشیر، غنی پٹھان، مبین افضل ، رب نواز قریشی سمیت ایک سو ستر نامعلوم کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے گزشتہ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے صرف منحرف اراکین اور چھٹیوں کی درخواست دینے والے 2 اراکین باقی رہ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کر کے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی 43 اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اب تک کن ارکان کے استعفے منظور ہوئے؟ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے۔ اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔