دیکھتے ہیں ہمار ی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کو کون گرفتار کرتا ہے۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ذوالفقار علی بھٹو سے دشمنی نے ہی انہیں ضیاالحق کے قریب کر دیا تھا۔ سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے گجرات کے چوہدری برادران نے ’’نواز شریف دشمنی ‘‘ میں اپنے باپ کے مجرموں کو معاف کر دیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت جوائن کر لی

Almarah Advertisement

نواز شریف کی جانب سے جاتی امرا میں چوہدری برادران کے اعزاز میں دئیے جانے والے ظہرانہ کی منسوخی ان کی سیاست میں ’’ٹرننگ پوائنٹ ‘‘ بن گئی ۔ذوالفقار علی بھٹو نے چوہدری ظہور الٰہی کی دعوت میں عین وقت پر گجرات آنے سے معذرت کی توان کے اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ایسے فاصلے پیدا ہوئے جو زندگی بھر ختم نہ ہو سکے ۔ چوہدری ظہور الٰہی ایک وضع دار سیاست دان تھے مہمان نوازی کوئی ان سے سیکھتا خان عبد الغفار خان پہلی بار لاہور آئے تو ان کی میزبانی کا اعزاز چوہدری ظہور الٰہی کو حاصل ہوا اکبر بگٹی لاہور آتے ان کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے یہی وجہ ہے چوہدری ظہور الٰہی کو گرفتار کر کے کوہلو لایا گیا تو گورنر اکبر بگٹی نے ان کو زندگی سے محروم کرانے کی سازش میں فریق بننے سے انکار کر دیا ذوالفقار علی نے بلوچ رہنما شیرمحمد مری المعروف شیروف کو قید کر دیا تو یہ چوہدری ظہور الٰہی ہی تھے جنہوں نےلاہور ہائی کورٹ میں ان کی رہائی کے لئے قانونی لڑائی لڑی ان کی خوبیوں کی ایک جھلک ان کے صاحبزادے چوہدری شجاعت حسین میں نظر آتی ہے۔12اکتوبر1999ء کے ’’پرویزی مارشل لا‘‘ میں ماڈل ٹائون لاہور میں شریف خاندان کی خواتین نے اپنی گرفتاری کا خطرہ محسوس کیا تو انہوں نے جناب مجید نظامی کی رہائش گاہ پر پنا ہ لے لی چوہدری شجاعت حسین کو معلوم ہوا تو وہ انہیں لینے کے لئے جناب مجید نظامی کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے او ریہ کہہ کر اپنے گھر لے گئے ’’

دیکھتے ہیں ہمار ی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کو کون گرفتا ر کرتا ہے ؟‘‘ نواز شریف کی گرفتاری کے ابتدائی ایام میں بیگم کلثوم نواز کی اسلام آباد آمد پر چوہدری شجاعت حسین اپنی رہائش گاہ ان کے لئے خالی کر دیتےتھےلیکن پرویز مشرف کے’’ جبر ‘‘ نے دونوں خاندانوں کے درمیان ایسے فاصلے پیدا کئے جو اب چوہدری شجاعت حسین اور شریف خاندان کی حد تک توختم ہوگئے ہیں لیکن چوہدری پرویز الٰہی کی حد تک ابھی قائم ہیں ۔25 ستمبر 1981ء کی دوپہر چوہدری ظہور الٰہی کی موت کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی میں اور شیخ رشید احمد(سابق وفاقی وزیر) نامور خطیب ، صحافی و دانشور آغا شورش کاشمیری کی صاحبزادی صوفیہ شورش مرحومہ کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے لاہور آئے تھے جب چوہدری ظہور الٰہی کی موت کی خبر بارات میں پہنچی تو شادی کی تقریب بھی غم میں تبدیل ہوگئی اگلے روز ناصر باغ لاہور میں چوہدری ظہور الٰہی کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں نے شرکت کی چوہدری ظہور الٰہی اپنی مرسڈیز کار کی اگلی نشست پر سوار تھے جب کہ پچھلی نشست پر سا بق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مولوی مشتاق حسین اور ایم اے رحمن ایڈوکیٹ بیٹھے تھے یہ وہی مولوی مشتاق حسین تھے جنہوں نے نواب احمد خان کے کیس میں ذوالفقار علی بھٹو کو سزا سنائی تھی مرسڈیز گاڑی پوری بلیٹ پروف نہ تھی مجرمان نے مرسڈیز کے اس حصے سے دھاوا بولا جو بلیٹ پروف نہیں تھا چوہدری ظہور الٰہی نے کسی

’’نرسری‘‘ میں پرورش نہیں پائی بلکہ دن رات محنت کر کے سیاست میں بلند مقام پایا۔ وہ ایوب خان کے مارشل لا میں ’’ایبڈو‘‘ کی زد میں آنے والے سیاست دانوں میں شامل تھے وہ ان تین سیاست دانوں میںسے ایک تھے جنہوں نے ایبڈو کی پابندیوں کو چیلنج کر کے عدالت سے عملی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت حاصل کی بے نظیر بھٹو چوہدری برادران سے صلح کرنا چاہتی تھیں لیکن چوہدری ظہور الٰہی کی صاحبزادیاں ’’سیاسی صلح‘‘ کی راہ میں حائل ہو گئیں اور بے نظیر بھٹو کے ظہور پیلس میں استقبال کی تقریب منسوخ کرنا پڑی ۔ چوہدری پرویز الٰہی کی خوبی کہیں یا کمزوری وہ اپنے دوست کی’’دشمن ‘‘ سے دوستی برداشت نہیں کرتے وہ نواز شریف سے دوستی رکھنے والے اخبار نویس دوستوں سے برملا اپنی ’’ناراضی ‘‘کا اظہار بھی کر تے رہتے ہیں ۔ چوہدری ظہور الٰہی نے ملکی سیاست میں شاندار روایات قائم کیں ان کا وسیع دسترخوان تھا وہ ایک غریب پرور سیاست دان تھے غریب آدمی کی مدد کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے ۔آج کے دور کے سیاسی کارکن اور صحافی چوہدری ظہور الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں میں نے چوہدری پرویز الٰہی جیسا ’’ صحافی دوست‘‘ سیاست دان بھی کم ہی دیکھا ہے جس نے اپنے دور اقتدار میں پنجاب ہائوسنگ فائونڈیشن قائم کر کے بلا امتیاز راولپنڈی ، لاہور اور ملتان کے پریس کلبوں کے ارکان کو سر چھپانے کی جگہ دی ۔چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان پائے جانے والے فاصلے 15سال میں ختم نہیں ہو سکے اب جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی اور پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے منصب کی بندر بانٹ ہوئی تو چوہدری شجاعت حسین شریف خاندان کے قریب ہو گئے اور چوہدری پرویز الٰہی نے اپنا سیاسی کیرئیر عمران خان سے وابستہ کر لیا چوہدری پرویز الٰہی کے شریف خاندان سے فاصلے مزید بڑھ گئے نواز شریف اور عمران خان کے درمیان لڑائی نے سب سے زیادہ نقصان چوہدری خاندان کو پہنچایا پچھلے 40سال میں چوہدری شجاعت حسین نے اپنی حکمت عملی سے اس خاندان کا اتحاد برقرار رکھا لیکن یہ اتحاد سیاسی مصلحتوں کی وجہ سےقائم نہ رہ سکا مسلم لیگ (ق) کی قیادت کا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے چوہدری برادران ایک دوسرے کے خلاف قانونی لڑائی لڑ رہے ہیںآنے والے دنوں میں دوبارہ اتحاد قائم ہونے کےامکانات کم ہیں چوہدری مونس الٰہی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں چوہدری شجاعت کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے کہا ’’ماموں (چوہدری شجاعت حسین) آپ مجھے خالی ہاتھ بھیج رہے ہیں میں آ ج آخری بار آپ کے گھر آیا ہوں‘‘