آڈیو اور ویڈیو لیکس: پاکستانیوں کے لیے مزید کیا سرپرائز موجود ہیں ؟ کو ن کون کھڈے لائن لگنے والا ہے ؟ انصار عباسی کی خصوصی رپورٹ

نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تین ماہ قبل 2 جولائی کو اپنے کالم ’’خان کی آڈیو بھی لیک ہو سکتی ہے!‘‘ میں بتا دیا تھا کہ ایک آڈیو تو ایسی بھی موجود ہے جس میں عمران خان اپنی وزارتِ عظمی کے آخری دنوں میں اپنے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو

Almarah Advertisement

امریکی مراسلے کا حوالہ دے کر کچھ اس طرح کہتے ہیں Lets play with it۔ آج وہی آڈیو لیک ہوگئی اور سب نے سن بھی لیا۔ عمران خان اعظم خان کو اس مراسلے کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ اچھا ، اب ہم نے صرف کھیلنا ہے…. نام نہیں لینا امریکا کا….. بس صرف کھیلنا ہے ۔ اس کے جواب میں اعظم خان نے کہا کہ ایک میٹنگ کر لیتے ہیں، شاہ محمود قریشی اور فارن سیکریٹری کو بلا لیتے ہیں…… شاہ محمود قریشی یہ کریں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سنائیں گے تو جو بھی پڑھ کر سنائیں گے تو اس کو کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس لے لوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ دستاویز بنا کر دی ہے۔ بس اس کا یہ کام ہوگا مگر اس کا تجزیہ یہی ہوگا۔ پھر تجزیہ اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے ۔ تجزیہ یہ ہو گا کہ یہ تھریٹ ہے، ڈپلومیٹک زبان میں اسے تھریٹ ہی کہتے ہیں، دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں۔اپنی مرضی سے منٹس ڈرافٹ کر لیں گے۔ اس کے بعد عمران خان اور اعظم خان مزید بات کرتے ہیں کہ میٹنگ کب بلائی جائے اور کس کس کو اس میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے۔ یوں ایک سائفر کو عمران خان نے بیرونی سازش بنا دیا اور ایک ایسا بیانیہ بنایا کہ اپنی حکومت کی تمام تر غیر مقبولیت اوروزارتِ عظمیٰ سے نکلنے کے باوجود چند ہی ہفتوں میں مقبولیت کی نئی بلندیوں تک پہنچ گئے۔ خان صاحب نے واقعی یہ زبردست کھیل کھیلا

لیکن افسوس کہ اس کھیل میں جھوٹ شامل کرکے اپنی حکومت کی ناکامیوں پر تو ضرور پردہ ڈال دیا اور اپنی سیاست کو بھی خوب چمکایا لیکن اس کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوا، پاکستان کے اداروں کو کتنا نقصان پہنچا؟ اس بارے میں اُنہیں کوئی فکر نہیں۔ اُنہوں نے تو اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے کھیل ہی کھیل میں فوج جیسے ادارے کے سربراہ اور اسٹیبلشمنٹ پر یہ الزام دھر دیا کہ اُنہوں نے امریکی سازش کو کامیاب بنانے کے لیے ہینڈلرز کا کردار ادا کیا۔ ایک ایسی سازش جو کہیں موجود نہ تھی بلکہ عمران خان اور اعظم خان نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اُسے پہلے تیار کیا اور پھر اُس کی بنیاد پر فوج کے سربراہ اور اسٹیبلشمنٹ کے اہم کرداروں کو نیوٹرلز کہہ کر غدار غدار کا الزام لگایا۔ اُنہیں بار بار کہا گیا کہ اُنہوں نے امریکی سازش کو پاکستان میں کامیاب بنایا۔ اب سب کے سامنے یہ راز کھل گیا ہے کہ عمران خان کی سازش کا بیانیہ جھوٹ تھا لیکن اُنہوں نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے اسٹیبلشمنٹ پر ایسا الزام عائد کیا جو انتہائی سنگین ہے اور جس کی وجہ سے فوج کے ادارے کو بہت نقصان ہوا۔ اپنی سیاست کے لیے کوئی قومی مفاد اور اداروں کے ساتھ ایسا گھنائونا کھیل کیسے کھیل سکتا ہے؟ یہ کبھی سوچا نہ تھا۔ عمران خان کے بارے میں تو ایسا خیال بھی کبھی ذہن میں نہ آیا لیکن اُنہوں نے جو کیا اُس نے سیاست کو بہت گندہ کیا ہے۔ خان صاحب چاہے جتنا پاپولر ہو رہے ہیں لیکن اُن کی سیاست ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی جا رہی ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل ہی شوکت ترین کی ایک آڈیو لیک آئی اور وہ بھی تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست کا ایک رُخ تھا جو نہایت افسوک ناک اور ناقابلِ یقین ہے۔ کوئی اپنے سیاسی فائدے کے لیے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے اور سری لنکا جیسے حالات پیدا کرنے کے لیے اس قدر گر سکتا ہے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ عمران خان نے بہت مایوس کیا!