Categories
منتخب کالم

مسلم لیگ ن اختر لاوا سے لاہور کا پاوا کیسے بن سکتی ہے؟؟

لاہور(ویب ڈیسک) معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ نون نے اگلے الیکشن میں پنجاب کو فتح کرنا ہے تو یہاں کے عوام کو کوئی سیاسی بیانیہ دینا ہو گا، اسے مزاحمت کا نعرہ تخلیق کرنا ہو گا اور مفاہمت سے جان چھڑانا ہو گی،

تاہم اگر ایسا نہ کیا گیا تو ن لیگ پنجاب میں ’’لاہور دا پاوا ‘‘ جیسی ٹک ٹاک ویڈیوز تو بے شمار بنا لے گی لیکن الیکشن نہیں جیت سکے گی۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پنجاب کے عوام کو ان کا حق نہ دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ کوئی نیا انکشاف نہیں بلکہ یہ سلسلہ جنرل پرویز مشرف کے زمانے سے جاری ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پنجاب صرف ن لیگ کا گڑھ نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا قلعہ بھی ہے۔ اس قلعے کی سیاسی قوتوں میں شگاف ڈالنے کی روایت پرانی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں پہلے مارشل لاکے حواری اس قلعے پر قابض رہے پھر ق لیگ دریافت کی گئی۔ ن لیگ کو انتقام کا نشانہ بھی بنایا گیا اور اسکے کارکنوں اور قیادت کو صعوبتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ پیپلز پارٹی کا دور آیا، پنجاب کی حکومت تو ملی مگر ہر وقت گورنر راج کا خطرہ منڈلاتا رہا ۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ 2013 کے بعد جیسے ہی ن لیگ کو حکومت ملی، عمران خان دھرنا لیکر وفاق پر چڑھ دوڑے۔ وہ جو خدمت کو عزت دینے کی بات کرتے تھے، وہ چور، ڈاکو، لٹیرے کے نام سے بدنام کر دیئے گئے۔ کبھی پاناما آیا کبھی اقامہ لیکن ایک دن بھی سکون سے حکومت نہیں کرنے دی گئی، جو پروجیکٹ اس دوران ن لیگ نے مکمل کئے وہی آج تک پنجاب کا اثاثہ ہیں، اسکے علاوہ ترقی کے نام پر بس کاغذی کارروائی ہی ہوئی ہے۔

عمران خان کے دور میں عثمان بزدار جیسے کمزور شخص کو وزیر اعلیٰ لگانے کا بنیادی مقصد یہی نظر آتا ہے کہ اس کو فرنٹ مین بنا کر خوب من مانی کی جائے، جس طرح پنجاب کو اس دور میں لوٹا گیا اسکی مثال نہیں ملتی ۔ اہل پنجاب جو شہباز شریف کے طرزِ حکمرانی کے عادی تھے وہ سلطنت ایک مٹی کے مادھو کے حوالے کر دی گئی۔ پنجاب پر ن لیگ نے بہت عرصہ حکومت کی ہے اور اس دوران بہت سارے اچھے اچھے کام بھی ہوئے ہیں مگر اس کا کریڈٹ نہ دینے کا فیصلہ کہیں ہو چکا ہے۔ کسی زمانے میں پنجاب پیپلز پارٹی کا گڑھ بھی رہا ہے لیکن 2013 کے بعد رفتہ رفتہ پنجاب میں پیپلز پارٹی دم توڑ گئی۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو زندہ کرنے کی کئی کوششیں کیں مگر ان میں سنجیدگی نہیں نظر آئی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کا زیادہ تر ووٹر بدظن ہو کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر چکا ہے، اس سیاسی خلا کو تحریک انصاف نے پر کردیا ہے۔ عمار مسعود کہتے ہیں کہ 2018 کے بدنام زمانہ الیکشن میں جہاں دھاندلی کی بہت سی شکایات ملیں، وہاں یہ بھی پتہ چلا کہ پی ٹی آئی پنجاب میں ایک حقیقت بن چکی ہے۔ پنجاب کے حالیہ ضمنی الیکشن میں بھی اگرچہ نادیدہ ہاتھ ملوث ہونے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر اپنے ہی قلعے میں 20 میں سے 17 نشستیں ہار جانا نون لیگ کے لئے لمحہ فکریہ ہےجبکہ قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں بھی صورت حال مختلف نظر نہیں آئی۔ 2023 کے عام انتخابات کب ہوتے ہیں کسی کو علم نہیں ۔

اس وقت عمران کی خواہش ہے کہ حکومت کو معیشت کی بحالی کا وقت نہ ملے اور حکومت کی تمنا ہے کہ اسکی میعاد میں جتنا اضافہ ہو سکے اتنا بہتر ہے۔ خان صاحب کبھی کوئی اسمبلی توڑنے کی نوید سناتے ہیں کبھی کسی نئے فتنے کو آواز دیتے ہیں۔ ان حالات میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ گومگو میں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی الیکشن ہونے ہیں، کیا ن لیگ انکے لئے تیار ہے؟ کیا وہ صرف نواز شریف کی واپسی پر تکیہ کئے ہوئے ہے یا پھر ووٹر کو اپنی طرف مائل کرنے کا کوئی پلان بھی انکے پاس ہے؟ عمار مسعود کے مطابق مسلم لیگ ن کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی قیادت نے کبھی دوسرے صوبوں کو اتنی اہمیت نہیں دی جتنی پنجاب کو دی ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوااور بلوچستان میں ن لیگ کا ووٹر موجود ضرور ہے مگر وہ اپنے مرکزی قائدین کی راہ ہی تکتا رہتا ہے۔ اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ ماضی میں ن لیگ کو پنجاب سے ہی اتنی نشستیں مل جاتی تھیں کہ انہیں حکومت بنانے کے لئے دوسرے صوبوں کی کم ہی ضرورت پڑتی تھی، لیکن اس بار صورت حال مختلف ہے۔ اس مرتبہ انتخاب کی جنگ کا اصل میدان ہی پنجاب ہو گا، اگر اس صوبے میں عمران خان کا جادو چل گیا تو ن لیگ کا سیاسی مستقبل بہت مخدوش ہے۔ ابھی الیکشن میں اگرچہ کچھ وقت باقی ہے، ن لیگ کو اپنی تمام تر توانائیاں پنجاب میں صرف کرنا پڑیں گی، صرف یہ کہہ دینے سے کہ نواز شریف نے امیدواروں لسٹیں منگوا لی ہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پنجاب کو اگر انتخابی طور پر فتح کرنا ہے تو اس کے عوام کو کوئی سیاسی بیانیہ دینا ہو گا، مزاحمت کا نعرہ تخلیق کرنا ہو گا، اور مفاہمت سے جان چھڑانا ہو گی۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو ن لیگ پنجاب میں ’’لاہور دا پاوا ‘‘ جیسی ٹک ٹاک تو بنا لے گی لیکن الیکشن نہیں جیت سکے گی۔