Categories
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان

اسلام آباد: )ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز بجلی کی بندش کی وجہ سے ہمارے شہریوں کو

ہونے والی زحمت پر دلی افسوس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، بجلی کی خرابی کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری جاری ہے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ ادھر وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہیسکو کے تمام گرڈ اسٹیشنز بحال کر دیئے گئے ہیں، نیشنل گرڈ کے تمام 1112 گرڈ اسٹیشنز بحال کر دیئے گئےہیں، ملک میں بجلی مکمل طور پربحال کر دی ہے۔ لیسکو کے تمام 176، سیپکو کے 69 اور کیسکو کے 65 گرڈ اسٹیشنز بحال ہیں، پاور پلانٹ دوبارہ چلانے کے لیے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، تربیلا پاور پلانٹ چلا کر دیگر پلانٹس کو بجلی دی گئی۔ آج صبح 5 بجکر 15 منٹ پر ملک بھر میں بجلی مکمل بحال کر دی تھی۔ انہوں کہا کہ آج صبح 5 بجکر 15 منٹ پر ملک بھر میں بجلی مکمل بحال کر دی تھی، کول پاور پلانٹ کو بحال کرنے کے لیے 48 گھنٹے درکار ہوتے ہیں، ساہیوال کول پراجیکٹ اور اینگروکول پراجیکٹ کو بھی فعال کر رہے ہیں، وزیراعظم نے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنائی ہے، بریک ڈاؤن ہونے میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کریں گے، کچھ ایسی چیزیں ہوئی ہیں جس پر بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کا بھی کچھ شبہ ہے۔ دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختون خوا میں عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے معاملے پر چیف الیکشن کمیشن نے اہم اجلاس طلب کرلیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوگا، عام انتخابات اور ضمنی الیکشن کے اخراجات اور تیاریوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات ایک ہی دن نہ کرانے کی تجویز دی جائے گی، حکام نے پنجاب کے عام انتخابات یکم سے 10 اپریل تک کرانے کی تجویز دی ہے جبکہ کے پی میں 10 سے 15 اپریل تک انتخابات کراوئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح ضمنی انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں کروانے کی تجویز زیر غور ہے تاہم عام انتخابات سے متعلق حتمی فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں ہوگا۔ عام اور ضمنی انتخابات میں اخراجات کا تخمینہ بھی لگا لیا گیا ہے تاہم دونوں صوبوں اور ضمنی الیکشن پر تقریبا 15 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔ الیکشن کے دوران پنجاب میں 53 ہزار، کے پی 17 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم ہوں گے جہاں 7 لاکھ تک پولنگ اسٹاف کی ضرورت ہوگی، دونوں صوبوں کے عام انتخابات میں 5 لاکھ تک پولیس فورس تعینات ہوگی جبکہ عام انتخابات میں حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر فوج اور رینجرز تعینات کی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس کے بعد گورنر کو عام انتخابات سے متعلق خط لکھا جائے گا، جس کے بعد گورنرز الیکشن کمیشن کی مجوزہ تاریخ کا جائزہ لیکر حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے۔