عمران خان کی فوج پر مسلسل تنقید ، اصل وجہ کیا ہے اور جلد کیا ہو گا ؟ سلیم صافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آرمی چیف کی تقرری کا مرحلہ فی الحال تین ماہ دور ہے لیکن گزشتہ روز انتخابی جلسے میں انہوں نے ایسا بیان دیا کہ جس کی وجہ سے فوج کی موجودہ، سابق اور آنے والی قیادت سے متعلق ایک غیرضروری بحث شروع ہوگئی، جس کے بارے میں چیف جسٹس

Almarah Advertisement

اطہرمن اللہ جیسے آزادیٔ اظہار اور انسانی آزادیوں کے علمبردار جج کو بھی مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ عمران خان کے اس طرح کے بیانات سے فوج کے مورال پر اثر پڑتا ہے ۔دوسری طرف تمام افواج کی ترجمانی کرنے والے آئی ایس پی آر کو یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ عمران خان کے بیان کی وجہ سے افواج پاکستان کی صفوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔عمران خان نے یہ تاثر دیا کہ آرمی چیف بننے کے لئے کوالیفائی کرنے والوں میں کوئی غیرمحبِ وطن بھی شامل ہوسکتا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سابق صدر زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف یا موجودہ وزیراعظم شہباز شریف تھری اسٹار جرنیلوں سے باہر کسی کو آرمی چیف نہیں بناسکتے ۔ عمران خان کے اس فقرے سے یہ تاثر نکلتا ہے کہ خدانخواستہ کوئی تھری اسٹار جرنیل غیر محب ِوطن بھی ہوسکتا ہے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ آنے والے آرمی چیف کے لئے حسبِ روایت چند نام موجودہ آرمی چیف بھیجیں گے اور وزیراعظم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔ یوں عمران خان نے موجودہ نہیں بلکہ آنے والے آرمی چیف کو بھی ابھی سے متنازعہ بنانا شروع کر دیا ہے، حالانکہ تقرر کوئی بھی کرے لیکن تقرری کے بعد وہ فوج کا چیف ہوتا ہے۔آئینی اور اصولی طور پر تو آرمی چیف کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر عمرانی کلیے کو صحیح مان لیا جائے تو بھی ان کی گفتگو خرافات کے سوا کچھ نہیں۔مثلاً جنرل ضیا کا تقرر بھٹو نے کیا اور پھران کے دور میں ہی ان کو سزاملی۔

جنرل مشرف کا تقرر نواز شریف نے کیا تھا اور اسی جنرل مشرف نے انہیں اقتدار سے باہر نکال کر مارشل لا لگا دیا۔جنرل آصف نواز، جنرل وحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق کیانی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ سب وہ آرمی چیفس ہیں جن کا تقرر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے وزرائے اعظم نے کیا تو عمرانی کلیے کے مطابق کیایہ جرنیل غیرمحبِ وطن یا بدعنوانی کی سرپرستی کرنے والے تھے؟ حالانکہ آرمی چیف صرف اپنے فوج کا چیف ہوا کرتا ہے ۔جنرل راحیل شریف کا انتخاب نواز شریف نے کیا تھا لیکن ان کے دور میں ان کی حکومت کے خلاف دھرنے ہوئے اور اسی دور میں آئی ایس آئی پی ٹی آئی کی سرپرستی کرتی رہی۔ اسی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ کا انتخاب میاں نواز شریف نے کیا تھا لیکن ان کے دور میں نواز شریف حکومت سے محروم ہوئے اور عمران نیازی نہ صرف وزیراعظم بنے بلکہ تاریخ کے وہ وزیراعظم رہے جن کی فوج نے سب سے زیادہ مدد کی ۔آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر پاکستانی خواہ وہ سویلین ہو یا فوجی، محبِ وطن ہے ۔ کسی فوجی کی حب الوطنی سے متعلق (جب تک کوئی عدالت ثابت نہ کردے) کوئی سوال اس لئے نہیں اٹھایا جاسکتا کیونکہ اس نے ملک کی خاطر جان قربان کرنے کی قسم کھائی ہوتی ہے ۔ فوج میں جو لوگ ہر معیار پر بہترین قرار پاتے ہیں، وہ تھری اسٹار بنتے ہیں اور ہر تھری اسٹار آرمی چیف بننے کا اہل ہوتا ہے۔یوں ان میں حب الوطنی اور بدعنوانی کی بنیاد پر تفریق کرنا قبیح ترین عمل ہے۔فوج اگرسیاست، عدالت، صحافت یا حکومت کے معاملات میں نیوٹرل نہیں رہتی تو وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتی ہے اور یہاں تنقید نہ صرف جائز بلکہ فرض بن جاتی ہے لیکن عمران خان کی تنقید کی بنیاد یہ ہے کہ فوج آئینی رول تک محدود ہوکر نیوٹرل کیوں بنی؟ انہوں نےجب فوجی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماضی کی طرح ان کے حق میں غیرآئینی کردار ادا کرے تو انہیں جواب ملا کہ وہ نیوٹرل رہیں گے۔اب بھی انہوں نے کرپشن کے حوالے سے آرمی چیف کا ذکر کیا ہے حالانکہ ازروئے آئین بدعنوانی پر پکڑ کرنا فوج کا نہیں بلکہ نیب اور عدالتوں کا کام ہے۔ اس حوالے سے اگر فوج مداخلت کرتی ہے تو آئین شکنی کی مرتکب ہوتی ہے۔ اب بھی نیازی صاحب فوج کے ادارے پر تنقید اس لئے کررہے ہیں کہ وہ اپنے آئینی دائرے سے نکل کر ان کے حق میں غیرآئینی کردار ادا کرے جب کہ ہماری تنقید کی بنیاد یہ تھی کہ سیاست، صحافت اور پارلیمنٹ میں مداخلت فوج کا کام نہیں۔