’’عمران خان نے عدالت سے معافی نہیں مانگی بلکہ ۔۔۔۔‘‘ وکیل حامد خان کا بڑا انکشاف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ‘ آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھگفتگو کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان نے

Almarah Advertisement

کہا کہ اگر عدالت کو لگتا ہےکہ کوئی ریڈ لائن کراس کی ہے تو اس کی معافی مانگنے کو تیار ہیں۔ عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ غیر مشروط معافی کا مطلب توہین کا اقرار کرنا ہوتا ہے جب کہ عمران خان کا مؤقف یہ ہےکہ انہوں نے توہینِ عدالت نہیں کی ، جو پہلے مؤقف اپنایا تھا وہی مؤقف ہے اور حلف نامہ بھی اسی پیرائے میں ہوگا۔حامد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پہلے بھی اپنے دونوں جوابات میں یہی کہا ہےکہ عدالت کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے کوئی توہین عدالت نہیں کی ، اگر عدالت محسوس کرتی ہے تو اس کی معذرت کرلیتے ہیں۔قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہاہے کہ وہ فواد چوہدری کا نام بھی سننا پسند نہیں کرتے، اختلافات ہوتے ہیں، مجھے کوئی تحریک انصاف سے الگ نہیں کرسکتا، قاضی فائز عیسی ریفرنس سے متعلق میرا پارٹی میں اختلاف رہا ہے۔نجی ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے وکیل حامد خان نے کہا کہ عمران خان نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی نہیں مانگی، عمران خان نے جو معذرت کی ہے اسے غیر مشروط معافی نہیں کہتے۔حامد خان نے کہا کہ عمران خان کی پوزیشن یہ تھی کہ میں نے توہین عدالت نہیں کی ہے، ہم نے کہا ہے کہ اگر عدالت کو یہ تاثر ملا ہے تو ہم اس کی معذرت کرتے ہیں، حلف نامے میں بھی یہی لکھیں گے کہ کوئی توہین عدالت نہیں کی۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دئیے گئےبیان پر سابق وزیر اعظم اور

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے سماعت کے دوران عمران خان نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ میں خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔جمعرات کو خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ۔سماعت کا آغازکرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم صرف چارج پڑھیں گے۔ اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ پچھلی سماعت پر عمران خان بات کرنا چاہتے تھےجس پر عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ میری 26 سال کی کوشش رول آف لا کی ہے،خمیرے سوا جلسوں میں رول آف لا کی کوئی بات نہیں کرتا ۔عمران خان نے خاتون جج سے معافی کیلئے رضامندی ظاہر کی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے لیے توہین عدالت کاروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک رہی ہے۔عمران خان نے دوران سماعت کہا کہ میرے علاوہ کوئی یہ بات نہیں کرتا، عدالت کو لگتا ہے کہ میں نے اپنی حد پار کی، خاتون جج کو دھمکانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔اسلام آبادہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ عمران خان ایک ہفتے کے اندر بیان حلفی جمع کرادیں۔خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہوگا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور معافی کیلئے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔عمران خان نے کہا کہ اگر عدالت کہے تو میں خاتون جج کے سامنے جا کر معافی مانگنے کو تیار ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت آپ کا بیان ریکارڈ کر لے گی۔عمران خان نے کہا کہ کیا بیان حلفی کے علاوہ عدالت کو مطمئن کرنے کا کوئی آپشن موجود ہے؟ جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نہیں، آپ کو بیان حلفی جمع کرانا ہو گا، آپ نے جو کہا اس کا ایک بیان حلفی جمع کرائیں، جو کچھ آپ نے کہا اس عدالت نے آپ کو کہنے کا نہیں کہا تھا۔بعد ازاں عدالت نے عمران خان کو بیان کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی۔عدالت نے کہا کہ ہم فر دجرم کی کارروائی روک رہے ہیں،عدالت نے عمران خان کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 3 اکتوبر تک موخر کردی۔قبل ازیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کے لیے مافیا سے جنگ لڑ رہا ہوں، عدلیہ سے کبھی نہیں لڑوں گا۔