جنرل پرویز مشرف 2002ء میں کیا کرنا چاہتے تھے؟تہلکہ خیز دعوے نے نئی بحث چھیڑ دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی سلامتی کے سابق مشیر طارق عزیز کے داماد نے بتایا ہے کہ سابق آمر جنرل پرویز مشرف 2002ء میں عام انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن چاہتے تھے کہ اپنے دوست طارق عزیز کو وزیراعظم بنا کر حکومت کی جائے۔روزنامہ جنگ میں صالح ظافر کی خبر کے

Almarah Advertisement

مطابق طارق عزیز کا انتقال 18؍ ستمبر کو ہوا تھا اور ان کے داماد تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام ٹیکس افسران نے کیا تھا کیونکہ طارق عزیز ان لینڈ ریونیو کے افسر تھے۔تقریب میں بڑی تعداد میں افسران اور ریٹائرڈ افسران نے شرکت کی اور طارق عزیز کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ طارق عزیز ایف سی کالج لاہور میں پرویز مشرف کے کلاس فیلو تھے اور انہیں پرویز مشرف کا پرنسپل سیکریٹری لگایا تھا۔شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا کہ طارق عزیز ایسی حکومت کی قیادت نہیں چاہتے تھے جس میں عوام کی حمایت شامل نہ ہو۔ وہ ہی چوہدری شجاعت حسین اور دیگر سیاسی رہنمائوں کو پرویز مشرف کے قریب لائے اور عام انتخابات کی راہ ہموار کی۔ وزیراعظم بننے کیلئے ان پر پرویز مشرف کا دبائو جب بڑھ گیا تو انہوں نے پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔