Categories
پاکستان منتخب کالم

سیاستدان خود کو لڑانے والوں کا نام کیوں نہیں لیتے؟سینئر صحافی حامد میر نے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاست دان آپس میں تو لڑتے رہتے ہیں لیکن جمہوریت کو پامال کرنے والوں کا نام نہیں لیتے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آج بھی جناح کے پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ نہیں ہے؟

انکا کہنا ہے کہ خواجہ محمد آصف اور خواجہ سعد رفیق جیسے مسلم لیگی اپنے سیاسی مخالف عمران خان کے بارے میں سچ ضرور بولیں، لیکن تھوڑا سا سچ جنرل باجوہ کے بارے میں بھی بولیں جن کے دور میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا ۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا جنرل قمر باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل شہباز شریف کو مارشل لا کے نفاذ کی دھمکی نہیں دی تھی اور کیا باجوہ اپنے ادارے کے نیوٹرل ہو جانے کے اعلان کی خود خلاف ورزی نہیں کر رہے تھے؟ حامد میر کہتے ہیں کہ ابھی تک نہ تو عمران خان نے جنرل باجوہ کے بارے میں اصل سچ بولا ہے اور نہ ہی شہباز شریف نے کچھ بتایا ہے۔ یہ لوگ آپس میں لڑے جا رہے ہیں لیکن لڑانے والے کے بارے میں خاموش ہیں۔ یہی ہماری جمہوریت کا اصل المیہ ہے۔ حامد میر اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک صدی کا قصہ ہے، دوچار برس کی بات نہیں۔ 20 دسمبر 1972 کو پنجاب اسمبلی کے عقب میں کوپر روڈ پر تب کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپوزیشن کی ایک توانا آواز، خواجہ محمد رفیق کے سینے پر گولیاں برسا کر انہیں خاموش کروا دیا۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ خواجہ محمد رفیق کی تب کے حکمران ذوالفقار علی بھٹو سے کیا لڑائی تھی؟ خواجہ رفیق کی پچاسویں برسی پر منعقدہ تقریب میں خواجہ صاحب مرحوم پر کم اور عمران خان پر زیادہ باتیں ہوئیں۔ خواجہ صاحب کے برخودار خواجہ سعد رفیق اس تقریب کے میزبان اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف تقریب کی صدارت فرما رہے تھے۔

دونوں نے عمران خان پر تاک تاک کے نشانے لگائے۔ نشانے بازی کے اس مقابلے میں مجھے بھی گفتگو کا موقع ملا اور میں نے سامعین کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ خواجہ رفیق کون تھے؟ ہمارے اس بزرگ کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ سے امرتسر آ کر آباد ہونے والے ایک خاندان سے تھا جو دہلی ، بھوپال اور ممبئی میں پشمینہ شالوں کا کاروبار کرتا تھا۔ خواجہ رفیق ایم اے او کالج امرتسر میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں سرگرم تھے اور تحریک پاکستان سے وابستہ تھے۔ خواجہ رفیق کے والد خواجہ غلام محمد انہیں اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ بھیجنا چاہتے تھے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے نوجوان خواجہ محمد رفیق کو پنجاب کے وزیر اعظم خضر حیات ٹوانہ کے خلاف تحریک چلانے کا حکم دیدیا۔ خواجہ صاحب نے متحدہ پنجاب کے یونینسٹ وزیر اعظم کے خلاف جلسے جلوسوں میں شعلہ بیانی شروع کی اور گورداسپور جیل جا پہنچے۔ وہ برطانیہ جانے کی بجائے پاکستان بنانے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ پاکستان بن گیا تو مہاجر بن کر لاہور آ گئے۔ امرتسر، دہلی، بھوپال اور ممبئی میں اپنے خاندان کی جائیدادوں کے کاغذات دکھا کر لاہور میں بہت کچھ لے سکتے تھے لیکن اس مرد درویش نے اندرون لوہاری دروازے میں ایک دس مرلے کے مکان پر اکتفا کیا۔ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد حسین شہید سہروردی نے عوامی لیگ بنائی تو خواجہ رفیق نے شیخ مجیب الرحمٰن، نوابزادہ نصر اللہ خان اور مولانا عبدالستار نیازی کے ہمراہ اس نئی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ 1958 میں جنرل ایوب خان نے پاکستان میں پہلا مارشل لاء لگایا تو خواجہ رفیق اس فوجی ڈکٹیٹر کو للکارنے والوں میں پیش پیش تھے۔

اس دور میں حسین شہید سہروردی سے لے کر خواجہ رفیق تک تحریک پاکستان کے درجنوں رہنمائوں پر غداری کے مقدمے بنائے گئے۔ وہ جس شہر میں ڈکٹیٹر کے خلاف تقریر کرتے وہاں مقدمہ قائم ہو جاتا۔ خواجہ صاحب ڈھاکہ، کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں دو درجن مقدمات بھگتے رہے۔ انہیں ملتان، ساہیوال اور بہاولپور کی جیلوں میں بند رکھا گیا۔ انہی دنوں 23 دن کی بھوک ہڑتال بھی کی اور بیمار پڑ گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو خواجہ رفیق اور کے ایچ خورشید نے مغربی پاکستان جبکہ شیخ مجیب الرحمٰن نے مشرقی پاکستان میں مادر ملت کی انتخابی مہم چلانا شروع کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے خواجہ رفیق کا اختلاف اسی انتخابی مہم میں ہوا۔ جب خان عبدالغفار خان، ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری اور شیخ مجیب الرحمٰن نے مادر ملت کی حمایت شروع کی تو جنرل ایوب خان نے مادر ملت کو غدار قرار دیدیا۔ بھٹو صاحب ایوب خان کے ساتھی تھے اور خواجہ رفیق نے ایوب کے کسی ساتھی کو کبھی معاف نہ کیا۔ بھٹو صاحب نے معاہدہ تاشقند کے خلاف وزارت خارجہ سے استعفیٰ دیدیا تو خواجہ صاحب بھی معاہدہ تاشقند کی مخالفت کر رہے تھے۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ خواجہ صاحب کی پاکستان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ شیخ مجیب الرحمٰن نے چھ نکات پیش کئے تو خواجہ صاحب نے اپنے پرانے دوست کو سمجھانے کی کوشش کی۔ شیخ صاحب نہ سمجھے تو خواجہ رفیق نے سیاسی راستہ بدل لیا لیکن شیخ مجیب ان کی اتنی عزت کرتے تھے کہ 1970 کے انتخابات کے بعد انہیں ڈھاکہ سے اپنی خالی نشست پر منتخب کرانے کی پیشکش کی۔

خواجہ صاحب نے شکریہ کے ساتھ معذرت کر لی لیکن اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ جنرل یحییٰ خان نے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار دینے کی بجائے اس جماعت کے خلاف فوجی آپریشن کر دیا۔ متحدہ پاکستان ٹوٹ جانے کے بعد بھٹو صاحب صدر مملکت کے ساتھ ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بن گئے۔ 20 دسمبر 1972 کو بھٹو صاحب کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہو گیا تھا اور خواجہ رفیق نے بھٹو کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا تھا۔ اس دن خواجہ صاحب نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو انہوں نے اپنی شادی پر سلوایا تھا، سر پر جناح کیپ سجا رکھی تھی۔ اپنی آخری تقریر میں انہوں نے پاکستان کو مارشل لا قوانین کی بجائے نئے آئین کے ذریعہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ تقریر کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ان پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ جن جرنیلوں کی مدد سے بھٹو اقتدار میں آئے انہی جرنیلوں نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کے درمیان آنکھ مچولی آج بھی جاری ہے۔ خواجہ رفیق کی پچاسویں برسی پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس تقریب میں تالیاں بھی بڑی احتیاط سے بچا رہا تھا کیونکہ مجھ پر تالیاں بجانے کے الزام میں بھی مقدمہ قائم ہو جاتا ہے۔ وزیر دفاع کی صدارت میں ہونے والی تقریب کے ڈائس سے حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے رہنما کی یہ بات سن کر کون کہہ سکتا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے؟ پچاس سال پہلے خواجہ رفیق کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے گولی مار دی گئی۔

پچاس سال بعد خواجہ رفیق کی برسی پر خالد مقبول صدیقی وزیر دفاع کی موجودگی میں بتا رہے تھے کہ وطن عزیز میں تالیاں بجانے پر بھی مقدمے قائم ہو جاتے ہیں۔ وزیر دفاع نے اس تقریب میں عمران کو جیب کترا تو کہہ دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان کی اتحادی جماعت تالیاں بجانے میں اتنی محتاط کیوں ہو چکی ہے؟