Categories
منتخب کالم

جنرل باجوہ اور فیض حمید نے عمران کو نااہلی سے کیسے بچایا؟جاوید چوہدری نے اندر کی کہانی بتا دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سال 2017 میں اپنے اثاثے چھپانے کے الزام پر عمران خان کو اہل اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہیں بلکہ دو وکلاء نے لکھا تھا جنہیں یہ ذمہ داری تب کے ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس میجر جنرل فیض حمید نے تفویض کی تھی۔

اس سے پہلے عمران خان نے جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ انہیں اس کیس میں سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل ہونے سے بچایا جائے۔ یہ ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن اور صحافی جاوید چوہدری اپنی تازہ تحریر میں بتاتے ہیں کہ عمران کی باجوہ سے ملاقات ان کے ساتھی جہانگیر خان ترین نے کروائی تھی جسکے بعد جنرل باجوہ نے عمران کے حق میں فیصلہ کروانے کے لیے جنرل فیض حمید کی ڈیوٹی لگائی۔ جاوید چوہدری دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کو دو وکیل دیے گئے جنہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی قسمت کا فیصلے لکھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ثاقب نثار دونوں میں سے کسی ایک کو نااہل قرار دینا چاہتے تھے، چنانچہ فیض حمید کی جانب سے مہیا کردہ وکلا نے ایسا ہی فیصلہ لکھا جو ثاقب نثار نے صرف پڑھ کر سنایا۔ حال ہی میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے ان کی ذاتی رہائش گاہ پر 6 گھنٹے طویل ملاقات کرنے والے جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ اپنے مخالف سیاست دانوں کو این آر او لینے کے طعنے دینے والے عمران خان نے خود 2017 میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے این آر او حاصل کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ نااہلی سے بچ گئے تھے اور اگلے برس انہیں وزارت عظمیٰ پر فائز کر دیا گیا تھا۔ عمران کے این آر او کی تفصیل بیان کرتے ہوئے جاوید کہتے ہیں کہ مسلم لیگی رہنما حنیف عباسی نے نومبر 2016 میں سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دو پٹیشنز دائر کیں۔ حنیف عباسی کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اپنی لندن والی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ اور بنی گالا کی تین سو کنال اراضی کی منی ٹریل چھپائی۔

انکا دوسرا الزام یہ تھا کہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نے بھی اپنی آف شور کمپنیاں، بیرون ممالک اثاثے اور ساڑھے اٹھارہ ہزار ایکڑ اراضی چھپائی، لہٰذا یہ دونوں حضرات آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے اور انہیں نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ تب ثاقب نثار چیف جسٹس‘ قمر جاوید باجوہ آرمی چیف اور میجر جنرل فیض حمید اور آئی ایس آئی میں ڈی جی سی تھے۔ جنرل باجوہ کے ایما پر فیض حمید کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی سربراہی میں تین رکنی بینچ بنا دیا۔ نعیم بخاری خان صاحب کے اور اکرم شیخ حنیف عباسی کے وکیل تھے‘ سماعت شروع ہوئی تو عمران اور ترین پھنستے چلے گئے۔عمران خان نے تین بار اپنا موقف تبدیل کیا لیکن بات بنتی نظر نہ آئی‘ عمران کی 2017 کے وسط تک جنرل باجوہ سے کوئی ملاقات نہیں تھی‘ جہانگیر ترین نے جنرل قمر باجوہ سے رابطہ کیا اور عمران کو ساتھ لے کر ان کے گھر پہنچ گئے۔ عمران خان نے جنرل باجوہ سے مقدمے میں مدد مانگی‘ نواز شریف اس وقت تک پاناما کیس میں ڈس کوالیفائی ہو چکے تھے اور عمران کی ڈس کوالیفکیشن سامنے نظر آ رہی تھی۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے ڈی جی سی میجر جنرل فیض حمید کو عمران خان کی مدد کرنے کی ہدایت کر دی۔ ان کا خیال تھا کہ ایک وزیراعظم ڈس کوالیفائی ہو چکا ہے اور اگر عمران بھی الیکشن سے پہلے ہی ڈس کوالیفائی ہو گیا تو پاکستان کیسے چلے گا؟ فیض حمید نے ملک کے ایک مشہور وکیل کو اپنا ایلچی بنا کر چیف جسٹس ثاقب نثار کے پاس بھجوا یا۔

یہ وکیل صاحب لاہور میں چیف جسٹس سے ملے‘ ابتدائی بات چیت ہوئی۔اس کے بعد فیض حمید اور ثاقب نثار کی ملاقات ہوئی‘ بابا رحمتے کہلانے والے تب کے چیف جسٹس عمران خان اور جہانگیر ترین دونوں کو بیک وقت صادق اور امین ڈکلیئر کرنے کے لیے تیار نہیں تھے‘ ان کا کہنا تھا میرے ساتھی جج نہیں مانیں گے لہذا آپ دونوں میں سے کسی ایک کو بچا لیں‘ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ عمران کو بچایا جائے اور جہانگیر ترین کو قربان کر دیا جائے۔ جاوید چوہدری دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بعد چیف جسٹس کو دو وکیل دیے گئے جنہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی قسمت کا فیصلے لکھا۔ 15 دسمبر 2017 کو فیصلہ سنانے کا اعلان ہوا۔ فیصلے کا وقت آ گیا لیکن ججز کورٹ نمبر ایک میں تشریف نہیں لائے‘ ٹیلی ویژن سکرینیں گرم ہو گئیں اور اسلام آباد‘ راولپنڈی اور بنی گالا میں دوڑیں لگ گئیں‘ دوبارہ رابطے ہوئے اور یوں 3 بج کر 20 منٹ پر عمران خان کو صادق اور امین ڈکلیئر کر دیا جب کہ جہانگیر ترین مجرم قرار پا کر سیاست سے تاحیات نااہل ہو گئے۔ ترین ’’بیلنسنگ ایکٹ‘‘ کا شکار ہو گئے‘ اس فیصلے کے چند دن بعد عمران شکریہ ادا کرنے ایک بار پھر جنرل باجوہ کے گھر گئے اور ان سے فرمائش کی’’ہم نے جہانگیر ترین کو ضرور بچانا ہے کیونکہ میں اسکے بغیر حکومت نہیں چلا سکوں گا۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ فیض حمید کو ایک بار پھر ٹارگٹ دے دیا گیا، لیکن پھر فروری 2018 میں عمران کا بشریٰ بی بی سے نکاح ہو گیا‘

مارچ میں عمران کی جنرل باجوہ سے تیسری ملاقات ہوئی جس میں جہانگیر ترین کا ذکر آیا تو عمران نے کہا ’’جنرل صاحب آپ اس کو ابھی رہنے دیں‘ ہم مستقبل میں دیکھیں گے‘‘۔ باجوہ یہ سن کر حیران رہ گئے‘ یہ ان کے لیے عمران کی جانب سے پہلا دھچکا تھا کیونکہ ترین وہ شخص تھا جس نے انہیں جنرل باجوہ سے ملوایا تھا۔ اس لیے جب جنرل باجوہ خود عمران خان کے ہاتھوں احسان فروشی کا شکار ہوئے تو یہ انکے لیے کوئی سرپرائز نہیں تھا۔جب اسٹیبلشمنٹ نے جہانگیر ترین کو ٹٹولا تو پتا چلا کہ بشریٰ بی بی کے سابق خاوند خاور مانیکا کا ایک بھائی ترین کا پرانا دوست ہے۔ اس نے انھیں بتایا کہ آپ کے گھر جادو ٹونا پہنچ چکا ہے اور آپ اب برباد ہو جائیں گے۔ ترین نے یہ بات عون چوہدری کو بتا دی‘ عون نے عمران خان کو بتا دیا اور یوں جہانگیر ترین کا پتہ کٹ گیا۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ ترین تب تک بشریٰ بی بی سے نہیں ملے تھے۔ ان کی خاتون اول سے پہلی ملاقات 18 اگست 2018 کو ایوان صدر میں وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں ہوئی ‘ بشریٰ بی بی نے اس دن سفید عبایا اور سفید نقاب پہن رکھا تھااور یہ پہلی قطار میں جنرل باجوہ کی بیگم کے ساتھ بیٹھی تھیں‘ وزیراعظم حلف کے بعد فوری طور پر اسٹیج سے اتر کر اپنی بیگم کے پاس آئے اور انھیں مبارک باد پیش کی۔ بشریٰ بی بی بعدازاں جہانگیر ترین کے پاس گئیں اور ان سے کہا

’’میں آج سفید لباس اس لیے پہن کر آئی ہوں تاکہ آپ کا یہ شک دور کر سکوں‘ میں جادوگرنی نہیں ہوں‘‘ یہ سن کر جہانگیر ترین کو محسوس ہوا ’’کہ میں آج سے عمران خان سے فارغ ہو چکا ہوں‘‘۔ انکا یہ خدشہ سو فیصد سچ ثابت ہوا۔ آنے والے دنوں میں واقعی عون چوہدری اور جہانگیر ترین دونوں فارغ ہو گئے۔