Categories
منتخب کالم

سیٹ ایڈجسٹمنٹ فارمولا!!!تحریک انصاف اور پرویز الہیٰ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

لاہور(ویب ڈیسک) عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اسمبلی توڑنے سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے تحریک انصاف کے ساتھ اگلے الیکشن کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا جو فارمولا پیش کیا ہے اس پر دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جس کے بعد پرویز الٰہی نے عمران کے ساتھ پنگا ڈالنے کی کوشش شروع کر دی ہے

تاکہ اسمبلی نہ توڑنے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے عمران سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ فارمولے کے تحت صوبائی اسمبلی کی 25 اور قومی اسمبلی کی 10 نشستوں کا مطالبہ کردیا ہے۔ پرویز الٰہی چاہتے ہیں کہ اگلے الیکشن میں ان 35 نشستوں پر تحریک انصاف اپنے امیدوار کھڑا کرنے کی بجائے قاف لیگ کے امیدواروں کی حمایت کرے۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ عمران اپنی اتحادی قاف لیگ کو صوبائی اسمبلی کی سات اور قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے زیادہ دینے کو تیار نہیں۔ یعنی پرویز الٰہی کی جانب سے 35 نشستوں کے مطالبے پر عمران انہیں 10سیٹوں کی آفر کر رہے ہیں جو پرویز الٰہی کے لیے قابل قبول نہیں اور اسی لئے انہوں نے جنرل باجوہ کی آڑ میں عمران کے خلاف ایک طرح کی بغاوت کر دی ہے۔ اس سے پہلے بھی جب عمران نے جنرل باجوہ کے خلاف گفتگو کی تھی تو پرویز الٰہی نے یہ بیان داغ دیا تھا کہ انہیں عمران کا ساتھ دینے کے لئے جنرل باجوہ نے آمادہ کیا تھا اور سابق آرمی چیف نہ صرف قاف لیگ بلکہ عمران کے بھی محسن ہیں۔ تاہم خان صاحب نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ جوابی طور پر باریک واردات ڈالتے ہوئے انہیں اپنے پہلو میں بٹھا کر ایک مرتبہ پھر جنرل باجوہ کو چارج شیٹ کر دیا۔ پرویز الٰہی نے بھی اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور اب یہ دھمکی دے ڈالی ہے کہ اگر دوبارہ پی ٹی آئی کی جانب سے جنرل باجوہ کے خلاف کوئی بات کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انھوں نے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے 99 فیصد اراکین پنجاب اسمبلی اسے توڑنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی فوجی اسٹیبلشمنٹ ایسا چاہتی ہے۔ قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے عمران سے اگلے الیکشن کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحریری فارمولے کا مطالبہ کیا ہے جس میں پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی بطور ضامن شامل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو خدشہ ہے کہ اسمبلی توڑے جانے کے بعد عمران حسب روایت اپنے وعدوں سے یوٹرن لے سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ سیاسی طور پر یتیم ہو سکتے ہیں۔ پرویز الٰہی سمجھتے ہیں کہ اگر عمران انکے ساتھ کوئی تحریری سیٹ ایڈجسٹمنٹ فارمولا طے کیے بغیر پنجاب اسمبلی توڑ دیتے ہیں تو آئندہ الیکشن میں انکا اپنی خواہش کے مطابق سیٹیں حاصل کرنے کا خواب بکھر جائے گا۔ اس کے علاوہ پرویز الٰہی کی جانب سے اپنے آبائی ڈویژن اور اضلاع کے لیے مختص کردہ اربوں روپے کا فنڈ بھی غیر موثر ہو جائے گا۔ صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے سے قبل عمران اور پرویز الٰہی کے مابین ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پی ٹی آئی اور اپنی پارٹی کے رہنمائوں کے سامنے وضاحت کے ساتھ عمران خان سے اس وعدے کی تجدید کی کہ وہ اسمبلیاں توڑنے کا حکم بجا لانے میں تاخیر نہیں کریں گے۔ تاہم انکی باڈی لینگویج ان کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی اور صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ دل پر جبر کر کے یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں۔

ذرائع کے بقول اسمبلی توڑنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دینے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا کیونکہ صدر عارف علوی نے عمران خان کو بتایا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں اور وہ کسی بھی صورت جلد الیکشن کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ بعد ازاں مشاورت سے 23 دسمبر بروز جمعہ اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ ہوا کیونکہ پرویز الٰہی نے اعتدال پسند رہنمائوں کے اس خیال سے اتفاق کیا کہ اس عرصے کے دوران درمیان کا کوئی راستہ بھی نکل سکتا ہے۔ پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسمبلی توڑنے کے بعد ان کا دوبارہ وزیر اعلیٰ بننا ناممکن نہیں اس لیے ان کی کوشش ہو گی کہ ایک ہفتے اندر کے اسمبلیاں توڑنے کے اعلان پر عملدرآمد میں رکاوٹ پیدا ہو جائے۔ اور اسی لیے وہ جنرل باجوہ کے خلاف عمران کے بیان کو بنیاد بنا کر ناراضی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اسمبلی توڑنے سے انکار کرتے ہیں تو عمران اپنے اراکین پنجاب اسمبلی کو استعفے دینے کے لیے کہہ سکتے ہیں جس کے بعد بھی پرویز حکومت کا خاتمہ ہی ہوگا۔ اس لیے پرویز الٰہی اپنے موجودہ منصب کو آئندہ الیکشن میں مطلوبہ سیٹیں حاصل کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کررہے ہیں۔ اس مجوزہ پلان کے تحت پہلے انہوں نے اپنے آبائی ضلع گجرات کو ڈویژن کا درجہ دیا اور بعدازاں گجرات اور منڈی بہائوالدین کے لیے ایک سو ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ منظور کرایا۔
یاد رہے کہ گجرات، پرویز الٰہی اور منڈی بہائوالدین، ان کے پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی کے آبائی شہر ہیں۔ گجرات ڈویژن چار چھوٹے اضلاع گجرات، منڈی بہائوالدین، وزیرآباد اور حافظ آباد پر مشتمل ہے۔ پرویز الٰہی کی خواہش ہے کہ ان چاروں اضلاع کی بیشتر نشستیں اگلے الیکشن میں ان کی جھولی میں آگریں۔ ان کے خیال میں ایک سو ارب کا فنڈ اس خواہش کی تکمیل میں موثر ثابت ہو گا۔ لیکن عمران نے 23 دسمبر کو خیبر پختونخوا سمیت پنجاب اسمبلی توڑنے کا اعلان کر کے ان خواہشات پر بظاہر پانی پھیر دیا ہے۔ لہٰذا ذرائع کے بقول پرویز الٰہی کی پوری کوشش ہو گی کہ کسی طرح اس اعلان پر عملدرآمد نہ ہو سکے۔ دیکھنا ہے کہ وہ اس کے لیے کیا گیدڑ سنگھی لاتے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقتدار کے لیے سیاسی چالوں کے ماہر کو اس سلسلے میں خاصے دشوار چیلنجز درپیش ہیں۔ اگر وہ پنجاب اسمبلی توڑنے کے اعلان پر عملدرآمد روکنے میں ناکام رہے تو یہ ان کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی دھچکا ہو گا کیونکہ اب ان کے پاس پی ڈی ایم اتحاد سے رجوع کرنے کا آپشن باقی نہیں رہا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف دونوں نے پرویز الٰہی کے حوالے سے ریڈ لائن کھینچ دی ہے۔