کیا اسٹیبلشمنٹ دوبارہ کبھی عمران خان پر بھروسہ کر پائے گی؟سینئر صحافی انصار عباسی کا بے لاگ تجزیہ

لاہور(ویب ڈیسک)سینئر صحافی انصار عباسی اپنے کالم میں لکھتے ہیں ، گزشتہ چند ماہ کے دوران عمران خان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اپنے فائدے اور دوسرے کے نقصان کیلئے ہر طرح کی توجیہات پیش کر سکتے ہیں چاہے اُن میں وہ لوگ ہی شامل کیوں نہ ہوں جنہوں نے عمران خان کو قانونی طور پر یا غیر قانونی طور پر ماضی کی طرح فائدہ پہنچایا ہو آزاد مبصرین سمجھتے ہیں کہ چاہے اسٹیبلشمنٹ اپنے ماضی کے متنازع کردار کی طرف واپس کیوں نہ لوٹ آئے، عمران خان وہ شخص نہیں بن پائیں گے جن پر بھروسہ کیا جا سکے۔کہا جاتا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی ایک بڑا سبق ہیں۔ عمران خان کے بے لگام انداز سے اسٹیبلشمنٹ پر حملے ان کی اپنی پارٹی کے رہنماؤں کیلئے سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں لیکن پارٹی کے لوگ بھی بے بس ہیں۔ وہ آپس میں اس بات پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے روکا جائے، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان سے انتہائی محتاط رہنے کو بھی کہتے ہیں۔ق لیگ کے رہنما، پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی بھی انہیں خبردار کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پر عوامی جلسوں اور میڈیا انٹرویوز میں تنقید نہ کریں لیکن بدلے میں ایسے تمام افراد کو ’’اپنے لوگ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے حال ہی میں بیچارے پرویز الٰہی کو عمران خان کی شہباز گل کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہ دینے کی خواہش پر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کیلئے ایک بھیانک خواب کے جیسی ہے۔

Almarah Advertisement

پرویز الٰہی اس صورتحال کے خواہاں نہیں تھے جو پیدا ہوئی لیکن عمران خان کے دباؤ کی وجہ سے پروی الٰہی نے شہباز گل کے بیان کو مسترد کرنے کے باوجود کچھ با اثر لوگوں سے رعایت مانگنا پڑ گئی جنہوں نے پرویز الٰہی سے کہہ دیا کہ قانون پر عمل کریں۔ عمران خان کو پرویز الٰہی کی واسطے داریوں کا علم ہے۔پی ٹی آئی میں پرویز خٹک بھی ایسے ہی شخص ہیں۔ پرویز الٰہی اور پرویز خٹک دونوں خود کو ہزیمت آمیز صورتحال میں پھنسا دیکھ رہے ہیں۔پرویز الٰہی چاہتے تھے کہ اُن کی تمام تر توجہ گورننس اور کارکردگی پر رہے لیکن انہیں غیر ضروری ایشوز میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔