گھاتک کے کاتیا کی طرح عمران خان بھی ہر طرف صرف اپنا ہی راج دیکھنا چاہتے ہیں ، ایسا ممکن ہو سکے گا یا نہیں ؟ ایک خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد بلال غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یوں توکرانتی کاری کپتان بھی بہت شکتی شالی ہیں اور انہیں اپنے عقیدت مندوں کا انتم وشواس بھی حاصل ہے مگر شاید انہیں اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی

Almarah Advertisement

سیاست کے تضادات کے باعث کھلاڑی انتخابی دنگل میں اُترنے سے گریز پا ہوں ۔ آپ جب قومی اسمبلی کی رُکنیت سے مستعفی ہوچکے ہوں تو ایک بار پھر کوئے یار میں جانے اور نئی چوٹ کھا کر واپس آنے سے کیا حاصل؟انتخابی مہم چلانے پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں جب امیدواروں کو معلوم ہو کہ بلے کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑ کر جیت بھی گئے تو ایوان کا حصہ نہیں بن سکیں گے تو پھر کوئی یہ حماقت کیوں کرے؟شاید یہی وجہ ہے کہ کپتان نے 9حلقوں سے تن تنہا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔اگرچہ قومی اسمبلی کی 11نشستیں خالی ہوئی ہیں مگر ان میں سے 2مخصوص نشستیں ہیں جن پرالیکشن نہیں ہورہا ورنہ کپتان اپنی ٹیم کو پویلین میں بٹھا کر اکیلے ہی 11کھلاڑیوں کی جگہ لینے کو تیار ہوجاتے۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑنے کی روایت نئی نہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو نے بیک وقت دو حلقوں سے انتخابات میں حصہ لیا ۔محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے ایک سے زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑا۔2008ء کے عام انتخابات میں جاوید ہاشمی مسلم لیگ(ن)کے ٹکٹ پر ملتان، راولپنڈی اورلاہور سے بیک وقت کامیاب ہوئے۔ عمران خان نےخود2013ءمیںچار حلقوں میانوالی،لاہور،راولپنڈی اور پشاور سے انتخابات میں حصہ لیا۔لاہور میں سردار ایاز صادق نے انہیں شکست دی جب کہ جیتی ہوئی دیگر تین نشستوں میں سے راولپنڈی کی نشست پاس رکھتے ہوئے دو نشستیں انہوں نے خالی کردیں۔ضمنی الیکشن میں پشاور سے غلام احمد بلور نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دے دی۔2018ء کے انتخابات میں عمران خان نے اپنے قد کاٹھ میں مزید اضافہ

کرنے کیلئے پانچ حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیااور کامیاب رہے۔بعد ازاں انہوں نے اسلام آباد،بنوں ،کراچی اور لاہور سے جیتی ہوئی نشستیں چھوڑ دیں ۔میانوالی سے وہ اب بھی رُکن قومی اسمبلی ہیں ۔اب اگر وہ 9حلقوں میں ضمنی الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے تو ان تمام حلقوں میں ایک بار پھر الیکشن کروانا پڑے گا ۔میں نے 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی انہی صفحات پر عرض کیا تھا کہ ایک سے زیادہ حلقوں سے بیک وقت الیکشن لڑنے کا بھونڈا مذاق اب ختم ہونا چاہئے ۔ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کیلئے اگریہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ مقامی ہوں اور ان کا ووٹ اسی حلقے میں درج ہو تو پھر امیدوار ’’امپورٹڈ‘‘کیسے ہو سکتا ہے؟اصولاً اسی شخص کو الیکشن لڑنے کا حق دیا جائے جس کا تعلق اسی حلقے سے ہوکیوں کہ اگر اس حوالے سے قانون سازی نہ کی گئی تو یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ عام انتخابات میں عمران خان کسی اور کو ٹکٹ دینے کے بجائے 272حلقوں پرخود ہی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیں ۔ غالباً 1996ء میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’’گھاتک‘‘ ،جس میں سنی دیول نے مرکزی کردار اداکیا تھا ،میں دہلی کی ایک مارکیٹ جس پر ’’کاتیا‘‘نامی غنڈے کی اجارہ داری ہوتی ہے ،وہاں سب دکانوں پر ایک ہی نام لکھا ہوتا ہے ۔کپتان کی بھی یہی خواہش ہے کہ ہر طرف ایک ہی تصویر اور ایک ہی نام ہو۔؟وہ برگد کا ایسا درخت بننا چاہتے ہیں جس کے سائے تلے کوئی اور پودا نشوونما نہ پاسکے۔ ان کی دیرینہ آرزوہے کہ اس ملک میں صدارتی نظام رائج ہو ،ایک ہی شخص کے نام پر ووٹ ڈالے جائیں اور وہ اپنی مرضی سے تمام فیصلے کرسکے۔پارلیمانی نظام میں مگر ’’ون مین شو‘‘نہیں چل سکتا۔