نواز شریف ، آصف زرداری یا عمران خان ۔۔۔؟؟ پاکستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ؟ یہ تحریر پڑھیں اور اپنی رائے ضرور دیں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار افضال ریحان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔آٓج موجودہ اتحادی حکومت کی بڑھائی ہوئی مہنگائی اور روپے کی ناقدری کا رونا ہر کوئی رو رہا ہے، عوام سچے ہیں کہ یہ لوگ سابقہ اناڑی حکومت کو جس نوع کے طعنے دیتے نہیں تھکتے تھے، آج وہ سبھی کچھ ان کے

Almarah Advertisement

کہنہ مشق ہاتھوں سے ہو رہا ہے۔ عوام پونے چار سال سے معاشی تباہی کےنتیجے میں غربت و مہنگائی کی چکی میں پس رہے تھے، ان سیانوں یا تجربہ کاروں نے انہیں کوئی ریلیف دینے کی بجائے آتے ہی ان پر پٹرول جھٹکے دیتے ہوئے، بجلی کے جھٹکےدینا شروع کردیئے۔توجیہات بہت ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے اس کی یہ کڑی شرائط ماننا ضروری تھیں ورنہ ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔ اس نوع کی دلیلیں سابق حکومت کے پاس بھی ڈھیروں تھیں، عام آدمی کو ان سے کیا لینا دینا ، اسے تو دو وقت کی روٹی اور زندگی کا سکون چاہئے، جو اگر پہلے والوں نے برباد کیا تھا تو کسر آپ لوگوں نے بھی کم نہیں اٹھا رکھی۔ طفل تسلیاں دی جارہی تھیں کہ بس ایک دفعہ آئی ایم ایف کی قسط جاری ہو جائے اس کے بعد دوست ممالک سے بھی بڑی گرانٹس پہنچ جائیں گی یوں ہماری معیشت وینٹی لیٹر سے اتر آئے گی۔ روپے اور اسٹاک مارکیٹ کو استحکام ملے گا، قیمتیں نیچے آ جائیں گی اور ہم عوام کو بھرپور ریلیف دیں گے۔ کیا واقعتاً ایسا کچھ ہوا یا ہونے جا رہا ہے؟اب سیلاب کی صورت میں بھی ایک نیا جواز مل گیا ہے اور یہ لوگ جب تک ہٹا نہیں دیئے جائیں گے اس کا ڈھنڈورا بھی خوب پیٹتے رہیں گے، واحد امید بیرونی امداد کی دلائی جاتی ہے جو آتی ہوئی تو دکھائی دیتی ہے، بٹتی ہوئی کم ہی نظر آتی ہے۔ہزاروں لوگ ان کی جان کو رو رہے ہیں اور یہ روایتی توجیہات پیش کرنے میں

پیش پیش ہیں۔دوسری طرف اقتدارکے متمنی نے رٹ لگا رکھی ہے کہ کسی بھی صورت حکومت مجھے سونپ دی جائے قوم مرتی ہے تو مرے، ڈوبتی ہے تو ڈوبے، بس تم لوگ الیکشن کروائو اور چلتے بنو۔ ان صاحب نے خواہ مخواہ اپنی مقبولیت کے نام نہاد غبارے میں جعلی ہوا بھر رکھی ہے۔ معاشی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے اور یہ صاحب کنارے پہ بیٹھے اپنی بڑائی کے ڈھول پیٹ رہے ہیں ،انہیں اس پر ذرا بھی ندامت نہیں کہ یہ ساری معاشی بربادی درحقیقت انہی کی وجہ سے ہے۔ اداروں اور محکموں کی تباہ کاریاں اپنی جگہ، سچائی سے کام لیں تو اس خرابی بسیار کا اصل کریڈٹ تو انہی کو جاتا ہے جنہوں نے اپنے مفاد پرستانہ مقاصد کے تحت آئین و جمہوریت کو کبھی اصول و ضوابط کے مطابق SMOOTHLYچلنے دیا ہی نہیں ہے۔پوری دنیا میں ڈر کی جڑ خوف اور وارننگ ہے۔ کسی لیڈر نے فلا ں کو وارننگ دی ، کارکن نے اپنے محبوب لیڈر کی وارننگ پر عمل کر دکھایا۔ سچائی کیا ہے؟ اس کی بلا سے، جو چاقو مارتے یا بم پھوڑتے ہیں کیا حقیقت کی پرکھ کیلئے ان کی کھوپڑی میں بھیجا ہوتا ہے؟ اگر عقل ہو تو پھر رونا کس بات کا ہے؟ کیا ایسا شخص لیڈر کہلانے کا حقدار ہے جو اپنےمداحوں کو کھلے بندوں اکسائے کہ یہ جو میرے خلاف ہیں یا میری مطابقت میں نہیں چل رہے یا میرے لوٹے بن گئے ہیں ان کا گھیرائو کرو۔ ایسی صورت میں کیا کسی بے گناہ کی جان نہیں جاسکتی ؟

کیا اسی اسلام آباد میں سیاسی مخالفین پر اٹیکس نہیں ہو چکے ؟ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا قانون کو ایسی وحشت کا سدباب کرنے کیلئے سختی برتنی چاہئے ؟بڑے بھائی جان جہاں بھی کھڑے ہیں کیا انہیں بھی اب کٹھ پتلیوں کے کھیل سے دستکش نہیں ہو جانا چاہئے۔ اس قوم کا اصل دکھ ان کی معاشی تنگدستی و بدحالی ہے ، مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، ان بے چاروں کی بلا سے کہ تمہارا کون سا حصہ ’’جسم و جان‘‘ ہے اور کون سی ’’شہ رگ‘‘ ۔ شہ رگ کو اگر کسی دشمن نے دبوچ رکھا ہو تو انسان پچھتر سال کیا پانچ منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ آج ایک ایک باشعور پاکستانی کو یہ سمجھ آ چکی ہے کہ پچھلی سات دہائیوں سے ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے، ہمارے مسائل وہ نہیں ہیں جو مطالعہ پاکستان نامی کتاب میں ہمیں پڑھائے جاتے ہیں، ہمارا اصل مسئلہ روٹی کپڑا، مکان، علاج و انصاف اور تعلیم کا ہے ۔ اگرچہ کئی مداریوں نے ان مسائل کو بھی حصول اقتدار کے لئے محض نعرے بازی کے طور پر استعمال کر کے عوام کا استحصال کیا۔موجودہ بلند پرواز کی خدمت میں بھی گزارش ہے کہ وہ محض اپنی آنیاں جانیاں دکھانے کی بجائے اس قوم کے اصل دکھ کی طرف توجہ مبذول فرمائیں، ہمارا اصل ایشو ہماری ’’برباد معیشت‘‘ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اپنا ٹارگٹ معاشی خوشحالی بناتے ہوئے تعلقات اسی حوالے سے استوار کریں۔ ’’ہمارا جسم و جان‘‘ ہماری معیشت ہے صرف معیشت۔یو این کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اپنے عوام کے اس کور ایشو کو نظر انداز نہ کریں، پوری دنیا کے سامنے خود کو عالمی بھکاری کے روپ میں پیش مت کریں،کہاں ہے ہمارا وہ اقبال جو خودی کی باتیں کرتا نہیں تھکتا تھا۔؎جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی