Categories
پاکستان

پنجاب میں تقرر و تبادلے!! پی ٹی آئی نے بڑی چال چل دی

لاہور: (دنیا نیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سانحہ 25 مئی میں ملوث اور پی ڈی ایم قیادت کے قریب افسران کی پنجاب میں تقرری رکوانے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق تحریک انصاف نے 18 افسران کی پنجاب میں تقرری رکوانے کے لئے

الیکشن کمیشن کو درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی بلال صدیق کمیانہ اور سمیر سید کے خلاف درخواست دے گی، تحریک انصاف کی جانب سے سہیل ظفر چٹھہ، نبیل اعوان اور دیگر افسران کے خلاف بھی درخواست دی جائے گی۔ درخواست میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی جائے گی کہ سانحہ 25 مئی میں ملوث افسران کو نگران سیٹ اپ پنجاب میں تعینات نہ کیا جائے، پی ڈی ایم کے ایجنڈے پر کام کرنے والے افسران کو بھی نگران سیٹ اپ میں نہ لگایا جائے۔ دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختون خوا میں عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے معاملے پر چیف الیکشن کمیشن نے اہم اجلاس طلب کرلیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوگا، عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے اخراجات اور تیاریوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات ایک ہی دن نہ کرانے کی تجویز دی جائے گی، حکام نے پنجاب کے عام انتخابات یکم سے 10 اپریل تک کرانے کی تجویز دی ہے جبکہ کے پی میں 10 سے 15 اپریل تک انتخابات کراوئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ضمنی انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں کروانے کی تجویز زیر غور ہے تاہم عام انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں ہوگا۔ عام اور ضمنی انتخابات میں اخراجات کا تخمینہ بھی لگا لیا گیا ہے تاہم دونوں صوبوں اور ضمنی الیکشن پر تقریبا 15 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔ الیکشن کے دوران پنجاب میں 53 ہزار، کے پی 17 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم ہوں گے جہاں 7 لاکھ تک پولنگ اسٹاف کی ضرورت ہوگی، دونوں صوبوں کے عام انتخابات میں 5 لاکھ تک پولیس فورس تعینات ہوگی جبکہ عام انتخابات میں حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر فوج اور رینجرز تعینات کی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد گورنر کو عام انتخابات سے متعلق خط لکھا جائے گا، جس کے بعد گورنرز الیکشن کمیشن کی مجوزہ تاریخ کا جائزہ لیکر حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔