Categories
آرٹیکلز

واٹس ایپ پر موصول ہونے والے عمران خان کے ایک پیڈسٹل فین کی انوکھی اور دلچسپ تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سونے کے انڈے دینے والی مرغی روزانہ سونے کا ایک انڈا دیا کرتی تھی تو اس کے مالک نے سوچا کیوں نہ پوری مرغی ہی ایک ساتھ حلال کرڈالوں تو بہت سارے سونے کے انڈے ایک ساتھ ہی مل جائیں گے

مگر جب اس نے مرغی حلال کی تو وہ مرغی اسے اندر سے خالی ملی۔۔کچھ ایسا ہی عمران خان کے اقتدار کے ساتھ کیا گیا۔۔جب عمران خان کو اقتدار سونپا گیا تھا تو قومی خزانہ اس قدر خالی تھا کہ تین مہینے بھی مشکل سے چل پاتا۔۔سارے چور لٹیرے خوش تھے کہ ہم نے تو پورا خزانہ ہی چاٹ لیا ہے، اب عمران خان کیسے اقتدار چلائے گا، اگر اس نے کوشش بھی کی تو مشکل سے چند ماہ ہی نکال پائے گا۔۔مگر حیرت انگیز طور پر تین مہینے تو کیا عمران خان اسی خالی خزانے کے ساتھ تین سال نکال گیا۔۔ جی ڈی پی گروتھ چھ فیصد پر لے گیا جو پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جی ڈی پی چھ فی صد تک جائے۔بلکہ عمران خان نے ستر ارب قرضے میں سے پانچ ارب قرضہ بھی چکادیا تھا مزید وقت ملتا تو قرضہ پچاس فی صد تک ادا کرجانا تھا ۔۔معیشت کی اس ترقی کو دیکھتے ہوئے لومڑی اور گیدڑوں کو شک گزرا کہ کہیں خزانہ وہ آدھا بھرا تو نہیں چھوڑ گئے تھے جو عمران خان نے خالی خزانے کے ساتھ اتنی معیشت بہتر بھی کرلی۔۔ان کو شک گزرا کہ قومی خزانہ مکمل سونے کے انڈوں سے بھرا ہوا ہے توکیوں نہ اسے ذبح کریں اور ایک ساتھ سارے سونے کے انڈے ایک ساتھ حاصل کر لیں۔۔ اور پھر یہی کیا گیا سونے کے انڈے دینے والی مرغی ملی بھگت کرکے ذبح کردی گئی۔۔خزانہ دیکھا تو بائیس ارب ڈالر موجود تھے، جسے ایک ماہ میں ہی اڑا دیاگیا

اور ملک کو ڈیفالٹ کی جانب آہستہ آہستہ دھکیلا جانے لگا۔۔سوال یہ ہے کہ عمران خان نے خالی خزانے کے ساتھ تین سال اس ملک کو کیسے چلایا؟؟؟تو جناب عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں سے مدد مانگی تھی پاکستان کے لئے اس بندے نے ہاتھ پھیلایا تھا اور بیرون ملک پاکستانیوں نے لبیک کہتے ہوئے خان کو مایوس نہیں کیا اور وطن کی محبت میں پیسے بھیج کر ملک کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔۔پھر خان نے بڑے ممالک کے دورے کئے جس سے بڑے دوست ممالک نے بھی خان کی مدد کی کہ وہ پاکستان کو مستحکم کرپائے ۔اس بندے نے ایمانداری سے پاکستان کا قرضہ چکانے میں وہ پیسہ لگایا اور درپردہ بہت سارے پروجیکٹس شروع کئے جس میں ۔۔مصنوعی جنگلات کیلئے درخت لگائے گئے۔۔زیتون کی کاشت کاری کی گئی اور اسے انٹر نیشنل مارکیٹ میں سیل کیا گیا جو باہر بہت پسند کیا گیا۔۔خان نے کسانوں کو ڈائریکٹ مارکیٹ ریٹ والی رقم ان کی فصلوں پر دلوائی۔۔صحت کارڈ شروع کئے۔۔راشن دینے والاکام شروع کیا۔۔لنگر خانہ شروع کیا۔۔جدید شہر بنانے والے پروجیکٹس پر سائن کئے جس میں بیرون ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی ۔۔سیاحت کے شعبے کو ابھارا ۔۔ لاک ڈائون کے دوران بھارت و بنگلہ دیش بیرون ممالک کپڑوں کے کئی پراڈکٹس سیل کرتے تھے جن میں تولیے چادریں ڈریس وغیرہ کے کئی آئٹمز تھے مگر لاک ڈائون کی وجہ سے ان کے کارخانے وقت پر مال تیار نا کرپائے تو خان نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ان ممالک سے بات کرکے کہ کم وقت میں یہی مال پاکستان اپنے

کارخانوں میں تیار کرکے دے گا۔۔چنانچہ انڈیا بنگلہ دیش کے بڑے آرڈرز چھین کر پاکستان میں رات دن فیکٹری کارخانوں میں ارجنٹ بنیادوں پر جلد سارا مال تیار کرا کر انٹرنیشنل مارکیٹ میں سیل کرادیا۔۔وہ مال باہر بہت پسند آیا اور پاکستان کی کپڑوں کی صنعت کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی جگہ مل گئی۔۔اسی کرونا لاک ڈائون میں خان نے قومی خزانہ میں بائیس ارب ڈالر اکٹھے کئے۔۔پانچ ارب ڈالر کا قرضہ اتارا۔۔معیشت کی حالت بہتر کردی۔۔ عالمی مہنگائی میں بھی عام پاکستانیوں پر اتنا بوجھ نہیں ڈالا کہ گھر چلانا ممکن نہ رہے۔۔اس کے علاوہ اس وقت سب نے نوٹ بھی کیا ہوگا کہ عالمی لحاظ سے پاکستان کی عزت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا تھا مودی کو خان نے ادھیڑ کر رکھ دیا تھا ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ میں کسی کی لاج نہ رکھی سارے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے مسلم ممالک اور دوست ممالک خان سے بہت خوش تھے۔۔بھارت اور اسرائیل کی نیندیں اڑادیں۔۔ خان کا رہنا ان کی موت تھی کیونکہ چین و روس اور اردوان بھی خان سے بہت خوش تھے اور ملکر وسط ایشیا تک سی پیک کو لے جانا چاہتے تھے مگر سب کچھ ہوتے دیکھ کر۔۔کچھ لٹیروں کو یہ ترقی ہضم نہ ہوپائی اور انہوں نے سونے کاانڈا دینے والی مرغی کو حلال کرڈالا۔۔واٹس ایپ پر ملنے والی یہ تحریر کپتان کے کسی پیڈیسٹل فین کی لگتی ہے۔۔ جس نے اندھادھند جو دل میں آیا لکھ ڈالا۔۔ خان صاحب کی حکومت ، طریقہ کار یا ان کی ٹیم سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ محب وطن ہے اور ساتھ ہی دیگر سیاست دانوں

کی طرح بددیانت اور لالچی نہیں۔۔ ن لیگی کیمپ کے ایک اینکر آبدیدہ ہوکر بتارہے تھے۔۔وزیراعظم نواز شریف جب بھی مری گئے تو واپسی پر نیوٹرل گیئر لگا کر گاڑی پر آتے تھے تاکہ قومی خزانے کا پیٹرول بچ سکے۔ ۔جب عدالت نے حمزہ شریف کو ٹرسٹی وزیراعلیٰ کہا تو تجزیہ کاروں اور آئینی ماہرین کا کہنا تھا کہ آئین میں ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہوتا نہیں وہ عبوری وزیراعلیٰ ہیں۔۔ایک یوتھیئے نے سوشل میڈیا پر لکھا۔۔ جب ککڑیاں تندوری ہوسکتی ہیں تو عبوری کیوں نہیں؟؟۔۔عوام پاکستانی سیاست دانوں سے کتنا متاثر ہوتے ہیں اس کی مثال اس واقعہ سے پتہ لگ جائے گی۔۔ایک پاکستانی اور امریکن دونوں دوست تھے ایک دن دونوں ایک چاکلیٹ سٹور میں چاکلیٹ خریدنے کی نیت سے گئے۔۔وہاں سب لوگوں کو مصروف دیکھ کرامریکن نے تین چاکلیٹ چرالیں۔ جب دونوں باہر آئے تو امریکن کہنے لگا ۔۔میں سب سے اچھا چور ہوں میں نے تین چاکلیٹ چرالی ہیں اور کسی نے دیکھا بھی نہیں، تم ایسا نہیں کرسکتے۔۔پاکستانی نے یہ سن کر امریکی دوست کو گھورا اور کہا میں تمہیں اس سے بھی اچھی چیز دکھاتا ہوں۔۔دونوں چاکلیٹ سٹور کے کاؤنٹر پر گئے اور وہاں سیلز گرل سے پاکستانی نے کہا۔۔تم جادو دیکھنا چاہتی ہو؟؟ سیلز گرل نے کہا ۔۔ہاں۔۔پاکستانی نے کہا۔۔مجھے ایک چاکلیٹ دو۔۔سیلزگرل نے اسے چاکلیٹ دی وہ اسے کھاگیا۔۔پھر اس نے دوسری چاکلیٹ مانگی وہ بھی کھاگیا۔۔پھر تیسری چاکلیٹ مانگنے کے بعد اس کا حشر بھی وہی کیا۔۔سیلزگرل حیران کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔۔ تیسری چاکلیٹ کھانے کے بعد اس نے پاکستانی سے کہا۔۔ اس میں جادو کہاں ہے؟؟ پاکستانی نے کہا۔۔ میرے دوست کی جیب دیکھو، اس کی جیب سے تین چاکلیٹ نکلیں گی۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔