Categories
پاکستان

جنرل عاصم منیر کے خلاف ہونیوالی کونسی 4 سازشیں ناکام بنا دی گئیں؟ ایک اور تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر اینکر کامران شاہد نے نجی ٹی وی پر اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کو روکنے کے لیے سب سے پہلے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا پروپوزل آیا۔ یہ پروپوزل جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے نہیں تھا بلکہ یہ

آئیڈیا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے دماغ کی اختراع تھا۔لیکن یہ آئیڈیا بیچ رستے میں ہی ختم ہو گیا۔ عمران خان کی جانب سے کوشش کی گئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع سے عاصم منیر کی تقرری نہ ہو سکے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ عاصم منیر آرمی چیف بنیں۔انہوں نے کہا کہ ملکی صورت حال ایسی ہو چکی تھی کہ مارشل لا لگنے کا بھی امکان تھا تاہم اس دوران ہونے والی اہم کور کمانڈرز میٹنگ میں اس خیال کی نفی کر دی گئی اور ملک میں مارشل لا نافذ ہونے کا امکان بھی ختم ہو گیا۔اینکر نے مزید کہا کہ تیسری سازش یہ تھی کہ ایک اہم جنرل جو کہ اب ریٹائر ہو گئے ہیں، انہوں نے جنرل عاصم منیر کی تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس میں مسئلہ یہ تھا کہ عدالت میں اس فریق کی تو شنوائی ہو سکتی تھی جو براہ راست متاثر ہوا ہو لیکن آپ کسی اور کو آگے لاکر اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کریں تو عدالت اس معاملے پر بالکل سماعت نہ کرتی۔ فوج کے قوانین اور ضوابط کے پیش نظر ان معتبر فوجی جنرل نے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ یعنی عاصم منیر کو روکنے کے لیے عدالت تک جانے کا منصوبہ تھا۔کامران شاہد نے چوتھی اور آخری سازش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کا نام سامنے آیا۔ حکومت کو کہا گیا کہ ان کو آرمی چیف بنا دیا جائے تاہم اس آپشن پر مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اپنے اور شہباز شریف کے متفقہ فیصلے پر ڈٹ گئے اور جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنا دیا۔