سعادت حسن منٹو کے ایک افسانے میں ایک کردار مجھے بالکل عمران خان جیسا نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔سینئر صحافی کی انوکھی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار وجاہت مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔5 ستمبر کی سہ پہرعمران خان نے فیصل آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسہ عام سے دھواں دھار خطاب کیا۔ حسب معمول دائیں بائیں دھول اڑاتے نکل گئے۔ حضرت کے ارشادات پرغالب کا’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ والا شعر مناسب رہتا

Almarah Advertisement

لیکن مصرع اولیٰ کے ایک لفظ نے روک دیا۔ عمران خان صاحب کی تو اپنی زبان سے ’بوئے بدرو می آید‘۔ ان کی ذریات سے شعر فہمی کی توقع عبث ہے۔ سو آپ غالب کی بجائے فیض سے استفادہ کر لیں، ’گرجے ہیں بہت شیخ سر گوشہ منبر‘۔ علاوہ دیگر فرمودات کے عمران صاحب نے پھر سے فوج پر لب کشائی فرمائی۔ پولیس، بیورو کریسی اور عدلیہ پر حضرت کے جوشِ خطابت نے پہلے سے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج کو ’نیوٹرل‘ قرار دیا تو حضرت عمران کو گویا پھبتی سوجھ گئی۔ جو نہیں کہنا تھا، وہ بھی ’نیوٹرل‘ کی گلوری میں لپیٹ کر اپنے مداحوں کا جی گرماتے رہے۔ متعلقہ حلقوں سے فہمائش بھی ہوئی مگر حضرت سیلابی ریلے کی طرح پھیلتے ہی چلے گئے۔ مخالفین کا موقف ہے کہ شہباز گل کا زیر سماعت ٹی وی تبصرہ ان کے رہنما کی ہدایت کا نتیجہ تھا۔ اس الزام کا ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا لیکن فیصل آباد میں عمران خان نے گویا پردہ اٹھا دیا۔ حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اب تک ملک کا ہر شہری حضرت کی خوش بیانی سے آشنا ہو چکا ہے۔ حضر ت نے ایک ہی جملے میں تین مرتبہ ٹھوکر کھائی۔ محبِ وطن آرمی چیف کا مطالبہ کیا۔ گویا اعلیٰ عسکری قیادت میں کوئی غیر محبِ وطن بھی ہو سکتا ہے۔ آئندہ آرمی چیف سے بدعنوانی پر گرفت کی امید باندھی۔ بدعنوانی کے معاملات دیکھنا آرمی چیف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس کیلئے ایف آئی اے، نیب اور عدلیہ موجود ہیں۔ اور یہ کہ آرمی چیف کی تعیناتی

وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اس کیلئےوزیراعظم کو قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی بھی ضرورت نہیں اور عمران خان تو اپوزیشن لیڈر بھی نہیں ہیں۔ 9اپریل کے بعد سے ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی مستعفی ہو چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں۔ عمران خان اور ان کے رفقا 2014 کے دھرنے کی طرح استعفے اور مالی مراعات سے بیک وقت مستفید ہو رہے ہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی پر اختیار ایسا کلیدی قضیہ ہے کہ اس کیلئے جنرل ضیا نے 1985اور جنرل مشرف نے 2003 میں بالترتیب آٹھویں اور سترہویں آئینی ترامیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑا۔ 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم نے یہ اختیار وزیراعظم کو واپس لوٹا دیا۔ اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس کا قضیہ تو آپ کو یاد ہو گا۔ وہ وزیراعظم کے اسی اختیار کا شاخسانہ تھا۔ سادہ لفظوں میں عمران خان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کا تخت صبا برق اندازوں کے کندھے پر رکھ کر ایوان اقتدار میں واپس لایا جائے جہاں وہ مطلق العنان اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ یہ مگر 2018 نہیں ہے۔ ہائبرڈ بندوبست کا تجربہ اوندھے منہ پڑا ہے۔ عمران خان کی بے مہار گفتار سے ان کے غالی حامی بھی مشکل میں ہیں۔ سابق فوجی افسروں کی تنظیموں سے آئی ایس پی آر کا اعلانِ لاتعلقی معنی سے خالی نہیں۔ صدر عارف علوی بھی بھنور میں گرفتار ہیں۔ فیصل جاوید نے شہباز گل کے بیان پر سینیٹ میں ایک دھواں دھار تقریر ارزاں کی تھی۔ اب اپنے لیڈر کی گل افشانی پر کیا کہیں گے جس کی کیفیت منٹو کے کردار بھولو سے مشابہ ہے۔’بھولو کے دل میں چھری سی پیوست ہوگئی۔ اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ اٹھا اور کوٹھے پرچڑھ کر جتنے ٹاٹ گئے تھے اکھیڑنے شروع کردیے۔ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ سن کر لوگ جمع ہوگئے۔ انھوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ لڑنے لگا۔ بات بڑھ گئی۔ کلن نے بانس اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ بھولو چکرا کرگرا اور بے ہوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔‘