Categories
منتخب کالم

باجوہ نے آخری وقت تک عمران حکومت بچانے کی کوشش کی،سینئر صحافی حامد میر کا انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے عمران خان کی حکومت بچانے کی بھرپور کوشش کی اور پی ڈی ایم قیادت پر تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لیے بھر پور دباؤ بھی ڈالا لیکن اپوزیشن جماعتیں ڈٹ گئیں اور عمران کو گھر جانا پڑ گیا، ان کا کہنا ہے کہ

جنرل قمر باجوہ کو آخری وقت تک یقین رہا کہ تحریک عدم اعتماد واپس ہو جائے گی اور انہوں نے عمران خان کو بھی یہی بتایا تھا لیکن کی امیدوں کے برعکس اپوزیشن نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی پی ڈی ایم کی قیادت نے جنرل قمر باجوہ کو تحریک عدم اعتماد لانے کے متعلق گمراہ کیا اور یہی تاثر دیا کہ تحریک نہیں آئے گی۔ جنرل باجوہ جس چینل کے ذریعے پی ڈی ایم سے بات چیت کر رہے تھے اسے اپوزیشن والے غلط بتا رہے تھے کہ تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا رہی کیونکہ ہمارے پاس کامیابی کے لیے بندے ہی پورے نہیں ہیں۔ تب کی اپوزیشن اور موجودہ حکومتی اتحاد میں شامل سیاست دان جان بوجھ کر جنرل باجوہ کو گمراہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے وہ آخر وقت تک غلط فہمی میں رہے۔ یوں اپوزیشن کی سٹریٹجی کامیاب رہی اور وہ عمران خان کو نکالنے میں کامیاب ہو گئی۔ جیو نیوز کے پروگرام ‘جیو پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے بتایا کہ جس دن شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کر کے یہ فیصلہ سنایا کہ عمران حکومت کے خلاف ہم تحریک عدم اعتماد لے کر آ رہے ہیں اس کے بعد افراتفری مچ گئی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اہم اداروں کے بہت سارے لوگوں کے تبادلے کر دیئے گئے کہ تم نے ہمیں اس بارے میں بتایا کیوں نہیں۔ جب تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تو تب تک تک فوج تین کور کمانڈرز کانفرنسوں میں بحث مباحثے کے بعد اصولی فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی لہٰذا اب جنرل

باجوہ اپنی خفیہ ایجنسیوں کو تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں فوج کے ادارے کو بائی پاس کرتے ہوئے یعنی فوج سے بالا بالا اپنے لوگوں کے ذریعے ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت کو پیغام دیا کہ وہ عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ حامد میر نے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کو اغوا کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جن کی تفصیل بھی کسی وقت سامنے لاؤں گا۔ تاہم چونکہ جنرل باجوہ کا پیغام براہ راس نہیں تھا اس لئے وہ اتنا موثر ثابت نہیں ہوا۔ دوسری جانب جب پرویز الہیٰ نے شہباز شریف کے ساتھ کمٹ منٹ کر لی تو یہ بھی جنرل باجوہ کے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔ انہیں لگ رہا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف پرویز الہیٰ کو کبھی قبول نہیں کریں گے مگر ان کا اندازہ یہاں بھی غلط ہو گیا۔ پھر انہوں نے پرویز الہیٰ کو مونس الہیٰ کے ذریعے پیغام بھیجا کہ آپ پی ڈی ایم کی بجائے عمران خان کا ساتھ دیں۔ جب تحریک عدم اعتماد پیش ہو گئی تو جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم میں شامل 13 جماعتوں کے رہنماؤں کو ملاقات کے لیے بلایا اور ان سے کہا کہ تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں تاکہ عمران خان استعفی دے کر گھر چلا جائے۔ مگر اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹ کر عوام کی نظروں میں گندا نہیں ہونا چاہتے۔ اس ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اس کے بعد جنرل باجوہ نے شہباز شریف اور آصف زرداری سے علیحدہ ملاقات کی لیکن باجوہ کو بتایا گیا کہ عدم اعتماد کا فیصلہ 13 اتحادی جماعتوں کا ہے اور اگر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ گئیں تو مستقبل میں ان کی اتحادی جماعتیں کبھی ان کے ساتھ نہیں چلیں گی۔ اس ملاقات کا ڈی جی آئی ایس آئی کو علم نہیں تھا۔ حامد۔میر کے مطابق جنرل باجوہ اخری دم تک عمران خان کو بچانے کی بھر پور کوشش کرتے رہے مگر عمران اپنے رویے کی وجہ سے اپنی حکومت نہ بچا سکے اور یہی سمجھتے رہے کہ جنرل باجوہ نے ان کے ساتھ ڈرامہ کرتے ہوئے ان کو دھوکہ دیا ہے۔ عمران کو یہی لگتا رہا کہ جیسے میں باجوہ کی ساری باتیں مان جاتا ہوں اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کی قیادت بھی ارمی چیف کی بات مان جائے گی۔ تاہم ایسا نہ ہوسکا اور خان صاحب کا دھڑن تختہ ہو گیا۔