کیا اسٹیبلشمنٹ مسلسل غیر جانبدار رہ پائے گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے 2013میں پہلی مرتبہ عمران خان کو لاڈلے کا خطاب دیا تھا لیکن یہ میری بھی توقع نہیں تھی کہ وہ اس قدر لاڈلے بن جائیں گے کہ پارٹی فنڈنگ کیس کے فیصلے کو برسوں تک لٹکایا جائے گا۔

Almarah Advertisement

ان کے سول نافرمانی کے اعلانات اور پی ٹی وی پر دھاوے تک کے جرائم سے چشم پوشی اختیار کی جائے گی اور ان کی کابینہ میں مغرب اور پڑوسی ملکوں کے ایجنٹوں کو برداشت کیا جائے گا۔ لیکن نیوٹرلز کی انوسٹمنٹ غالباً اتنے طویل عرصے پر ہی محیط تھی اور ان کی خاطر دشمنیاں اتنی لی گئی تھیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان کے وہ وہ نخرے اور وہ وہ لاڈ نیوٹرلز نے برداشت کئے کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یوں لاڈلے اور لاڈلے کے لاڈلوں شہباز گل، شبلی فراز، فواد چوہدری، فیصل جاوید، اعظم خان اور اسی طرح کے دیگر لاڈلوں کے نخرے بھی حد سے بڑھنے لگے۔ پی ٹی آئی نے بدعنوانی میں پیپلز پارٹی کو مات دی۔ نااہلی میں ایم ایم اے کو مات دی اور نیوٹرلز کے ساتھ چھیڑخانی میں مسلم لیگ (ن) کو مات دی۔ قومی سلامتی کے فیصلے بنی گالہ میں عمل اور سحر اور خوابوں سے ہونے لگے اور لاڈلا الٹا نیوٹرلز کے ادارے میں گھس کر اپنی من مانی کرنے لگا۔ دوسری طرف معیشت تباہ کردی۔ ناقص سفارت کاری سے پاکستان کو ہر دوست سے محروم کردیا۔ ان کی ناکامیوں کی وجہ سے فوج کو مغلطات پڑنے لگی۔ چنانچہ تنگ آکر فوج نے نیوٹرل بننے اور سیاست سے لاتعلق ہو کر آئینی رول تک محدود ہونے کا فیصلہ کیا لیکن لاڈلے کو فوج کی یہ ادا پسند نہ آئی۔ اب ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ وہ جاکر اپنے محسنوں سے معافی تلافی کرتے لیکن اس کی بجائے انہوں نے پریشرائزنگ اور دبائو کا راستہ اختیار کیا۔ امریکی سازش کے جھوٹے بیانیےکا اصل مقصد بھی ریاست اور فوج کو آزمائش سے دوچار کرنا تھا۔

ماضی میں بھی کئی جماعتیں اور پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں فوج پر تنقید کرتی رہی ہیں لیکن ان کی تنقید یہ رہی کہ آپ نیوٹرل ہوکر آئینی رول تک محدود کیوں نہیں ہوتے جب کہ عمران خان کی تنقید جہاں سخت تھی، وہاں ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ نیوٹرل بننے کی بجائے غیر آئینی طور پر مجھے سپورٹ کیوں نہیں کرتے؟ پروپیگنڈے کے زور پر لاڈلا اپنا یہ جھوٹا بیانیہ عوام کی ایک بڑی تعداد میں راسخ کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ اسے سازش کے تحت نکالا گیا۔ دوسری طرف لاڈلے کی یہ خوش قسمتی تھی کہ ان کی متبادل جو حکومت آئی وہ چوں چوں کا مربہ تھی۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی اپنی بندربانٹ میں لگی رہیں۔ ان کی نفسا نفسی اور زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کا یہ عالم ہے کہ آج تک حکومت صوبوں کے گورنر نہیں لگا سکی نہ بیانیہ بنا سکی اور نہ اسے پھیلانے کے لئے موثر میڈیا ٹیم سامنے لا سکی۔ شہباز شریف کو مولانا ایک طرف کھینچتے ہیں، زرداری دوسری طرف، اپنی پارٹی کے لوگ تیسری طرف اور بیوروکریسی چوتھی طرف جس کی وجہ سے ان کی قوت فیصلہ ہی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف نیوٹرل، واقعی نیوٹرل ہوگئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت جانے، عمران خان جانے، نیب جانے اور عدالت جانے، جب کہ حکومت اس انتظار میں بیٹھی تھی کہ ان کے لئے اسی طرح مسائل حل کئے جائیں جس طرح لاڈلے کیلئے کئے جاتے تھے۔ اس صورتِ حال سے لاڈلے کو اور حوصلہ ملتا تھا۔ عدلیہ میں ان کی سپورٹ اور اداروں میں بعض لاڈلوں کے ان کے ساتھ اور ان کےحامی میڈیا کی درپردہ حوصلہ افزائی سے ان کا حوصلہ اور بڑھا اور یہاں تک بڑھا کہ جنرل سرفراز اور دیگر افسران و جوانوں کے وطن پر نچھاور ہونے کی آڑ میں سوشل میڈیا کے ذریعے گندی سیاست کھیلی اور بعد میں بنی گالہ کے اندر کچھ سابق وزرا کے مشورے سےفوج میں پھوٹ ڈالنے کے لئے شہباز گل سے منصوبہ بندی کے ساتھ ایسا بیان دلوایا گیا کہ جس میں نچلے رینک کے لوگوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ چنانچہ نیوٹرلز کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا ۔ نیوٹرلز نے کسی حد تک اپنی نیوٹریلیٹی ختم کردی لیکن عمران خان کے لئے نہیں بلکہ اپنے ادارے کو بچانے کے لئے۔ جس کا آغاز شہباز گل سے ہوگیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیوٹرلز کس حد تک غیرجانبدار بنتے ہیں اور کس حد تک متحرک ہوتے ہیں ۔ پھر دیکھنا ہوگا کہ ان کے متحرک ہونے کی صورت میں عمران خان کے ساتھ کون کون کھڑا رہتا ہے؟