Categories
پاکستان

ریکارڈ ٹوٹ گئے: ڈالر کی قیمت میں یکدم بڑا اضافہ

لاہور: (ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک کے پریشر کی وجہ سے ڈالر کا ریٹ تبدیل کردیا گیا۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے 25 پیسے مہنگا ہوکر 243 روپے تک پہنچ گیا۔ ایکسچینج کمپنیز کا اسٹیٹ بینک میں اجلاس ہوا جس کے بعد ایکسچینج کمپنیز نے ڈالر کا ریٹ پھر سے تبدیل کر دیا۔ اوپن کرنسی

مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے 25 پیسے مہنگا ہوکر 243 روپے کر دیا گیا۔ اوپن کرنسی میں ڈالر 240 روپے 60 پیسے میں خریدا جائے گا۔ ایکسچینج کمپینز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 243 روپے میں فروخت کیا جائے گا، اوپن مارکیٹ میں ڈالر پر کیپ ہٹانے کے بعد پہلا ریٹ 252 روپے 50 پیسے جاری ہوا تھا، ڈالر پر کیپ لگنے کی وجہ سے بلیک مارکیٹ پروان چڑھی تھی، ڈالر پر کیپ ہٹنے سے بلیک مارکیٹ کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایکسچینج کمپینز نے ڈالر پر کیپ ہٹا دیا، جو بھی ریٹ اوپن مارکیٹ میں ہوگا اس میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی، اسٹیٹ بینک کو اجلاس میں ڈالر پر کیپ ہٹانے سے آگاہ کر دیا، جن ایکسچینج کمپینز پر پابندی عائد کی گئی ہے اس پر ایک کمیتی بنای دی گئی ہے، اسٹیٹ بینک کو تمام اہم امور پر آگاہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے گزشتہ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے صرف منحرف اراکین اور چھٹیوں کی درخواست دینے والے 2 اراکین باقی رہ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کر کے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ اب اطلاعات ہیں کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی 43 اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اب تک کن ارکان کے استعفے منظور ہوئے؟ یاد رہے کہ چند روز قبل بھی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے منظور کیے تھے۔ اس کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی 2022 میں بھی پی ٹی آئی کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے تھے جس میں سے کراچی سے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے عدالت میں درخواست دائر کر کے اپنے استعفے کی درخواست واپس لے لی تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے 20 جنوری کو پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان کے استعفے منظور کیے تھے۔ اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔