Categories
اہم خبریں

توشہ خانہ کیس اور گھڑی کی فروخت کا معاملہ : شاہزیب خانزادہ نے مزید ثبوت قوم کے سامنے رکھ دیے

کراچی (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان شاہ زیب خانزادہ نے نئے انکشافات کئے ہیں کہ رسیدیں سامنے آگئی ہیں کہ عمران خان نے مارکیٹ میں گھڑی کی فروخت اور توشہ خانہ سے خریداری ایک ہی تاریخ میں کی تحریک انصاف کی جانب سے پیش ہاتھ سے لکھی رسید اور سرکاری

ریکارڈ پر 22جنوری 2019ء درج ہے جس سے 2ممکنہ چیزیں ہوسکتی ہیں کہ تحفہ خریدنے سےپہلے بیچ دیا گیا یا کسی ذریعے سے پہلے رقم جمع پھر جواز کیلئے جعلی رسید بنوائی گئیں۔غیر معمولی طور پر توشہ خانہ کو نقد ادائیگی کی گئی ، 50؍ فیصد کا قانون بننے کے 35 روز بعدبھی عمران خان نے 20فیصد رقم دی، 10؍ کروڑ کی ویلیو کے باوجود 50فیصد کم پر تحفہ بیچاگیا۔تفصیلات کے مطابق جیو نیوز پر ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بتایا گیا کہ سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کی طرف سے عمران خان کوملنے والے تحائف نے ایک الگ اسکینڈل کی شکل اختیار کر لی ہے.دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین عمر فاروق ظہور الگ دعویٰ کر رہے ہیں لیکن تحریک انصاف ان دعوؤں کی نفی کر رہی ہے،اپنا دفاع پیش کر رہی ہے لیکن اپنے دفاع میں تحریک انصاف نے جو دستاویزات پیش کی ہیں،وہ عمران خان کیلیے مزید مشکلات کا باعث بن گئی ہیں۔کیونکہ جو دستاویزات ہم نے حاصل کی ہیں۔اُس نے تحریک انصاف کے دفاع کو ہی مشکوک بنا دیا ہے ۔ اور اس اسکینڈل سے متعلق چار اہم نکات اٹھادیے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے تحریک انصاف گھڑی کا سیٹ فروخت کرنے سے متعلق ہاتھ سے لکھی ہوئی جس دکان کی رسید کا سہارا لے رہی ہے اور توشہ خانہ سے صرف 20فیصد ادائیگی کرکے گھڑی خریدنے کا جو سرکاری ریکارڈ ہے اُن دونوں دستاویز میں ایک ہی تاریخ درج ہےیعنی گھڑی کا سیٹ توشہ خانہ سے خریدنے کی اور مارکیٹ میں فروخت کرنے کی تاریخ ایک ہی ہےاور وہ تاریخ 22 جنوری 2019 کی ہے جس سے صرف دو چیزیں ہی ثابت ہوسکتی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ یا تو

عمران خان نے توشہ خانہ سے2 کروڑ میں تحفہ خریدنے سے پہلے ہی مارکیٹ میں اسے 5 کروڑ 10 لاکھ میں فروخت کردیا تھا اور یا پھر ۔ توشہ خانہ میں پہلے ہی کیش کی صورت میں کسی کے ذریعے 2 کروڑ روپے کی رقم جمع کرائی اور پھر اِس رقم کو جواز فراہم کرنے کیلیے مارکیٹ سے5 کروڑ 10لاکھ کی ایک جعلی رسید بنوائی گئی تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچا جاسکے. سامنے آنے والی تفصیلات میں جو دوسرا نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے جو دسمبر 2018ء میں توشہ خانہ سے تحائف خرید نے کیلئے 50؍ فیصد کی ادائیگی کا قانون بنایا تھا اور جس کا کریڈٹ تحریک انصاف کے رہنما لیتے رہے ہیں، خود عمران خان دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف 50؍فیصد ادائیگی کے بعد لیے ہیں مگر حقیقت مختلف ہے عمران خان نے خود اُس قانون کی خلاف ورزی کرکے ایک قیمتی تحفے کیلیے صرف 20 فیصد ادائیگی کی ہے ۔ کیونکہ 50فیصد ادائیگی کا قانون دسمبر 2018 کو بنایا گیا تھا اور عمران خان نے 22 جنوری 2019 کو توشہ خانہ میں 20 فیصد رقم ادا کرکے تحائف خرید لیے تھے جبکہ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ عمران خان کو ملنے والے گراف سیٹ کی جو مارکیٹ ویلیو توشہ خانہ کی انتظامیہ نے طے کی تھی دستاویزات کے مطابق وہ 10؍ کروڑ روپے تھی ۔یعنی یہ عمران خان کو بتا دیا گیا تھا کہ آپ یہ سیٹ مارکیٹ میں فروخت کرنے جائیں تو آپ اسے 10؍ کروڑ میں فروخت

کرسکتے ہیں، مگر عمران خان کے اپنے دعوے کے مطابق انہوں نے طے شدہ مارکیٹ ویلیو سے 50 فیصد کم میں یعنی 5؍ کروڑ 10لاکھ میں یہ سیٹ فروخت کردیا۔چوتھا نکتہ یہ ہے کہ عمران خان نے جو توشہ خانہ کو دو کروڑ روپے کی رقم ادا کی تھی وہ دستاویزات کے مطابق کیش کی صورت میں ادا کی تھی لیکن عمران خان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے یہ رقم کیش کی صورت میں کیوں جمع کرائی ؟ کیا وہ پیسے عمران خان نے اپنے اکاؤنٹس سے نکالے ہیں اگر ہاں تو اُس کی منی ٹریل کہاں ہے ؟ اگر نہیں تو دو کروڑ روپے عمران خان کے بدلے کس نے ادا کئے ہیں؟ نمائندہ دی نیوز قاسم عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ آپ ہی نے سب سے پہلے یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ خان صاحب نے پہلے گھڑی بیچی اس کے بعد توشہ خانہ میں ادائیگی کی، کیا یہ ایسے ہی ہوتا ہے یا جو خان صاحب نے کیا ہے وہ سوالات اٹھارہا ہے؟قاسم عباسی (نمائندہ دی نیوز): رولز کہتے ہیں کہ توشہ خانہ میں جب بھی کوئی گفٹ آتا ہے تو سب سے پہلے جس کو ملتا ہے اگر اس کیس میں عمران خان ہیں تو وہ liable ہیں کہ وہ پہلے توشہ خانہ میں گفٹ جمع کروائیں پھر اس کی جو ویلیو ہے وہ توشہ خانہ طے کرتا ہے پھر خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اسے وہ تحفہ چاہئے تو پھر وہ ایک درخواست دیتا ہے جس کے ذریعہ توشہ خانہ والے اسے اجازت دیتے ہیں پھر وہ ادائیگی کرتا ہے لیکن جب موجودہ حکومت آئی تھی تو شہباز شریف کی کابینہ

نے توشہ خانہ کا ریکارڈ نکالا تھا جو کہ maintain کیا ہوا تھا عمران خان کی کابینہ نے۔توشہ خانہ کے اس ریکارڈ کے مطابق حکومت کی فائنڈنگز تھیں کہ خان صاحب نے پہلے اوپن مارکیٹ میں، بجائے اس کے کہ عمران خان پہلے اپنی جیب سے اس کی ادائیگی کر کے حاصل کرتے انہوں نے وہ گھڑیاں توشہ خانہ میں ڈیپازٹ کرنے کے بجائے انہیں پہلے اوپن مارکیٹ میں بیچا اور اس کے بعد انہوں نے جو ان کو cost تھی وہ انہوں نے توشہ خانہ میں ادا کی، اس میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے پہلے بیس فیصد کی کاسٹ تھی جو انہوں نے پچاس فیصد کردی تھی، اس گھڑی کی assest value دس کروڑ روپے تھی جو توشہ خانہ نے کی تھی، عمران خان نے ادائیگی دو کروڑ سترہ لاکھ روپے کی ہے جو بیس فیصد بنتی ہے، بالکل ایسا ہی ہے انہوں نے پہلے گھڑی کو بیچا ہے اس کے بعد رقم ڈپازٹ کروائی ہے۔ شاہزیب خانزادہ: آج جو آپ کی اسٹوری ہے آپ اس میں بتارہے ہیں کہ جو اسسمنٹ ہوتی ہے کہ تحفہ کی ویلیو کتنی ہے، آپ بتارہے ہیں کہ جب اسسمنٹ کرنی ہوتی ہے تو ایک بندہ مالیت سے بھی لیا جاتا ہے جو تحفہ کے حوالے سے ایکسپرٹ ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ آپ آج اسے مارکیٹ میں بیچنے جائیں گے تو اس کی مارکیٹ ویلیو کیا ہے، اس کے بعد جب دس کروڑ کی ویلیو لگی ہے اور عمران خان نے دو کروڑ کی لے کر پانچ کروڑ کی بیچ دی ہے، یہ جو

آپ کی تحقیق ہے وہ بھی یہ بتاتی ہے کہ عجیب سی بات ہے کہ جب مارکیٹ ویلیو دس کروڑ لگائی گئی تو آدھی میں کیوں خان صاحب نے بیچ دی بقول ان کے؟قاسم عباسی (نمائندہ دی نیوز): بالکل ایسا ہی ہے، پراسس یہ ہوتا ہے کہ جب توشہ خانہ value assess کرتا ہے تو دو لوگ پہلے مرحلہ میں شامل ہوتے ہیں، پہلا ہوتا ہے ایف بی آر کا ایک آفیسر ہوتا ہے گریڈ 16کا ہوتا ہے. دوسرا جو ٹائپ ہوتی ہے گفٹ کی مثلاً کارپٹ ہے تو کارپٹ کا کوئی انڈیپینڈنٹ ڈیلر یا بزنس مین جس کو اس تحفے کے اوپر مہارت ہو ، وہ دونوں اس کی ویلیو کا اندازہ لگاتے ہیں، اگر ویلیو پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ہے تو توشہ خانہ میں ایک کمیٹی بیٹھی ہے جو اس کی ویلیو کا اندازہ لگاتی ہے. عمران خان نے دس کروڑ کی گھڑی پانچ کروڑ میں گھڑی کیوں بیچی اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں، اس کی ویلیو دس کروڑ روپے بھی اس لیے سمجھ نہیں آتی کیونکہ اس گھڑی میں 4ہزار سے زائد، گراف دنیا کے بڑے ڈائمنڈ ڈویلپرز میں سے ہے، اس کو پوری دنیا مانتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ ڈائمنڈ کا کوئی عام سا ڈویلپر ہے ایم ڈی ایس نے یہ سیٹ جو ہے خان صاحب کو گفٹ کیا تھا اس پر انہوں نے پورا کیٹلاگ تیار کیا تھا جو I guess چالیس صفحات کا ہے، اس کیٹلاگ کے مطابق اس میں چار ہزار سے زیادہ ڈائمنڈز استعمال ہوئے ہیں، اس کا جو ویٹ ہے جو قیراط ہوتا ہے وہ 41 قیراط سے بھی زیادہ ہے. اس حساب سے آپ دیکھیں کس طرح اتنی کم ویلیو لگائی گئی، یہ توشہ خانہ پر بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے کہ انہوں نے اتنی مہنگی گھڑی کی اتنی کم ویلیو کیوں لگائی، کہیں یہ اس وجہ سے تو نہیں کیا گیا کہ خان صاحب کو وہ گھڑ ی حاصل کرنی تھی تو اس وجہ سے انہوں نے اس کی ویلیو دس کروڑ لگائی ہو، اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ عمران خان کو خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، ایسا لگتا ہے عمران خان کو ابھی بھی توقع ہے کہ ان کی شنوائی ہوجائے گی. عمران خان پر فرسٹریشن بھی طاری ہے، عمران خان کے بغیر لانگ مارچ میں ہجوم کم ہوتا جارہا ہے، لانگ مارچ راولپنڈی میں خود لانگ مارچ میں شریک ہوں گے تو شاید کچھ زور پکڑلے، عمران خان کو پتا ہے طاقت کا مرکز پنڈی میں ہے وہ اسی پر دباؤ بڑھانے کیلئے لانگ مارچ راولپنڈی لے جانا چاہتے ہیں، افواہیں ہیں کہ الیکشن قبل از وقت ہوسکتے ہیں۔