Categories
پاکستان

توشہ خانہ کی تفصیلات!! وفاقی کابینہ نے بڑا قدم اٹھالیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت میں کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 4 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، اجلاس میں کابینہ نے توشہ خانہ کے حوالے سے بین

الوزارتی کمیٹی کی رپورٹ کا جائز ہ لیا، جبکہ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ کے حوالے سے نئی پالیسی پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ نے توشہ خانہ کی نئی پالیسی میں مزید ترامیم تجویز کر دیں، بین الوزارتی کمیٹی نے توشہ خانہ پر نئی پالیسی کابینہ اجلاس میں پیش کی، بین الوزارتی کمیٹی توشہ خانہ میں مزید ترامیم کرکے پالیسی پیش کرے گی۔ بجلی بریک ڈاؤن کا معاملہ بھی وفاقی کابینہ میں غور آیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے بریک ڈاؤن پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈویژن کے حکام کی سرزنش کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بتایا جائے بجلی کیوں بند ہوئی اور فوری طور پر بحال کیوں نہ ہو سکی، وزیر اعظم کو وزیر توانائی نے بجلی بریک ڈاؤن پر بریفنگ بھی دی جس پر وزیراعظم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کی جانب سے بجلی بریک ڈاؤن پر بریفنگ بھی دی گئی، کابینہ اجلاس میں ای سی سی اور لیجیسلیٹو کمیٹی کے فیصلوں، توانائی بچت سے متعلق میڈیا کمپین کی منظوری دی جائے گی۔ گزشتہ ہفتے معاون خصوصی تعینات ہونے والے فہد ہارون کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پبلک کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل ریفارمز کا قلمدان سونپ دیا، اس سے پہلے معاون خصوصی فہد ہارون کے پاس کوئی قلمدان نہیں تھا۔ دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختون خوا میں عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے معاملے پر چیف الیکشن کمیشن نے اہم اجلاس طلب کرلیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوگا، عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے اخراجات اور تیاریوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات ایک ہی دن نہ کرانے کی تجویز دی جائے گی، حکام نے پنجاب کے عام انتخابات یکم سے 10 اپریل تک کرانے کی تجویز دی ہے جبکہ کے پی میں 10 سے 15 اپریل تک انتخابات کراوئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ضمنی انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں کروانے کی تجویز زیر غور ہے تاہم عام انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں ہوگا۔ عام اور ضمنی انتخابات میں اخراجات کا تخمینہ بھی لگا لیا گیا ہے تاہم دونوں صوبوں اور ضمنی الیکشن پر تقریبا 15 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔ الیکشن کے دوران پنجاب میں 53 ہزار، کے پی 17 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم ہوں گے جہاں 7 لاکھ تک پولنگ اسٹاف کی ضرورت ہوگی، دونوں صوبوں کے عام انتخابات میں 5 لاکھ تک پولیس فورس تعینات ہوگی جبکہ عام انتخابات میں حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر فوج اور رینجرز تعینات کی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد گورنر کو عام انتخابات سے متعلق خط لکھا جائے گا، جس کے بعد گورنرز الیکشن کمیشن کی مجوزہ تاریخ کا جائزہ لیکر حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔