Categories
اہم خبریں

لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے پیچھے چھپی ایک اور کہانی سامنے آگئی ، بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔کئی حلقوں میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کیریئر سے جڑے تنازعات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔چند ماہرین کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے

کارکنوں نے جنرل فیض حمید کے کردار کی غیر معمولی حد تک تشہیر کی جس کے باعث اُن کا نام ایک جماعت سے منسلک ہو کر رہ گیا۔’خصوصاً سوشل میڈیا پر ان کا تاثر پاکستان آرمی کے پسندیدہ جنرل کی بجائے ایک جماعت کے محبوب جنرل کا بن کر رہ گیا۔ جنرل حمید گل کی طرح جنرل فیض حمید کو بھی حد سے زیادہ شہرت کا نقصان ہوا۔‘عسکری روایات میں ایک غیر تحریر شدہ روایت یہ بھی ہے کہ اگر کسی افسر کو کوئی ہدف یا اسائنمنٹ دی جائے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف اور صرف پیشہ ورانہ طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔ملکی تاریخ کے اہم واقعات اور ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھیں تو ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ فوجی افسران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے کرتے بنیادی اصولوں سے آگے نکل گئے۔روس کے خلاف افغان لڑائی میں اور اس کے بعد کئی افسران عسکریت پسندوں میں مقبول ہوئے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل ملازمت کے دوران اور بعد میں بھی ایک مختلف شخصیت بن کر سامنے آئے۔ انھیں بھی وقت سے پہلے فوج سے رخصت ہونا پڑا۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل جاوید ناصر کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہوا اور وہ بھی مدت ملازمت مکمل نہ کر سکے۔نائن الیون کے بعد جنرل مشرف کی ٹیم کے اہم ممبر اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور اپنے خیالات میں توازن نہ رکھ سکے اور انھیں فوج سے علیحدہ ہونا پڑا۔اور اب جنرل فیض حمید کا نام بھی اسی ضمن میں لیا جا رہا ہے۔سیکریٹری دفاع رہنے والے سابق لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی کے مطابق ’ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ طاقتور ترین عہدوں میں سے ہے۔

اختیارات، طاقت، اہمیت، وسائل سب اس تقرری کا بنیادی اور لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈی جی کی اپنی سوچ اور ادارے کے نقطہ نظر میں مطابقت نہیں رہتی۔ اختیارات کی وجہ سے ادارے سے ہم آہنگی کے بغیر بھی افسر اپنے مرضی کر لیتے ہیں۔‘ماضی میں بھی فوج میں اعلی عہدوں تک پہنچنے والے کئی جنرل اپنے آبائی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے بارے میں عمومی رائے یہ رہی کہ وہ اپنے آبائی ضلع چکوال کی ترقی میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔چکوال میں ایک سڑک کی بحالی و کشادگی کے سرکاری منصوبے کی افتتاحی تختی پر ’زیر سرپرستی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید‘ بھی درج کیا گیا۔ان کے بھائی نجف حمید طویل عرصہ تک پٹواری کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے اور سرکاری ملازمت سے الگ ہونے کے بعد علاقے کے سماجی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا شمار تحریک انصاف کےمقامی رہنمائوں میں بھی ہوتا ہے۔مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹر رہنے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم کا تعلق بھی جنرل فیض حمید کے آبائی ضلع چکوال سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ چکوال میں جنرل فیض حمید نے عوامی نوعیت کے بہت سارے ترقیاتی کام کروائے۔ علاقے کی فلاح و بہبود، سڑکوں کی تعمیر وغیرہ میں انھوں نے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔‘لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم کے مطابق جنرل فیض حمید ’ایک متحرک انسان ہیں، اگر وہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ لیتے ہیں تو وہ اپنی لائن آف ایکشن ضرور بنائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سیاست میں قدم رکھ کر ملک کی خدمت کریں۔‘دو مرتبہ کور کمانڈ کرنے والے جنرل عتیق الرحمان، جنرل ٹکا خان، جنرل سوار خان اور جنرل عبدالقادر بلوچ ریٹائرمنٹ کے بعد گورنر کے عہدے پر فائز ہوئے۔دوسری طرف آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل حمید گل نے ایک متحرک سیاسی و سماجی زندگی گزاری۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی کے سربراہ رہنے والے جنرل اسد درانی بعد ازاں سفیر رہے۔ جبکہ جنرل محمود احمد اور جنرل جاوید ناصر نے گمنامی کو ترجیح دی۔