عسکری قیادت کن آپشنز پر غور کر رہی ہے ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور صحافی انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عسکری حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ حکومت سے رابطہ کرکے شہباز گل کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی تحویل میں دینے کی درخواست کی جائے تاکہ ان کا کورٹ مارشل کیا جاسکے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ

Almarah Advertisement

جو کچھ بھی شہباز گل نے چند روز قبل کہا اس کے بعد عسکری حکام سنجیدگی سے اس آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ فوج میں بغاوت پر اکسانے کا معاملہ انتہائی سنگین جرم ہے اور عسکری حلقوں میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ایسے جرم میں میں ملوث شخص کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دفاعی حکام نے یہ فیصلہ کرلیا تو وزارت دفاع کے توسط سے حکومت سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ شہباز گل کو تحویل میں لے کر کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی جا سکے۔ حتمی فیصلہ سویلین حکومت کا ہوگا۔ آرمی ایکٹ کے تحت سویلین افراد پر مقدمہ چلانے کا معاملہ ہمیشہ سے ہی متنازع رہا ہے اور سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ عام آدمی کا فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہئے یا نہیں۔ ایک ماہر قانون کے مطابق، آرمی ایکٹ کے سیکشن (d) (1) 2 کے تحت ایسے معاملات میں کسی سویلین پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہیومن رائٹس اور فوجی امور کے ماہر سینئر وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ایسا کچھ نہیں کہ کسی سویلین کو گرفتار کرکے اس کا ٹرائل کیا جائے۔ صرف ایسے سویلینز کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے جو آپریشنل علاقوں میں ہوں اور وہ بھی اس حد تک کہ انہوں نے سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے دور میں جب ملک بھر میں اُن کیخلاف مظاہرے ہو رہے تھے تو انہیں اندیشہ تھا کہ فوج میں ان کیخلاف کہیں بغاوت نہ ہو جائے اس لئے انہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی اور اس میں سیکشن (d) (1) 2 شامل کیا جس کے تحت اگر کوئی شہری (سویلین) فوج کی صفوں کو کمان کیخلاف اکساتا ہے اور سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کیخلاف فوج مقدمہ چلا سکتی ہے۔ کرنل (ر) انعام نے کہا کہ تاہم، فوج اس عرصہ کے دوران کسی سویلین کیخلاف مقدمہ نہیں چلا سکی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کے دور میں ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کو گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے آرمی کمان کو خطوط تحریر کیے تھے۔ اور پھر اس کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا اور قید میں بھیج دیا گیا۔ وکیل نے مزید بتایا کہ ضیاء کے دور میں احمد فراز اور فرخندہ بُخاری کو عسکری حکام نے گرفتار کیا لیکن لاہور ہائی کورٹ نے مداخلت کی اور دونوں کو رہا کر دیا گیا۔