Categories
پاکستان

ایک پاگل پاکستان کے پلے پڑ گیا!!! اسمبلیاں توڑنے ۔۔۔ خواجہ سعد رفیق نے بڑی بات کہہ ڈالی

لاہور: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے و رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کا کوئی جواز نہیں تھا، پرویز الہٰی اور محمود خان نے اسمبلیاں توڑنے کی کوئی آئینی وجہ بیان نہیں کی، اسمبلیاں توڑ کر اختیارات کا بے جا اور ناجائز استعمال کیا گیا ہے۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میں اس وقت الیکشن کے حق میں نہیں ہوں، انتخابات کب ہوں گے یہ تو الیکشن کمیشن ہی بتا سکتا ہے، عمران خان کی مقبولیت کراچی میں فارغ ہو چکی ہے، الیکشن کے لئے سب کو ایک پیج پر آنا چاہیے، الیکشن کروا دینا اور الیکشن الیکشن کھیلنا یہ تو مسئلے کا حل نہیں ہے، لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور آئی ایم ایف کو پاکستان میں پھر بلانا پڑگیا ہے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ قومی اسمبلی سے استعفے دیئے تو اس وقت کونسی چیز کاٹ گئی تھی جو اس وقت استعفے دیئے گئے، انہوں نے اسمبلیوں کو تماشہ بنایا ہوا ہے، انہیں اسمبلیوں میں الیکشن لڑنے کا حق حاصل نہیں، پہلے منتخب ہوتے ہو یا “چنتخب” ہوتے ہو پھر استعفیٰ دے دیتے ہو، پھر کہتے ہو اسمبلیاں توڑیں گے، یہ پاگل آدمی پاکستان کے پلے پڑگیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ جو سہولت کار عمران خان کو لے کر آئے ان کو بھی اللہ سزا دے گا، انہوں نے ملک کا حال خراب کر دیا ہے، ذمے ہمارے پڑگیا ہے، 4 سال یہ اور اس کے سہولت کار گند ڈالتے رہے، روز نئے تجربات کرتے تھے جس دن نوازشریف کو نکالا گیا اس دن سے تماشا شروع ہوگیا تھا۔ دوسری جانب ملک میں جاری معاشی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مافیا کی جانب سے ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں شمالی علاقوں میں فی کلوگرام ایل پی جی کی قیمت 300روپے کی سطح تک پہنچ کر تیسری سینچری مکمل کرگئی۔ ملک میں قدرتی گیس کی کمی اور سردی کی شدت سے ایل پی جی من مانی قیمت پر فروخت کی جارہی ہے جبکہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں 204روپے فی کلو پر فروخت ہونے والی ایل پی جی 280روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ چئیرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے ایکسپریس کو بتایا کہ پہاڑی اور دور دراز پسماندہ علاقوں میں تو فی کلوگرام ایل پی جی 310روپے میں فروخت کی جارہی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں 360روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں قیمت میں مزید حیرت انگیز اضافے کا خدشہ ہے۔ مافیا نےصارفین کو مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور کردیا ہے۔ عرفان کھوکھر نے کہا کہ جام شورو جوائنٹ وینچر گزشتہ 2سال سے بند ہے جسے فوری آپریشنل کیا جائے، جے جے وی ایل کی بندش سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا۔