Categories
پاکستان

فواد چودھری کی گرفتاری کے بعد عمران خان نے بڑا اعلان کر دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت مجھے کبھی گرفتار نہیں کر سکتی۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اِن کے اپنے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں، لہٰذا امپورٹد حکومت مجھے کبھی گرفتار نہیں کر سکتی۔

گزشتہ شب زمان پارک سے عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے خدشات کے پیش نظر کارکنوں کی بڑی تعداد کے پہنچنے اور احتجاج کرنے پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 22 کروڑ عوام تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پارٹی رہنما فواد چودھری کی گرفتاری پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ فواد چودھری تحریک انصاف کے ہراول دستے کے کارکن ہیں، ان کے خلاف کیس انتقامی کارروائی ہے۔ عمران خان نے اپنی ممکنہ گرفتاری سے متعلق پارٹی کے سینئر رہنماؤں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو ہدایات بھی جاری کردیں۔ ادھر زمان پارک لاہور میں واقع رہائش گاہ سے چیئرمین پی ٹی آئی کی ممکنہ گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر تحریک انصاف کے کارکن مختلف شفٹس میں احتجاج کریں گے ۔ پہلے مرحلے میں لاہور کے مختلف ٹاؤنز کے کارکن زمان پارک کے باہر ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے گزشتہ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے صرف منحرف اراکین اور چھٹیوں کی درخواست دینے والے 2 اراکین باقی رہ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کر کے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی 43 اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اب تک کن ارکان کے استعفے منظور ہوئے؟ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے۔ اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔