سینئر صحافی ایاز امیر نے کیا رد عمل دیدیا؟ بڑی خبر

اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینئر صحافی ایاز امیر نے بیٹے کے ہاتھوں بہو کے ق ت ل کے واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے اور یہ صدمہ کسی کو اٹھانا نہ پڑے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں فارم ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

Almarah Advertisement

ایاز امیر کا کہنا تھا کہ ایسا واقعہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے۔ صحافی نے ان کے بیٹے سے متعلق سوال کیا کہ ایسا کہا جا رہا ہے شاہ نواز نشے میں تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ قانونی معاملہ ہے، اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟خیال رہےکہ یہ واقعہ آج صبح 10 بجے کے قریب پیش آیا جب شاہ نواز امیر نے ایکسپر سائز ڈمبل کے وار سے اہلیہ سارہ کو ق ت ل کیا اور پھر گھر سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن والدہ نے پولیس کو بر وقت اطلاع کر دی اور اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر شاہ نواز کو گرفتار کر لیا ۔ مقتولہ سارہ کی نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے ۔فیملی ذرائع کا کہناہے کہ سارہ گزشتہ روز ہی دبئی سے واپس آئیں تھیں ، وہ دبئی میں ملازمت کرتی ہیں اور انہوں نے آتے ہی گاڑی بھی خریدی تھی ،گزشتہ رات سے دونوں کے درمیان تکرا ر شروع تھی جو کہ جھگڑے میں تبدیل ہو ئی، صبح جب والدہ نے دیکھا تو سارہ مردہ حالت میں کمرے میں موجود تھی ، شاہ نواز نے بیوی کی ڈیڈ باڈی کو اٹھایا اور واش روم میں لے جا کر ٹب میں رکھ دیا پھر پانی کھول دیا ، والدہ نے جب یہ منظر دیکھا تو انہوں نے فوری پولیس کو اطلاع دی ۔سارہ کینیڈین نژاد تھیں اور شاہ نواز کی ان کے ساتھ تیسری شادی تھی ، دونوں کی ملاقات سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی اور پھر انہوں نے تین ماہ قبل شادی کر لی تھی ۔