پنجاب اور آزاد کشمیرمیں تحریک انصاف کی حکومتوں کا خاتمہ ۔۔۔۔۔۔ تہلکہ خیز دعویٰ کردیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔گاہے خیال آتا ہے، ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے؟اسحاق ڈارجنہیں ہمارے کرم فرمائوں نے اپنی خفت مٹانے کے لئے نہایت بھونڈے الزامات لگا کرملک سے باہر جانے پر مجبور کیا تھا ،انہیں نہ صرف پورے طمطراق اور کروفر

Almarah Advertisement

کیساتھ واپس لایا گیا ہے بلکہ چوتھی بار وزارتِ خزانہ کا منصب بھی ان کے سپرد کیا گیا ہے۔اسحاق ڈار کی وطن واپسی کی خبروں کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں کمی ہونے لگی اور ان کے بطور وزیر حلف اُٹھانے تک اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 15روپے کم ہوچکی تھی۔امید ہے اسحاق ڈار عوام کی توقعات پر پورا اُتریں گے اور سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ڈالر کو مستقل بنیادوں پر کنٹرول کرکے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ملکی معیشت کو اس حال تک کس نے پہنچایا ؟ مجھ جیسے صحافت کے طالبعلم بھی جانتے تھے کہ ملکی معیشت کی نائو جس گرداب میں پھنس چکی ہے، اسے ایک ہی شخص منجدھارسےباہر نکال سکتا ہے اور اس کا نام اسحاق ڈار ہے۔میں نے کئی بار اپنے کالموں میں اس طرف توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی مگر ہمارے مہربان اور کرم فرما چاہتے تھے کہ معیشت ٹھیک کرنے کا کریڈٹ خود لیں اور اپنا تشخص بہتر کریں چنانچہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنادیا گیا۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نوازشریف یکسو تھے کہ اسحاق ڈار کی واپسی کے بغیر یہ گند صاف نہیں کیا جاسکتا مگر واپسی کے لئے کلیئرنس نہیں مل رہی تھی۔مہربان چلمن سے لگے بیٹھے تھے ۔وہ کیفیت تھی کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ جب واپسی کی بات ہوتی تو کہا جاتا کہ ہم رکاوٹ نہیں بنیں گے لیکن قانونی معاملات پر عدالتیں فیصلہ کریں گی۔

اسحاق ڈار بجا طور پر یہ چاہتے تھے کہ جس طرح دبائو ڈال کر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنوایا گیا، اسی طرح ان کے پاکستان آنے کا راستہ ہموار کیا جائے۔ کئی بار اسحاق ڈار کی واپسی کا اعلان ہوا مگر اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا کیونکہ سابق وزیر خزانہ باعزت طریقے سے وطن واپسی کے خواہاں تھے۔قانون کے مطابق جب کوئی ملزم اشتہاری اور مفرور ہوتا ہے تو سرنڈر کرنے تک اسے کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسحاق ڈار پاکستان واپس آکر پہلے گرفتاری پیش کریں اور پھر ضمانت کے لئے عدالت سے رجوع کریں ۔جب جنرل (ر)پرویز مشرف کو پاکستان واپس لانے کی بات چیت ہوئی تو مسلم لیگ(ن)کی قیادت نے اس لئے رواداری کا مظاہرہ کیا کہ شاید اس کے نتیجے میں دوسری طرف سے کوئی لچک دکھائی جائے۔پھر ایک اور نظیر سامنے آگئی۔سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی میجر (ر) کامران کیانی جو ڈی ایچ اے سٹی اسکینڈل میں مفرور تھے، وہ یکم ستمبر کو پاکستان واپس آئے تو ان کی گرفتاری عمل میں نہ آئی اور عدالتوں نے انہیں ریلیف فراہم کردیا ۔اُدھر ہمارے مہربان اس اُمید پر ڈٹے ہوئے تھے کہ آئی ایم ایف کی قسط آجائے گی تو سب مشکلیں کافور ہوجائیں گی۔ ڈالر دھڑام سے نیچے آگرے گا، روپے کی قدر مستحکم ہو جائے گی اور یوں مفتاح اسماعیل پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے معیشت کی بحالی کا کریڈٹ لیا جاسکے گا مگر حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے ۔آئی ایم ایف کی قسط اور دوست ممالک سے امداد ملنے کے باوجود ڈالر مسلسل مہنگا ہوتا چلا گیا

اور ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔جب سب امیدیں دم توڑ گئیں تو اسحاق ڈار کو واپسی کے لئے گرین سگنل دے دیا گیا۔ طے پایا کہ سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار کی طرف سے دائر اپیل واپس لے لی جائے تاکہ یہ معاملہ احتساب عدالت کی سطح پر ہی نمٹایا جا سکے۔یوں اسحاق ڈار جو27اکتوبر 2017ء کو سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن کی 16ویں وزارتی کانفرنس میں شرکت کیلئے وزیراعظم کے خصوصی طیارے پر دوشنبہ پہنچے تھے ،اسی پروٹوکول کے تحت وزیراعظم کیلئے استعمال ہونے والے پاکستا ن ایئر فورس کے خصوصی طیارے میں پاکستان واپس لوٹ آئے،ان کا راستہ روکنے کا عزم ظاہر کرنے والے کچھ نہیں کرپائےاور ابھی تو ان پر بہت سی خبریں بجلی بن کر گرنے والی ہیں ۔مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے باعزت بری کیا جارہا ہے ،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف بہت جلد واپس آرہے ہیں ،وہ وطن واپسی پر مقدمات کا سامنا تو کریں گے لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔پنجاب اور آزادکشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے جا رہی ہے ،شاید بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی کا صفایا ہوجائے کیونکہ ’’باپ‘‘اورجےیوآئی(ف)کے درمیان سیاسی اتحاد ہونے جارہا ہے۔ لیکن سب سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ ہمارے مہربان اور کرم فرما ئوں کو عوام کی بڑی تعداداب بھی مسیحا اور نجات دہندہ قرار دیتی ہے،کیا انہوں نے اس تجربے کے نتیجے میں کوئی سبق سیکھا؟اب تک تو انہوں نے بس یہ سیکھا ہے کی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھنا اور نت نئے تجربات کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔چلائی گئی کئی فلمیں پٹ چکیں مگر نئے پاکستان کے نام سے متعارف کروائی گئی فخریہ پیشکش جس طرح ناکام ہوئی ،میری دست بستہ گزارش ہے کہ اس کے بعد اس پروڈکشن ہائوس کو بند کردیا جائے۔ معیشت کو بحال کرنے کیلئے سیاسی استحکام درکار ہے، یہ ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔