Categories
اہم خبریں

اگلا آرمی چیف کون ہو گا ؟ سینیارٹی لسٹ میں لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کس نمبر پر ہیں ؟ افواج پاکستان میں فیض حمید خاص طور پر کس بات پر مشہور ہیں ؟ چند حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ وہ اُس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف آف سٹاف تھے جب جنرل باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل کی ڈویژن کی کمانڈ کی۔ وہ آئی ایس آئی میں

ہی ‘سی آئی’ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور آئی ایس آئی کی سربراہی سے قبل کچھ ہفتوں کے لیے ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی میں اپنے کریئر کے دوران میڈیا میں مختلف تنازعات کا بھی شکار رہے۔اس سے قبل ان کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے ‘اپنے حلف کی خلافورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔’آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ اُن کے بارے میں فوج میں ایک یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔