Categories
اہم خبریں

خبردار: پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بُری خبر آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) ملک میں توانائی کے بحران کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بینکوں نے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کے سلسلے میں لیٹر آف کریڈٹ دینے اور اس کی توثیق سے انکار کر دیا ہے۔ آئل ایڈوائزری کونسل نے سیکریٹری فنانس اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی توجہ اس گھمیر صورت حال
کی جانب مبذول کرائی ہے۔ آئل ایڈوائزی کونسل کی جانب سے لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تیل کمپنیوں کے ممبران اور ریفائنریز کی جانب سے اس امر کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے کہ بینک تیل درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹ فراہم نہیں کر رہے اور ایل سیز وقت پر فراہم نہیں کیے گئے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی واقع ہوگی اور اگر طلب اور رسد میں فرق پیدا ہوا تو صورت حال کو قابو کرنے کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔ اپنے مراسلے میں آئل ایڈوائزی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کی جانب سے ایل سیز وقت پر نہ کھولنے کے باعث متعدد درآمدی شپمنٹ تاخیر کا شکار ہیں اور بہت سے کیسنل کرنا پڑی ہیں۔ تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور تاخیر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ وزارت پیٹرولیم اور مرکزی بینک مداخلت کرتے ہوئے تیل کے درآمدی عمل کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے ہیسکول پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی کو تیل کی درآمد کے سلسلے میں بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو ملک میں تیل کی سپلائی میں کمی واقع ہوگء جس سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم نے 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی نشاندہی کر دی۔ عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔ اگلے دو سال تک پاکستان کو خوراک کی کمی، سائبر سیکیورٹی مہنگائی اور معاشی بحران کے خطرات درپیش ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو عدم استحکام کے ساتھ خوارک،قرضوں کے بحران کا سامنا ہے،خطے کے ممالک آبی وسائل کو علاقائی تنازعات میں بطور ہتھیار بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں سیلاب سے آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین تباہ ہوئی، جس سے اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔