Categories
منتخب کالم

’’سیاسی انجیرنگ ‘‘ کا کھیل جاری!!! ملک میں اصل طاقت کا مرکز کون ؟ رازوں سے پردہ اٹھ گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سلمان عابد اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے داخلی، علاقائی یا خارجی حالات کا تقاضا ہے کہ ہمیں ایک مضبوط سیاسی، معاشی اور انتظامی نظام کی طرف بڑھنا ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایک مضبوط سیاسی نظام یا سیاسی حکومت درکار ہے۔ کمزور سیاسی و معاشی نظام ہمیں کوئی مثبت نتائج نہ پہلے دے سکا ہے اور نہ آیندہ دے سکے گا۔

ہماری سیاست میں عدم اعتماد، محاذ آرائی، مہم جوئی ، ٹکراؤ، سیاسی دشمنی یا سیاسی کشیدگی کا ماحول بھی قومی مفاد کے برعکس ہے۔ہم سیاسی، معاشی، انتظامی اور سیکیورٹی جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر جہاں کھڑے ہیں اس سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگا ، کون کرے گا، کب کرے گااو رکیوں کرے گا جیسے سوالات کی روشنی میں ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کیونکر ان معاملات کے حل میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ بنیادی طور پر ہماری سیاسی تاریخ سیاسی مہم جوئی یا سیاسی انجینئرنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم کسی کی حمایت میں یا کسی کی مخالفت میں اپنے سیاسی، انتظامی او رقانونی اقدامات کرتے ہیں ۔ ان موجودہ حالات میں ہمارا کمزور سیاسی نظام ہماری سب سے بڑی ناکامی بھی ہے۔ اس میں یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ جہاں اس کی ذمے داری اسٹیبلیشمنٹ پر عائد ہوتی ہے وہیں ہماری سیاسی قیادت یا سیاسی جماعتیں سمیت دیگر فریقین بھی کسی نہ کسی حوالے سے ذمے دار ہیں۔ کیونکہ ہماری سیاسی کمزوری کی داستان کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوئی بلکہ اس میں سب نے ہی اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے ۔اس لیے مسئلہ کا حل کسی ایک پر الزام دے کر آگے بڑھنے کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کو سر جوڑبیٹھنا ہوگا کہ کیسے ہم خود بھی اور ملک کو بھی بحرانی کیفیت سے باہر نکال سکتے ہیں ۔ اگر پاکستان میں موجود تمام فریق اپنے اپنے سیاسی، انتظامی ، قانونی یا آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں تو حالات کو بہتری کی طرف جایا جاسکتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کی بجائے دوسروں کے دائرہ کار میں مداخلت کرکے کام کرنے کے عادی بن گئے ہیں۔ ہمیں دو سطحوں پر سیاسی مہم جوئی یا سیاسی انجینئرنگ کے بحران کا سامنا ہے ۔ اول اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلتوں کا کھیل ۔دوئم سیاسی قوتیں خود بھی سیاسی عمل میں جاری عمل کو کمزور کرنے یا کسی کی حکومت کو بنانے یا گرانے کے کھیل میں خود بھی سازشی کھیل کو ترتیب دینا یا کسی کا حصہ بننا بھی ہمارے سیاسی نظام کی کمزوری کا سبب بن رہا ہے۔ لیکن شائد یا تو ہمیں انداز ہ نہیں یا ہم لاشعوری طور پر منفی کھیل کا حصہ بن گئے ہیں یا ہمارے سامنے ریاستی، ملکی مفاد کے مقابلے میں ذاتیات پر مبنی سیاست نے اہمیت اختیار کرلی ہے ۔ ہماری اسٹیبلیشمنٹ کے بقول وہ سیاسی معاملات دور ہے۔ ایسا ہے تو یہ قابل تعریف ہے ۔ کیونکہ سیاسی عمل میں مداخلتوں کے کھیل نے ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیلا ہے۔ لیکن اسٹیبلیشمنٹ کی یہ کمٹمنٹ جہاں قابل تعریف ہے وہیں اس پر عملدرآمد کا نظام یا اس پر ان کی مضبوط کمٹمنٹ جو عملی بنیادوں پرنظر آئے وہ بھی توجہ طلب ہے۔ اس وقت بھی ہماری سیاسی قیادت چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا حز ب اختلاف سے سب کی نظریں اسٹیبلیشمنٹ پر ہی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ اصل طاقت کا مرکز بھی یہ ہی ہیں ۔ لیکن سیاسی قوتوں کی خواہش یا فرمائش کے باوجود اسٹیبلیشمنٹ کو خود کو نیوٹرل رکھنا ہوگا۔یہ تاثر بہت مضبوط بنیادوں پر سیاسی قوتوں کو جانا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی معاملات خود حل کریں اور بلاوجہ سیاسی معاملات میں ہمیں مت الجھائیں ۔

یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جس انداز میں ہمارے اداروں او ربالخصوص سیکیورٹی اداروں پر سوشل میڈیا پر تنقید ہورہی ہے، وہ بھی ہماری ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔اس لیے اسٹیبلیشمنٹ سمیت عدلیہ جیسے اداروں کا بیک فٹ پر ہونا خود ان ہی ریاستی اداروں کے حق میں ہوگا۔ آج کل کراچی میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں کا اتحاد ، سندھ کے گورنر کا متحرک کردار ، سابق گورنر چوہدری سرور، جہانگیر ترین کے حوالے نئی سیاسی پارٹی کی بازگشت،بلوچستان میں باپ پارٹی سمیت بہت سے لوگوں کی پیپلزپارٹی میں شمولیت ، ایسے واقعات ہیں جن پر سب لوگ اپنے اپنے انداز میں باتیں کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ سارا کھیل ظاہر کرتا ہے کہ ہم آج بھی قومی سیاست میں سازشی کھیل سمیت اپنے ذاتی مفاد یا پسند و ناپسند کی بنیاد کو فوقیت دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کھیل سے ہم قو می سیاست ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت آئین کی بالادستی کی جنگ کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اسی طرح کیا یہ سارا کھیل قومی معیشت اور سیکیورٹی کے معاملات میں بہتری کے نئے امکانات کو پیدا کرسکتا ہے تو جواب یقینا نفی میں ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ریاستی و سیاسی ترجیحات کو تبدیل کریں او رایک مستحکم سیاسی نظام کی طرف پیش رفت کی جائے ۔ بلاوجہ قومی سیاست یا ریاستی نظام کو تجربہ گاہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ اب موجودہ حالات میں ہم اس طرح کے نام نہاد او رناکام تجربوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہماری ترجیحات بدلنی چاہیے اور اس میں بنیادی کنجی سیاسی او رمعاشی استحکام کی ہونی چاہیے ۔ ہماری سیاسی اشرافیہ یا رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کی بھی انفرادی یا اجتماعی ذمے داری ہے کہ وہ قومی سیاست میں ’’سیاسی انجیرنگ ‘‘ کے کھیل کے آگے بندھ باندھیں اور سب فریقوں پر دباؤ ڈالیں کہ ہمیں صاف اورشفاف نظام اور انتخابی عمل میں بغیر کسی سیاسی مداخلت کے جانا چاہیے۔اس وقت بنیادی ذمے داری شفاف انتخابات اور انتقال اقتدار تک ہی محدود ہونی چاہیے ۔