ملکہ برطانیہ کے پاس کتنی ذاتی دولت تھی؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئیگا

لندن (ویب ڈیسک)ملکہ الزبتھ دوم تخت پر 70 سال حکمرانی کے بعد تقریبا 400ملین پاونڈ کے اثاثوں کی مالکن تھیں۔ جمعرات کو بکنگھم پیلس نے اعلان کیا کہ ملکہ برطانیہ بالمورل کیسل میں انتقال کر گئیں۔ ملکہ کی ساری دولت کا پتا چلنا تو ناممکن ہے مگر ان کے ذاتی اثاثوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے

Almarah Advertisement

مطابق ملکہ کو وراثت میں 500 ملین ڈالر سے زیادہ کے ذاتی اثاثے ملے، جس میں دولت کا بڑا حصہ ان کی آرٹ کلیکشن، زیورات، اور رئیل اسٹیٹ ہولڈنگزہیں جس میں سینڈرنگھم ہاؤس اور بالمورل کیسل بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کے بڑے بیٹے چارلس نے اپنی والدہ کی موت کے بعد جمعرات کو برطانوی تخت سنبھالا ہے۔بادشاہ بننے کے بعد چارلس نہ صرف تخت پر بیٹھیں گے بلکہ ملکہ کی ساری دولت اور اثاثوں کے مالک بھی ہونگے۔دوسری جانب ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات اور اس کے بعد کی تاجپوشی پر تقریبا 6 بلین پاونڈ کا خرچہ آئے گا جو کہ پاکستانی رقم میں ساڑھے 15 کھرب روپے سے زائد ہیں۔ 1952 میں تخت پر آنے کے بعد سےملکہ دنیا کی سب سے مشہور خاتون بن گئیں۔ان کی تصویر برطانیہ کے تمام ڈاک ٹکٹوں، سکوں اور نوٹوں پر ہے، اور ان کے ابتدائی نام پورے برطانیہ میں پوسٹ بکس، یونیفارم اور سرکاری دفاتر میں لکھے ہوئے ہیں جن کو اب نئے بادشاہ کی تاجپوشی کے بعد تبدیل کیا جائے گا۔ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات پر 6 بلین پاونڈ کا خرچہ آئے گا جو کہ پاکستانی رقم میں ساڑھے 15 کھرب روپے سے زائد ہیں۔ آخری رسومات پر ہونے والے سارے خرچے ریاسست برداشت کرے گی۔ یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ کی موت کے بعد برطانیہ میں نئی کرنسی چھپے گی جس پر ان کے بیٹے چارلس کی تصویر کشی کی جائے گی اورچارلس کے تخت پر آنے کے بعد قومی ترانے کے الفاظ بھی تبدیل کیے جائیں گے۔