Categories
آرٹیکلز

بدھاں بائی کی ’سہگل حویلی‘ شیخ رشید احمد کی لال حویلی کیسے بنی؟ بی بی سی کی خصوصی معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتوم مضمون نگار ذکیہ نیئر بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔راولپنڈی کے بوہڑ بازار سے گزر ہو تو لال حویلی پر نگاہیں ضرور ٹکتی ہیں جسے شہر کی پہچان کہا جاتا ہے۔ حویلی کے سامنے برسوں سے مقیم چاچا صادق کہتے ہیں

کہ ’کبھی رات کے اندھیروں میں حسن و جمال کے مدح سراؤں کی بھیڑ لگا کرتی تھی، سر تال کی محفلیں سجتی تھیں۔ اب یہاں سیاسی شطرنج کی بساط سجتی ہے۔‘لال رنگ میں رنگی یہ عمارت کس نے بنوائی؟ شیخ رشید احمد صاحب کے پاس کب سے ہے اور راولپنڈی کی باقی عمارتوں سے قدرے مختلف اس رہائش گاہ کی تاریخ کیا ہے؟ یہ وہ سوال تھے جن کے جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم بوہڑ بازار جا پہنچے۔حویلی کے آس پاس دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھے بزرگوں سے حویلی سے جڑی داستانیں سن کر قدم محکمہ اوقاف کی جانب بڑھتے چلے گئے جہاں چار دن مسلسل چکر لگانے کے بعد کوئی ذمہ دار افسر تو نہ ملا لیکن وہاں موجود اہلکاروں نے کچھ کاغذ الٹ پلٹ کر بتایا کہ ’حویلی کے کچھ حصے جن میں مندر بھی شامل ہے، محکمے کے پاس ہیں، جبکہ ایک حصہ شیخ صاحب کا ہے۔‘واضح رہے کہ حال ہی میں ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک راولپنڈی نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو 7 روز میں لال حویلی خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا جس کے خلاف شیخ رشید نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ایسا ہی ایک نوٹس ان کو 2014 میں بھی ملا تھا۔ اس وقت شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ لال حویلی سے متصل محکمہ اوقاف کی جائیداد جو دراصل ایک مندر ہے پچھلے 15 سے 20 سال سے عوامی مسلم لیگ کے زیراستعمال رہی۔شیخ رشید کے مطابق ’ہمارے پاس زمین نہیں،

اوپر والا ڈھائی مرلے کا چوبارہ ہے، ہمارے علاوہ 19 دیگر لوگ بھی لال حویلی میں رہتے ہیں۔‘حویلی اندر سے کیسی ہے؟ کیسے ایک حویلی میں محبت کے لیے بنائی گئی راہداریاں سیاست کی بھول بھلیوں کی نذر ہوئیں ۔۔ کیا اس سے جڑی داستان کے کرداروں کو اب بھی حویلی کے اندر جا کر محسوس کیا جاسکتا ہے؟ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کا تعلق اس کی ملکیت سے جڑے قانونی تنازعے سے ہے۔دھن راج کو بدھاں کے گھنگروؤں کی جھنکار اس قدر بھائی کے وہ اسے دل بیٹھے۔ محبت کی اسی کہانی نے ’لال حویلی‘ کی بنیاد رکھی۔دھن راج بدھاں کو اپنے ساتھ راولپنڈی لے آئے اور بوہڑ بازار میں ایک شاندار حویلی بنوائی جو سہگل حویلی کے نام سے مشہور ہوئی۔بدھاں بائی مسلمان تھیں اس لیے احترام میں دھن راج نے بدھاں کے لیے حویلی کے صحن میں مسجد اور اپنے لیے مندر بنوایا۔ شیخ رشید احمد اپنی کتاب ’فرزند پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’دونوں اپنی اپنی عبادت گاہوں میں بنا کسی خوف کے عبادت کیا کرتے تھے مگر آج اسی مندر مسجد اور حویلی کے درمیان کئی گھر حائل ہیں۔‘آس پاس کے پرانے مکین بشمول چاچا صادق، چاچا امین اور چاچا رحمت بتاتے ہیں کہ ’حویلی میں آنے کے بعد بدھاں صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو گئی تھی۔آہستہ آہستہ گانا سیکھنے والوں کی تعداد کم اور بدھاں سے اسلامی درس لینے والے بڑھتے گئے۔‘ادھر عدالت نے سہگل حویلی کو متروکہ ملکیت قرار دے دیا جس کے بعد حویلی کے 20ویں حصے میں سے صرف وہی حصہ بدھاں بائی کو مل سکا

جو آج لال حویلی کہلاتا ہے۔عدالت میں بدھاں بائی سے جج نے کہا کہ وہ بیان دے دیں کہ وہ ہندو ہو چکی ہیں یا دھن راج مسلمان ہو چکے تھے۔ اس دوران دو بار عدالت کی سماعت ملتوی ہوئی کہ بدھاں کو یہ بیان دینے پر قائل کیا جائے اور پوری حویلی صرف اسی کے حصے میں آئے۔ مگر اس نے عدالت میں کہا کہ ’وی ہیو شئیرڈ ایوری تھنگ ایکسیپٹ ریلیجن۔‘ (یعنی مذہب کے سوا ہم نے سب کچھ بانٹا)۔ یوں حویلی کا بڑا حصہ اس سے چھن گیا”۔بوہڑ بازار کی چھوٹی بڑی دکانیں اور گلیاں بھی کسی زمانے میں عمارت کے صحن کا حصہ تھیں۔چاچا رحمت بتاتے ہیں کہ ’محبت اور حویلی کی تقسیم ہوئی لیکن کرچی کرچی بدھاں بائی ہو گئی۔ محبت دور اور نشانی تقسیم ہوئی تو بدھاں کا وجود بھی بکھر گیا۔‘شیخ رشید بتاتے ہیں ’اسی حویلی میں چوری کی غرض سے آئے چوروں نے اسکے جوان سالہ بھائی کو بھی قتل کیا۔۔۔ طرح طرح کے لوگ اسے اکیلا پا کر حویلی میں جھانکتے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ بہت امیر خاتون ہے جسکے پاس سونے چاندی کے زیورات ہیں مگر دامن میں ادھوری محبت اور اسکی منقسم نشانی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ایک رات بدھاں بائی سہگل حویلی چھوڑ گئی اور کبھی نہ لوٹی۔ وہ کہاں گئی کیوں گئی کوئی نہیں جانتا مگر دوبارہ سہگل حویلی میں اسے کسی نے نہ دیکھا۔‘پھر سالوں یہ حویلی ویران پڑی رہی کوئی خوف کے مارے اسے خریدنے کو نہ بڑھتا۔۔حویلی کے بالکل ساتھ والے مکان کی مکیں یاسمین سناتی ہیں کہ ’وقت وہ بھی آیا جب سہگل حویلی کو لوگ جنوں کی حویلی کہنے لگے کسی کو یہاں بجتی پائل سنائی دیتی تو کسی کو بدھاں کے قہقہے۔

‘شیخ رشید صاحب حویلی خریدنے کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’کافی عرصہ گمنامی میں رہنے والی سہگل حویلی کو کشمیر سے آئے ایک خاندان نے دو لاکھ 18 ہزار میں خریدا۔ پھر خریدنے والے نے شیخ رشید کو ساڑھے پانچ لاکھ میں حویلی بیچ دی۔ یوں سہگل حویلی کوڑیوں کے بھاؤ خرید لی گئی۔‘حویلی کو شیخ رشید نے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ کئی ممتاز سیاستدانوں کو دعوت سخن دینے والی بالکنی بھی توجہ کا مرکز رہی۔ اسی بالکنی میں نوابزادہ نصر اللہ، نواز شریف اور الطاف حسین جیسے سیاستدانوں نے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔شیخ رشید نے حویلی کی تزئین و آرائش میں لال رنگ کی کشمیری لکڑی کا استعمال کیا۔ نئے رنگ روپ میں ڈھالنے کے بعد اسے نام بھی نیا دیا گیا ’لال حویلی‘۔ یہ نام بھی شیخ رشید احمد کا ہی دیا گیا ہے اور حویلی پر چسپاں اس نام کی تختی بھی سن 80 کی دہائی میں لگائی گئی تھی۔ یوں بدھاں بائی کی سہگل حویلی شیخ رشید کی لال حویلی بن گئی۔شیخ صاحب یہ بتاتے ہوئے جذباتی دکھائی دیے کہ ’بدھاں بائی کا ڈانس گھر آج بھی موجود ہے جبکہ وہ دو کمرے جن میں وہ رہا کرتی تھی ان پر پرانے قفل پڑے ہیں۔‘ شیخ رشید صاحب نے بدھاں کا بیڈ جس پر عدالت میں دیا جانے والا بیان کندہ ہے اپنے کمرے میں سجا رکھا ہے.شیخ رشید نے اپنی کتاب فرزند پاکستان میں لکھا کہ ’ایک بار کشمیر سے ایک افسر حویلی دیکھنے آیا وہ رو پڑا اور بولا ’یہ میری ماں بدھاں کی حویلی ہے۔ ‘شیخ صاحب کہتے ہیں ’ہم نے اسے روکنا چاہا بدھاں کے بارے میں جاننا چاہا مگر وہ کچھ کہے بنا چلا گیا۔‘بدھاں کے لیے بنوائی گئی مسجد اب بازار کے رہائشیوں کے استعمال میں ہے جبکہ مندر کی حالت مخدوش تر ہے جسکا کوئی والی وارث نہیں۔شیخ صاحب کو حویلی چھوڑنے کے پھر سے احکامات ملے ہیں لیکن وہ اپنی نجی اور سیاسی محفلوں میں ایک جملہ اکثر کہا کرتے ہیں کہ ’اگر مجھے چوائس ہو کہ زندگی یا لال حویلی تو میں لال حویلی کو چُن لوں گا۔‘